محکمہ صحت میں اصلاحات ناگزیر، عوام کی بہتری کیلئے اقدامات کرنا ضروری: تیمور جھگڑا

محکمہ صحت میں اصلاحات ناگزیر، عوام کی بہتری کیلئے اقدامات کرنا ضروری: تیمور ...

  

     پشاور(سٹی رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر برائے صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال پاکستان کے تاریخی ہسپتالوں میں واحد ہسپتال ہے جن کو آئی ایس او سرٹیفیکیشن ملی ہے۔ اب تک پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں صرف دو ہسپتال آئی ایس او سرٹیفائیڈ ہیں، دونوں ہسپتال خیبر پختونخوا میں ہیں۔ اس سے قبل پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اس اعزاز کیلئے نامزد ہوا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبر تدریسی ہسپتال میں آئی ایس او سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کئا۔ تقریب میں سیکرٹری ہیلتھ طاہر اورکزئی، سپیشل سیکرٹری فاروق جمیل، ڈین خیبر میڈیکل کالج ڈاکٹر محمود اورنگزیب، چئیرمین بورڈ آف گورنرز پروفیسر ڈاکٹر ندیم خاور ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر ظفر آفریدی و دیگر نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے بتایا کہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کا یہ اعزاز صوبے بھر کیلئے باعث فخر ہے اور اس طرح کے اسناد کے حصول سے ہسپتالوں کے درمیان صحت مند مقابلہ پروان چڑھے گا جس کا مقصد عوام کو بہترین صحت سہولیات مہیا کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سرٹیفیکیشن ایک آغاز ہے اس معیار کو مسلسل برقرار رکھنا ایک چیلنج ہے جو کہ ہسپتال انتظامیہ کا مریضوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے عزم کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان ہسپتالوں کیلئے اگلا ہدف جی سی آئی سرٹیفیکیشن ہے -محکمہ صحت کی استعداد کار میں نمایاں اضافے بارے وزیر صحت کا کہنا تھا کہ صوبے کے محدود وسائل میں خیبر پختونخوا کے ہسپتال کورونا کے پانچوں لہروں سے بطور احسن نبرد آزما ہوئیں۔ ایل آر ایچ، کے ٹی ایچ اور ایچ ایم سی نے کورونا مریضوں کا سب سے زیادہ بوجھ اُٹھایا ہے۔ صحت کا عملہ کورونا کیخلاف بہترین اقدامات اُٹھانے پر تعریف کے مستحق ہے۔ تیمور جھگڑا نے بتایا کہ ہسپتال میں لوگ تکلیف کی صورت میں آتے ہیں، انہیں فوری آفاقے کی ضرورت ہوتی ہے، جہاں بہترین خدمات مہیا ہونگیں وہاں لوگوں کا رش بڑھے گا۔ محکمہ صحت میں اصلاحات ناگزیر ہیں، عوام کی بہتری کی خاطر سخت  اقدامات اُٹھانے ہوتے ہیں۔ ہسپتالوں کی خودمختاری اور مزید بہتری بارے تیمور جھگڑا کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں سیاسی مداخلت کے خاتمے کیلئے انہیں خودمختار بنایا۔ جو کام کرے گا وہ محکمہ صحت میں جگہ پائے گا۔چیئرمین بورڈ آف گورننس KTH/KMC/KCD، پروفیسر ڈاکٹر ندیم خاور نے مریضوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2 ارب کے منصوبے پائپ لائن میں ہیں جس میں 20 جدید طرز کے آپریشن تھیٹر، 6 وارڈز، MRI نئی مشین، IB بیس سرویلنس سسٹم، مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم، گراؤنڈ فلور کی اصلاح وغیرہ شامل ہیں۔ ڈین خیبر میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمود اورنگزیب نے آئی ایس او کی کامیابی کے لیے ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ کو بین الاقوامی سطح تک پہنچانے کے لئے کاوشوں کا ذکر کیا۔ کوالٹی ایشورنس کنسلٹنٹ ڈاکٹر حسیب اللہ نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شروع میں یہ مشکل لگتا ہے جب مجھے کام سونپا گیا لیکن انتظامیہ کی مدد سے یہ ممکن ہوا۔ ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ظفر آفریدی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم نے کم وقت میں یہ ہدف حاصل کر لیا اور انہوں نے ہسپتال کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے وزیر صحت سے کچھ مالی امداد کی درخواست کی۔ آخر میں ڈاکٹر سعود اسلام نے بھی اتنی بڑی کامیابی پر KTH - انتظامیہ، بورڈ آف گورنرز کی پالیسیوں اور عملے کی لگن کا شکریہ ادا کیا۔  انہوں نے مزید کہا کہ ہر کامیابی کے پیچھے ایک طاقتور وژن ہوتا ہے جسے بورڈ آف گورنرز، ڈین کے ایم سی اور وزیر صحت نے سپورٹ کیا۔

مزید :

صفحہ اول -