غریب خاندانوں کو خوردنی اشیاء میں زیادہ ریلیف کی فراہمی اولین ترجیح: محمود خان 

غریب خاندانوں کو خوردنی اشیاء میں زیادہ ریلیف کی فراہمی اولین ترجیح: محمود ...

  

      پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا حکومت مہنگائی کی موجودہ صورتحال میں صوبے کے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے اور عام آدمی پر مہنگائی کے اثرات کو کم سے کم کرنے کیلئے متعدد اقدامات اُٹھار ہی ہے۔ گندم اور آٹے پر سبسڈی اُن ریلیف اقدامات کی اہم کڑی ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں گندم پر سبسڈی کیلئے 15 ارب روپے رکھے ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران گندم پر سبسڈی کی مد میں تقریباً10 ارب روپے خرچ کئے گئے۔یہ بات گزشتہ روز وزیراعلیٰ ٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقدہ محکمہ خوراک کے ایک اجلاس میں بتائی گئی۔ اجلاس میں محکمہ خوراک کی مجموعی کارکردگی کے علاوہ محکمے کے جملہ اُمور میں مزید شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ڈیجٹیلائزیشن کے عمل سمیت دیگر اصلاحاتی اقدامات، صوبے کی گندم کی ضروریات کو پور ا کرنے کیلئے لائحہ عمل اور گندم پر عوام کو دی جانے والی سبسڈی سے جڑے اُمور کو مزید بہتر بنانے سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا گیا۔صوبائی وزیر خوراک عاطف خان، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیر سٹر محمد علی سیف، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری خوراک مشتاق احمد، سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی مطیع اللہ خان اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو صوبے میں گندم کی ضروریات سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے کی گندم کی سالانہ ضروریات 4.5 ملین میٹرک ٹن ہے جس میں سے 25 فیصد صوبے کی اپنی پیداوار ہے جبکہ باقی 75 فیصد حکومت پنجاب اور پاسکو سے خریدی جاتی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ عوام کو رعایتی قیمت پر فراہم کی جانے والی گندم اور آٹے سے متعلق معاملات کو بہتر بنانے کیلئے گندم کی خریداری، ترسیل، اسٹاک، فلور ملوں کو فراہمی سمیت جملہ اُمور کو ڈیجیٹلائز کیا جارہا ہے تاکہ اس کا سو فیصد فائدہ عوام کو پہنچ سکے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی اُن کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے جس کیلئے صوبائی حکومت متعدد اقدامات اُٹھارہی ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت اگلے بجٹ میں بنیادی اشیائے خوردونوش پر غریب خاندانوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی کیلئے سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ 

مزید :

صفحہ اول -