امریکی ریاست میں اسقاط حمل پر پابندی، لیکن اس کا اثر کیا ہوا؟

امریکی ریاست میں اسقاط حمل پر پابندی، لیکن اس کا اثر کیا ہوا؟
امریکی ریاست میں اسقاط حمل پر پابندی، لیکن اس کا اثر کیا ہوا؟
سورس: Wikimedia Commons

  

آسٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ریاست ٹیکسس میں اسقاط حمل پر پابندی کے بعد اس کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہو گئی۔ میل آن لائن کے مطابق ٹیکسس کی حکومت کی طرف سے عائد کی گئی پابندی کے تحت جب ماں کے پیٹ میں بچے کے دل کی دھڑکن محسوس ہونے لگے، اس کے بعد اس بچے کو ضائع کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔جب حمل لگ بھگ 6ہفتے کا ہو جائے تو بچے کے دل کی دھڑکن چلنی شروع ہو جاتی ہے، لہٰذا اس کے بعد ٹیکسس کی رہائشی خواتین اسقاط حمل نہیں کروا سکتیں۔

رپورٹ کے مطابق اس پابندی کے بعد ٹیکسس سے خواتین اسقاط حمل کے لیے دیگر ریاستوں میں جانے لگی ہیں اور ٹیکسس میں اسقاط حمل کی شرح دوگنا سے زائد کم ہو گئی ہے۔ منظرعام پر آنے والے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ سال اگست میں 5ہزار 400سے زائد اسقاط حمل کرائے گئے تھے، جو ستمبر میں پابندی لگنے سے صرف 2ہزار 200رہ گئے۔ گزشتہ سال ستمبر میں پابندی لگنے سے قبل ریاست میں ماہانہ اوسطاً4ہزار 250اسقاط حمل ہوتے تھے۔ ریاست میں اس پابندی کے بعد دیگر ریاستوں میں ٹیکسس کی اسقاط حمل کرانے والی خواتین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اوکلاہوما کے ایک کلینک نے بتایا ہے کہ اس کے ہاں ٹیکسس سے اسقاط حمل کے لیے آنے والی خواتین کی تعداد میں 11فیصد اضافہ ہوا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -