ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بل2012ءکی روشنی میں طب اور ہومیو پیتھی کا مستقبل!

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بل2012ءکی روشنی میں طب اور ہومیو پیتھی کا مستقبل!
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بل2012ءکی روشنی میں طب اور ہومیو پیتھی کا مستقبل!

  

کسی بھی مہذب ملک میں انسانی صحت کے لئے تیار کی جانے والی ادویہ کا معیاری اور خالص ہونا بنیادی ضرورت ہے۔ جس ملک میں دولت کی ہوس اس حد تک ہو کہ دولت کی خاطر انسانی صحت سے کھیل کر جعلی ادویہ کی فروخت رواج پا جائے، وہاں دوا سازی کے لئے قانون اور اس پر سختی سے عملدرآمد اور بھی ضروری ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ملک بھر میں سینکڑوں نام نہاد ادارے ہیں جو دوا سازی کے ذریعے چاندی بنا رہے ہیں اور ستم یہ ہے کہ اکثر ادویات پر ہربل، یونانی، دیسی اور ہومیو ادویہ کے نام لکھ کر اس دوا فروشی کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔ اخبارات کے ہفت روزہ میگزینوں میں ایسی ادویہ کے اشتہارات وزارت صحت کے لئے چیلنج ہیں۔ ٹی وی، اخبارات اور پشاور سے کراچی تک دیواروں پر مختلف ادویات کے کرشماتی اثرات کی وال چاکنگ اور آویزاں بورڈ قطعی نامناسب ہیں۔ چند روز پہلے کھانسی کے ایک شربت سے ہلاکتوں نے اس ضرورت کو دوچند کر دیا ہے۔ وزارت صحت نے 2004ءمیں دوا سازی کو معیاری بنانے، خالص ادویہ مہیا کرنے ، جبکہ غیر معیاری ادویہ تیار کرنے اور فروخت کرنے کے کاروبار کو ختم کرنے کے لئے ایک ایکٹ لانے کی بھرپور کوشش کی، جو درحقیقت1976ءکے ڈرگ ایکٹ کی جگہ نافذ کرنا مقصود تھا۔

چونکہ ادویہ سازی میں ایلوپیتھ اور ڈرگ کے لئے فارما کوپیا اور بین الاقوامی سطح پر ایک معیار موجود ہے، لہٰذا ڈرگ کی تعریف میں آنے والی ادویہ کے لئے یہ ایکٹ قابل عمل تھا، لیکن یونانی اور ہومیو ادویہ کا باقاعدہ منظور شدہ کوئی فارما کوپیا موجود نہیں، لہٰذاUAH ادویہ کی تیاری اور قوانین سازی کے لئے علیحدہ ایکٹ یا ان کی کونسلوں سے رائے لے کر ایکٹ کے نفاذ کو مربوط کرنے کے لئے ان اداروں کو وقتی طور پر مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ اطباءکا مو¿قف تھا کہ معیاری ادویات کی عدم فراہمی فارما کوپیا کی عدم موجودگی اور دیسی ادویہ کے معیار کو پرکھنے کے لئے کسی سائنسی طریقہ کار کے بغیر ڈرگ ایکٹ کا نفاذ اطباءپر ظلم ہے۔ مجوزہ ایکٹ میں انسانی صحت کو برقرار رکھنے اور صحت عامہ کو تحفظ دینے کے لئے ادویہ کے علاوہ شیمپو، صابن، خشک دودھ، بچوں کی چاکلیٹ اور سرجیکل آلات کے معیار کے لئے قوانین بنائے گئے ہیں، جن پر عملدرآمد ایک انقلاب برپا کر سکتا ہے جو ایک مستحسن قدم ہے، تاہم اس ریگولیٹری ایکٹ کے بارے میں اطبا ہومیوپیتھ کے اپنے تحفظات ہیںجن کا ازالہ ضروری ہے۔

دیسی اور ہربل(HERBAL) ادویات کے معیار کے لئے خام اور معیاری ادویہ (جڑی بوٹیوں) کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی ادویہ کا معیار اور اثرات سرکاری سطح پر چیک کرنے کی ضرورت ہے۔مستند اور معیاری فارماکوپیا کے بغیر ادویہ کو چیک نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہٹیسٹ لیبارٹریز ہومیو اور یونانی ادویہ کو فارماسسٹ کے موجودہ معیار پر پرکھنے یا EXAMINE کرنے کا کوئی طریقہ مدون نہیں ہوسکا۔ دیسی ادویہ، جڑی بوٹیوں اور ہومیو ادویہ کسی بھی تعریف کی رُو سے ڈرگ کی ذیل میں شمار نہیں کی جاسکتیں۔ اس ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بل کے تحت اطباءکو اپنے ہی دوا ساز اداروں میں تیار کردہ ادویہ کے استعمال پر جرمانہ (5 لاکھ) سزا (5 سال قید بامشقت) اور ڈرگ انسپکٹر کے آئے روز کے چھاپوں سے ہراساں کر کے اس فن کو ختم کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

جب بھی کوئی قانون یا ضابطہ تیار کرنا ہو تو اس شعبے کے ماہرین کی رائے اور رہنمائی ضروری ہوتی ہے۔ قانون تو اطباءاور ہومیوپیتھ ڈاکٹروں کے بارے میںبنایا جائے ،لیکن قانون بناتے وقت کسی طبیب یا ہومیوپیتھ کو قانون سازی میں شامل ہی نہ کیا جائے؟....یہ کیسی منطق ہے؟ اطباءیا ہومیو پیتھ ڈاکٹروں کے مسائل کو اُن کے علاوہ کون بیان کر سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں چند دوا ساز اداروں کی اجارہ داری قائم ہوگی اور اطباءحضرات جرمانوں اور سزا کے خوف سے اس اہم پیشے کو ترک کر کے کسی اور روز گار کے لئے سرگرداں ہوں گے، کیونکہ جو سزا تجویز کی گئی، وہ تو عادی مجرموں کو بھی نہیں دی جاتی، کجا یہ کہ طب کے فن شریف کے حامل شرفاءکو یہ سزا دی جائے۔ خطرہ ہے کہ اس بے ضرر، مفید، صدیوں سے آزمودہ اور سستے علاج کو جو متبادل اور قبول عام علاج ہے، اس کا خاتمہ ہو جائے گا، جو قومی المیہ ہے۔

آج یورپ، امریکہ، کینیڈا، چین، بھارت، ملائیشیا، کوریا، سری لنکا، برطانیہ میں ہربل ادویہ کا استعمال رواج پا رہا ہے۔ کیمیاوی دواو¿ں کے مضر صحت منفی اثرات پر ڈبلیو ایچ او بھی نوحہ کناں ہے۔ مختلف امراض کے لئے دیسی اور لوکل جڑی بوٹیوں پر مشتمل مفرد ادویہ کے پیکٹ علاج کے لئے فروغ پا رہے ہیں، اگر اس ایکٹ پر عمل کیا گیا تو خطرہ ہے کہ وہ یورپ جو ”طب مغرب کے مزے میٹھے اثر خواب آوری“ سے نکل رہا ہے۔ ہمارے ممالک سے خام ادویہ خرید کر، خوبصورت ڈبوں اور لیبل کے ساتھ کثیر زرمبادلہ کما کر ہمارے ملکوں کو ادویہ کے پیکٹ ارسال کرے گا۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں ڈرگ کی جگہ ہر بل میڈیسن کا کاروبار کر کے ہمیں لوٹیں گی۔ادویہ کا معیار خالص ہونا بلاشبہ ہر دور کی ضرورت ہے، مگر اس کی آڑ میں ایک غیر جمہوری ایکٹ زہر قاتل ثابت ہوگا۔ حکومت حسب سابقUAH کو مستثنیٰ قرار دے کر ایکٹ نافذ کرے اور آئندہ اسمبلی کی آمد تک اس ایکٹ کو مو¿خر کر دے۔ جب صحت کے محکمے صوبوں کو تفویض کر دئیے گئے ہیں تو اس ایکٹ کے نفاذ کو کون جمہوری کہے گا؟

اس ایکٹ کے تحت اگر کوئی طبیب، ہومیوپیتھ ڈاکٹر یا دوا ساز ادارہ کوئی دوا بناتا ہے اور اسے فروخت کرنا چاہتا ہے تو پہلے دوا کو متعلقہ ادارے کے تحت لیبارٹری میں ٹیسٹ کے لئے بھیجے گا، جس کی فیس20 ہزار تک فی دوا (جو مرکب تیار کیا گیا ہے) ہوگی۔ جب وہ ادارہ اس کے معیار اور ادویہ کے خالص ہونے کی تصدیق کر دے گا تو وہ دوا مریضوں کو دی جاسکے گی، مگر اس طریقہءکار میں یہ وضاحت موجود نہیں کہ دیسی ادویہ کے اجزاءکو پرکھنے، ان کے معیاری ہونے، خالص ہونے اور درست ہونے کی تصدیق کس اصول کے تحت ہوگی؟

پورے ریگولیٹری ایکٹ کا مختصر جائزہ لینے کے بعد جو خامیاں قانونی اور عملی حوالے سے پائی گئی ہیں، ان نکات کی اس مضمون میں وضاحت کر دی گئی ہے۔ ملک بھر کے اطباءاور ڈاکٹرز (ہومیو پیتھی )سے گزارش ہے کہ وہ اس سلسلے میں ایکٹ کا مطالعہ کر کے اس کی خوبیوں اور خامیوں کو حکومت کے نوٹس میں لائیں۔

(نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں ایڈووکیٹ حکیم عرفان مرزا اور حکیم رضوان مرزا سرائے عالم گیر نے تعاون کیا)

مزید : کالم