ائر چیف مارشل انور شمیم بھی چلے گئے

ائر چیف مارشل انور شمیم بھی چلے گئے
ائر چیف مارشل انور شمیم بھی چلے گئے

  

پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ائر چیف مارشل (ریٹائرڈ)انور شمیم بھی چند روز قبل اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے.... اس امر میں تو ذرہ سا بھی شبہ نہیں کہ جو بھی ذی نفس اس دنیا میں آیا، اسے ہر صورت واپس لوٹ کر جانا ہی ہوتا ہے، کیونکہ اس قانون فطرت سے تو وہ مقدس ترین ہستیاں بھی مبرا نہیں، جن کے لئے اس کائنات کا وجود عمل میں آیا،لہٰذاعام لوگ کس گنتی میں ہیں۔چاہے وہ دنیاوی لحاظ سے کتنے ہی بڑے منصب اور مرتبے حاصل کرلیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جانے والے اپنے پیچھے خاصا خلا چھوڑجاتے ہیں، جسے پُر کرنے کے لئے بہت وقت درکار ہوتا ہے۔خصوصاً جانے والوں کے قریب ترین لواحقین کی کیفیت غالب کے اس شعر کے مصداق ہوتی ہے:

جاتے ہوئے کہتے ہو، قیامت کو ملیں گے

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

مرحوم انور شمیم یکم اکتوبر1931ءکو ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے۔1952ءسے 1985ءتک پاک فضائیہ کا حصہ رہے، جبکہ 1978ءتا1985ء پاکستان ائر فورس کے سربراہ رہے۔یوں ائر مارشل اصغر خان کے بعد انہیں سب سے زیادہ عرصے تک پاک فضائیہ کی قیادت کا اعزاز حاصل ہوا.... ائر چیف مارشل انور شمیم مرحوم کی پیشہ وارانہ زندگی پر سرسری سی بھی نگاہ ڈالیں تو یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ وہ اول تا آخر ایک جری سپاہی اور بے خوف سپہ سالار تھے، تبھی تو انہوں نے 1965ءاور 1971ءکی پاک بھارت لڑائیوں میں قابل رشک دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نہایت احسن انداز میں ادا کیں، اسی وجہ سے 1965ءکے پاک بھارت معرکے میں انہیں ”ستارئہ جرات“ سے نوازا گیا۔علاوہ ازیں انہوں نے بعد میں بھی مختلف مراحل اور ادوار میں قابل قدر خدمات انجام دیں۔

جب پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں کو قابل اعتماد ذرائع سے خبر ملی کہ اسرائیلی فضائیہ بھارتی افواج کے اشتراک سے پاکستانی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے اور خدانخواستہ انہیں تباہ کرنے کی حتمی منصوبہ بندی کرچکی ہے،تب مرحوم ائر چیف مارشل انور شمیم کی سربراہی میں پاک فضائیہ نے ”آپریشن اوپرا“ Operation Operaاور آپریشن سینٹائن Operation Sentineکے تحت جو سرگرم کردار ادا کیا، وہ افواج پاکستان کی تاریخ کا سنہرا باب ہے،جس کی مزید تفصیلات بوجوہ احاطہ تحریر میں نہیں لائی جا سکتیں....اس کے علاوہ بھی سابقہ سوویت یونین نے جب افغانستان پر جارحیت کی اور پورے ملک پر قبضہ جما لیا، تب پاکستانی عوام، حکومت اور افواج نے جس قومی جذبے، اتحاد اور جرات کا مظاہرہ کیا، اس کا صحیح تجزیہ تو آنے والا مورخ ہی بہتر انداز میں کر پائے گا،کیونکہ انتہائی ماضی قریب کا عمل ہونے کے سبب شائد ابھی اس ضمن میں مکمل طور پر بے لاگ اور حقیقت پسندانہ تجزیہ ممکن ہی نہیں اور غالباً مناسب بھی نہیں۔

بہرحال اس ضمن میں اس دور میں پاک فضائیہ کا کردار مزید اہمیت اختیار کر گیاتھا۔ ایسے میں فضائی افواج کے سپہ سالار کی حیثیت سے ائر چیف مارشل (ر) انور شمیم مرحوم نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔اسی وجہ سے مختلف اوقات میں انہیں ستارئہ جرات کے ساتھ ساتھ ستارہ امتیاز(ملٹری) ،ہلال امتیاز(ملٹری) اور نشان امتیاز(ملٹری) بھی دیا گیا۔وہ 23جولائی 1978ءسے 5مارچ 1985ءتک پاک ائر فورس کے قائد رہے ، بعد میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارتے رہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔آمین.... امید کی جانی چاہیے کہ اپنی تمام تر بشری خامیوں اور کوتاہیوں کے باوجود ایسے قومی ہیروز کی زندگی کی روشن مثالوں کو آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ رکھنے کی خاطر متعلقہ شخصیات اور ادارے اپنی قومی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کی ہر ممکن سعی کریں گے۔

مزید : کالم