بلوچستان عوامی پارٹی کاوفاقی کابینہ میں مزید وزارتیں نہ ملنے پر سینیٹ سے واک آؤٹ

بلوچستان عوامی پارٹی کاوفاقی کابینہ میں مزید وزارتیں نہ ملنے پر سینیٹ سے واک ...

  

     اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ میں حکومتی اتحادی بلوچستان عوامی پارٹی کاوفاقی کابینہ میں مزید وزرتیں نہ دینے پر سینیٹ سے احتجاجا واک آوٹ کرتے ہوئے کہاکہ  ہماری ایک خاتون وزیر ہے ان کواچھی وزارت اورہمیں مزیدکابینہ میں نمائندگی دیں  اگر کابینہ میں نمائندگی ملتی تو حکومت  کے ساتھ ہیں  ورنہ نہیں۔وزر ا ء باپ کے سینیٹر کومناکر لائی،سینیٹ میں بھارت میں باحجاب  طلبہ کوحراساں کرنے کی مذمت اور طلبہ کوخراج تحسین  پیش  کیا،ان واقعات نے دوقومی نظریہ کو دوبارہ سچ ثابت کردیا،پیر14فروری کوسینیٹ میں باحجاب طلبہ کوحراساں کرنے کے واقع پر بحث کرانے اور مذمتی قرارداد پاس کرنے کافیصلہ کرلیا۔اپوزیشن نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کویہ بیان نہیں دیناچاہیے کہ امریکہ ہمیں استعمال کرکے چھوڑدیتاہے،قائدایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی واضح ہے ہم کس کیمپ کاحصہ نہیں ہیں،پاکستان تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔سینیٹ کااجلاس پیر تک ملتوی کردیاگیا۔جمعہ کوسینیٹ کااجلاس  چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس شروع ہواتوقائدِ ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پچھلے چند دنوں میں بھارت میں ایک واقع ہوا وہ اپنی سنگینی کے حوالے سے کئی سوالات اٹھاتا ہے بھارت میں انتہا پسندی کو اجاگر کرتا ہے۔بھارت میں ایک باحجاب مسلمان طلبہ کے ساتھ جو کیا گیا اس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ایک مسلمان طلبہ کوانتہا پسند  حراساں کرتے ہیں اس بچی نے دبنے کے بجائے حوصلہ کے ساتھ نعرہ تکبیر کی صدا سنائی یہ مزاحمت  کا نیا استعارہ بن گئی ہے۔۔بلوچ عوامی پارٹی کے سینیٹرپرنس عمر نے کہاکہ  باپ پارٹی کی ایک وزیر کابینہ میں ہے مگروہ نہ ہونے کے برابر ہے ان کوکوئی اچھی وزارت دے دیں اس کے بعد بلوچستان کی محرومی ختم ہوگی بلوچستان کو وزارت خزانہ کے گرے لسٹ سے نکالیں تاکہ ہم وائٹ لسٹ میں تو آجائیں ساڑے  تین سال میں ہمیں وفاقی کابینہ میں کوئی نمائندگی نہیں دی ہے۔بلوچستان میں ہم جاتے ہیں تولوگ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ آپ کی کیانمائندگی ہے یہاں پر بلوچستان عوامی پارٹی کی کوئی نمائندگی نہیں ہورہی ہے چیئرمین صاحب آپ  نے ہمیں تسلی دی ہیں۔اب صرف تسلی سے کام نہیں چلے گااگر ایکشن ہوگا تو ٹھیک ہے ابھی 70بورڈ ہیں مگران میں ہماری کوئی نمائندگی نہیں ہے بلوچستان کا 70سال میں نیشنل بینک کا صدر نہیں آیا ہے کچی کینال کا کام ابھی تک مکمل نہیں ہواہے بلوچستان کے غلط اعداوشماردیئے جاتے ہیں اگر کابینہ میں نمائندگی ملتی ہی ہے  تو حکومت  کے ساتھ ہیں  ورنہ ہمیں سیشن کے اجلاس میں شرکت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہم اس پر ایوان سے واک آوٹ کرتے ہیں۔جس کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کے تمام سینیٹرز ایوان سے واک آوٹ کرگئے۔قائدایوان ڈاکٹرشہزاد وسیم اورسینیٹر شبلی فراز منانے چلے گئے  جبکہ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان کو چیئرمین  سینیٹ نے منانے کے لیے  بھیج دیا۔۔اسی دوران بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹرکو حکومتی وزیرمنانے میں کامیاب ہوگئے اور وہ واپس ایوان میں آگئے۔ڈاکٹرشہزاد وسیم نے کہاکہ بلوچستان کے مسائل حل کئے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑسکتا ہے۔ بلوچستان کی نمائندگی بڑھائی جائے۔دل جہاں ہو وہ وہاں رہیں گے ان کا(بلوچستان عوامی پارٹی) دل ہمارے ساتھ ہے۔سینیٹر محسن عزیز نے باپ پارٹی کے سینیٹرز کے واپسی پر طنز کیاکہ کیاوزارت مل گئی ہے جس پربلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹرمنظور کاکڑ نے کہاکہ ہم وزارت کے لیے نہیں بلوچستان کے حقوق کی بات کرتے ہیں کابینہ میں بلوچستان کی نمائندگی دی جائے۔۔سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے کہاکہ بلوچستان کا مسئلہ سیکورٹی کا مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی سیاسی مسئلہ ہے۔یہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کا مسئلہ ہے لاپتہ افراد کا مسئلہ ہے۔اس لیے بلوچستان پر بحث کی ضرورت ہے۔وزیر خزانہ نے غیر قانونی اقدام کیا جب سیندک پروجیکٹ کی لیز ری نیو کی کیوں کہ یہ طے ہوا تھا کہ لیز ختم ہونے کے بعد یہ بلوچستان حکومت کو دے دیا جائے گا۔حکومت کی خارجہ پالیسی میں تضاد ہیں خارجہ  پالیسی سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں یہ ریاست طے کرتی ہے ریاست کا جھکا ؤامریکہ کی طرف رہاہے۔سیٹو اور سینٹو معائدے کئے ہوائی اڈے امریکہ کو دیئے۔امریکہ کے کہنے پر منتخب وزیراعظم کو شہید کیا گیا، شمسی ایئربیس امریکہ کو دی گئی، ہم نے دیکھاتوشمسی ایئربیس دینے کا ریکارڈ کئی نہیں تھا۔پاکستان کا مفاد ایشیائی کے ساتھ ہے چین اور روس کے ساتھ ہے مگر بات امریکہ کے ساتھ کی جارہی ہے سی پیک کے منصوبوں کو سست کیا گیا۔آئی ایم ایف بجٹ ہر ڈکٹیشن دے رہاہے۔فیٹف اس وقت تک وائٹ لسٹ میں نہیں ڈالے گا جب امریکہ سامراج خوش نہیں ہوگا۔۔جمعیت علماء اسلام (ف)کے سینیٹرمولانا عطا ء الرحمن نے کہاکہ حیران ہوں کہ علی محمد خان کس منہ سے اپنے لیڈر کی تعریف کرتے ہیں جے یو آئی کی لیڈر شپ پر الزامات لگائے ہیں۔اگر ان کے الزمات میں صداقت ہے تو عدالت میں کیوں نہیں جاتے ابھی تک یہ کنٹینر سے کیوں نہیں اترتے ہیں۔۔چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ بھارت میں کرناٹک میں مسلم طلبہ کے ساتھ جو واقعہ ہوااس پر پیر کواجلاس شروع ہونے سے پہلے دو گھنٹے بات ہوگی اور قرارداد بھی پاس کی جائے گی۔سینیٹ میں تین بلوں پر کمیٹی کی رپورٹیں اورقومی اسمبلی سے منظور ہونے والے چار بل پیش جو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کوبھیج دیئے گئے، جبکہ دو توجہ دلاؤ نوٹسز کوموخر کردیاگیا۔جمعہ کوسینیٹ کااجلاس  چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔سینیٹر محسن عزیز نے فوجداری قوانین  ترمیمی نل  2021،رجسٹریشن ترمیمی بل2021اوربچوں سے جبری مشقت ترمیمی بل 2022پر کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔سینیٹر اعظم سواتی نے قومی اسمبلی سے منطور ہونے والے  بل پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی  ترمیمی بل 2022ایوان میں  پیش کیاجس کوچیئرمین نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کوبھیج دیا،وزیرخزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی سے منظورہونے والے دوبل جن میں حکومتی قومی بچت بنک ترمیمی بل 2022 اور پوسٹ آفس نیشنل سیونگ سرٹیفیکٹس ترمیمی بل 2022 ایوان میں پیش کیاجن کومتعلقہ قائمہ کمیٹی کوبھیج دیاگیا،وزیر پارلیمانی امور علی محمدخان نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا بل نیشنل میشن  ٹیکنالوجی  بورڈ بل 2022 ایوان میں پیش کیاجس کو بھی متعلقہ قائمہ کمیٹی بھیج دیاگیا۔

بی اے پی احتجاج

اسلام آباد(آئی این پی)ایوان بالا کووز ر اء نے آگاہ کیاکہ سعودی عرب سے موخرادائیگیوں پر تیل کی سہولت ابھی تک استعمال نہیں کی گئی ہے، سعودی عرب سے ایک سال کے لیے 3ارب ڈالر قرض 4فیصد شرح سود پر لیا گیا،پچھلی حکومت کی طرف سے توجہ نہ دینے پرفیٹف کے گرے لسٹ میں گئے،ہمارے گرے لسٹ سے نہ نکلنے  کے پیچھے ہمارے دشمن ہیں، پاکستان میں پینے کا  61فیصد پانی غیر محفوظ  ہے18ویں ترمیم کے بعد صاف  پانی مہیاکرناصوبوں کاکام ہے۔بلوچستان میں ترقیاتی منصوبہ جاری ہیں وزیراعلیٰ بلوچستان ان کی نگزانی کررہے ہیں،چیئرمین سینیٹ نے بلوچستان کے ترقیاتی منصوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔جمعہ کوسینیٹ کااجلاس  چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ایوان میں چیئرمین سینیٹ کی دادی کے لیے مولوی فیض محمد نے دعامغفرت کرائی۔وقفہ سوالات میں جواب دیتے ہوئے وزیرخزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ سعودی عرب سے ایک سال کے لیے 3ارب ڈالر قرض 4فیصد شرح سود پر لیا گیا ہے یہ شرح سود زیادہ نہیں دنیا میں شرح سود میں اضافہ ہورہاہے۔اس قرض کوخرچ کرسکتے ہیں ایک سال میں اسٹیٹ بنک کے اثاثے بڑے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سعودیہ کے ساتھ قرض کے دوران معائدے کی شرط ہے کہ اگرپاکستان ڈیفالٹ کرئے گا تو وہ قرض 72گھنٹوں میں واپس لیں گے مگر ہم ڈیفالٹ نہیں کریں گے۔درآمدی بل وہ ہے جو سامان ہم درآمد کررہے ہیں  تیل کی قیمت بڑی ہیں تیل کی قیمت92ڈالر فی بیرل پر ہے کوئلہ کی قیمت خوردنی تیل کی قیمت بڑی ہے۔تیل کی موخر ادائیگیوں کی سہولت سعودی عرب کی ہم نے ابھی تک استعمال نہیں کی ہے۔بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت زیادہ بڑی ہم نے پاکستان میں کم اضافہ کیا ہے ہم نے 35سے 40فیصد تیل کی قیمت بڑھائی اور عالمی مارکیٹ میں سو فیصد بڑی ہے۔عوام پر کم بوجھ ڈالا ہے۔کچھ پلانٹ درآمدی کوئلہ سے چلتے ہیں اس لیے کوئلہ منگوانا پڑتا ہے کوئلہ بھی مہنگا ہواہے۔درآمدی بل کم کرنے کی ہم نے کوشش کی ویکسین  گندم چینی درآمد کی جس سے درآمدی بل بڑا۔ایف بی آرکے سیل ٹیکس کو جمع کرنے میں 40سے 50فیصد اضافہ ہواہے سندھ بھی ہم سے یہ جمع کروائے تاکہ اس میں بھی اتنا اضافہ ہو۔فیٹف کی گرے لسٹ میں جب ہماری حکومت آئی تھی اس سے پہلے سے ہیں۔پچھلی حکومت میں وائٹ لسٹ  میں تھے مگر توجہ نہیں دی تو گرے میں آگئے 28میں سے 27شرائط پوری کرلی ہیں مگر اس کے باوجود ہم پردبا ڈالا جارہاہے اگلے بار ہم اپنے آپ کو گرے لسٹ سے نکالا لیں گے۔ سابقہ حکومت نے کچھ ایسا کیا جس کی وجہ سے گرے میں گئے۔ہمیں ابھی چار سال نہیں ہوئے ساڑے تین سال ہوئے ہیں ایک ہدف رہے گیا ہے ہمارے دشمن اس کے پیچھے ہیں۔ فیٹف کا ایک عمل ہوتا ہے سویچ نہیں ہے کہ ان آف کردیا جائے۔وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمدخان نے کہاکہ میں 12واں کھیلاڑی ہوں بلوچستان پر ایپکس کمیٹی کی سربراہی وزیراعلی بلوچستان کرتے ہیں۔آخری مرتبہ اس کاجائزہ وزیراعظم نے جنوری 2022میں لیاتھا۔سیکرٹری کامرس کامرس کے ایونٹ کے لیے بیرون ملک دورے پر جائے گانوازشریف نجی دوروں پر لندن جاتے تو جہاز لے کرجاتے زرداری بھی ایسا کرتے تھے جبکہ عمران خان ایک دفعہ بھی لندن نجی دورے پر نہیں گئے ہیں۔وزیرسائنس اینڈٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ پاکستان میں پینے کا  61فیصد پانی غیر محفوظ  ہے یہ ڈیٹا29شہروں کے پانی کے  ٹیسٹ سے لیاگیاہے ۔پانی بہت اہم ہے پنجاب نے اب پاک اتھارٹی کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ پینے کا صاف پانی فراہم کرنا صوبوں کی ذمہ داری ہے اسلام آباد کے دیہی اور شہری دونوں علاقوں سے سمپل لیئے ہیں۔

سینیٹ اجلاس

مزید :

صفحہ اول -