یونیورسٹیز کلاس فور ملازمین بچوں کی بھرتی یقینی بنانے کی ہدایت

یونیورسٹیز کلاس فور ملازمین بچوں کی بھرتی یقینی بنانے کی ہدایت

  

     پشاور(سٹی رپورٹر)  ہائرایجوکیشن کی سپیشل کمیٹی برائے یونیورسٹیوں میں فوت شدہ کلاس فور ملازمین کے کوٹہ کے مطابق بھرتی پر عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین و ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی محمود جان نے صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس ضمن میں ایک ماہ کے اندر پالیسی مرتب کر کے فوت شدہ کلاس فور ملازمین کے بچوں کو 100فیصد کوٹہ کے مطابق بھرتی کو یقینی بنائیں تاکہ فوت شدہ کلاس فور ملازمین کے بچوں کو ان کا حق دیا جاسکے۔ چیئرمین و ممبران کمیٹی نے اس امر پر افسوس اور تشویش کا اظہار کیا کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی سمیت صوبے کی دیگر متعدد یونیورسٹیوں نے ابھی تک فوت شدہ ملازمین کے بچوں کو کوٹہ کے مطابق بھرتی پر عملدرآمد کیلئے کوئی رولز نہیں بنائیں جس کی وجہ سے کلاس فور ملازمین کے بچوں کو نہایت تکلیف اور مشکلات کا سامنا ہے کمیٹی کا اجلاس چیئرمین و ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی محمود جان کی زیر صدارت طاہرہ قاضی کانفرنس روم میں منعقد ہوا اجلاس میں اراکین اسمبلی نگہت اورکزئی، وقار احمد خان، فخر جہان، ثوبیہ شاہد اور محمد ادریس کے علاوہ سیکرٹری ہائرایجوکیشن داؤد خان، ڈپٹی سیکرٹری اسمبلی وکیل خان، اسسٹنٹ سیکرٹری اسمبلی عبدالوہاب خٹک اور صوبے کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز ونمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبے کی یونیورسٹیوں میں فوت شدہ ملازمین کے کوٹہ کے مطابق بھرتی پر عملدرآمد  کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور سیر حاصل بحث کی گئی اجلاس میں کمیٹی کے اراکین نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ وفاقی و صوبائی حکومت نے مذکورہ کوٹہ کو 100فیصد کیا ہے لیکن متعدد یونیورسٹیز میں ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی گئی جوکہ سراسر فوت شدہ کلاس فور ملازمین کے بچوں کے ساتھ نا انصافی کے مترادف ہے۔ کمیٹی نے مذکورہ مسئلے پر متعلقہ حکام کی جانب سے غیر سنجیدگی کا نوٹس لیا کہ صوبے کی 32یونیورسٹیوں میں سے صرف 8یونیورسٹیز نے اس ضمن میں عملدرآمد کو یقینی بنایا جبکہ 24یونیورسٹیز نے خود مختار ادارے ہونے کے باوجود ابھی تک سینڈیکیٹ سے بھرتی رولز کی منظوری نہیں لی جوکہ یونیورسٹیوں کی اس جانب کمزوری کو ظاہر کرتا ہے لہٰذا کمیٹی نے متفقہ طور پر ایک ماہ کے اندر مستقل بنیادوں پر فوت شدہ کلاس فور ملازمین کے بچوں کی بھرتی کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں اور وائس چانسلرز کو یہ بھی ہدایت کی کہ فوری طور پر سنڈیکیٹ کی میٹنگ بلا کر قانونی دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے مسئلے کا حل فوری ممکن بنائیں۔اجلاس میں سیکرٹری ہائر ایجوکیشن نے واضح کیا کہ حکومتی نوٹیفکیشن کے تحت مرتب شدہ پالیسی کو اپنانے کا اختیار یونیورسٹیز کو حاصل ہے اور جب تک ان کے رولز نہیں بنے ہیں یہ گورنمنٹ کی پالیسی کو اپنا سکتے ہیں۔اجلاس میں کمیٹی نے متفقہ طور پر تجویز دی کہ مذکورہ مسئلے اور دیگر ایک جیسے مسائل پر تمام یونیورسٹیز کی اگر ایک جیسی پالیسی مرتب کی جائے تو نہ صرف بہتر ہوگابلکہ عوام کو پریشانی اور مشکلات سے بچایا جاسکے گا۔ اس موقع پر سیکرٹری ہائر ایجوکیشن نے واضح کیا کہ اس تجویز پر کام جاری ہے لیکن یہ بہت بڑا ایشو ہے جس کیلئے کافی وقت درکار ہے۔ اجلاس میں بعض یونیورسٹیوں میں طلباء کی تعداد کم ہونے کا بھی نوٹس لیا گیا اور طلباء کی تعداد بڑھانے کی تجویز دی گئی۔ اجلاس میں ان تمام یونیورسٹیوں کی کارکردگی کو قابل تعریف قرار دیا گیا جن میں فوت شدہ کلاس فور ملازمین کے بچوں کو کوٹہ کے مطابق بھرتی کیا گیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -