کیا ہم حالت جنگ میں ہیں؟

کیا ہم حالت جنگ میں ہیں؟

جمعرات کا روز پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں کے لحاظ سے بدترین دن تھا۔ کوئٹہ اور سوات میں بم اور خود کش حملوں میں ایک سو سو لہ افرادجاں بحق اور اڑھائی سو سے زائد زخمی ہوگئے ،جبکہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں چودہ افراد کو قتل کر دیا گیا۔ اس سب کچھ کے ساتھ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے انتشار اور دوسرے ممکنہ خطرات بھی ملکی فضا پر منڈلا رہے ہیں ۔اس سلسلے میں نہ حکومت کوئی لچک دکھانے کو تیار ہے نہ ہی ایم کیو ایم کے لانگ مارچ سے علیحدگی اختیار کرنے کے اعلان کے باوجود فریقین میں افہام و تفہیم کے سلسلے میں کسی پیش رفت کا کوئی اشارہ مل رہا ہے۔

جنگ بندی لائن پر بھارتی فوج نے ایک بار پھرگولہ باری اور فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک حوالدار شہید ہو گیا۔ ابھی تک بھارتی دعووں کے مطابق پاکستان کی طرف سے ا س کے فوجیوں کو ہلاک کرکے ان کی نعشیں مسخ کرنے کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ۔ جبکہ بھارتی میڈیا کی طرف سے پاکستان کے خلاف الزامات عائد کرکے اشتعال پھیلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس میں جنگ بندی لائن پر بھارت کی طرف سے اشتعال انگیزیوں کو اتفاقی اور کسی مخصوص مقصد کے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا۔ ہماری وزیر خارجہ اندرون ملک ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں بیرونی ایجنسیوں کے ہاتھ کی نشاندہی کرتی رہی ہیں۔ انتخابات سے قبل اس وقت ہمارے ملک میں دہشت گردی میں شدت ، لانگ مارچ پروگرام سے پیدا ہونے والی ملکی فضا کی کشیدگی کے ساتھ کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس ساری صورتحال نے ہمارے لئے معاملات کو انتہائی گھمبیر اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک طرف یہ سوچ ہے کہ انتخابات سے قبل طاہرالقادری انتخابات کو ملتوی کرانے یا جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے لئے آئے ہیں ۔ لیکن بعض حکومتی حلیفوں سمیت اپوزیشن کی جماعتیں انتخابی اصلاحات اور الیکشن کمیشن کو زیادہ بااختیار بنانے کے مطالبات سے متفق ہیں اور جمہوریت کو کرپشن سے پاک کرنے اور حقیقی طور پر بامقصد بنانے کے لئے انتخابی اصلاحات کو ضروری خیال کیا جارہا ہے۔ اس خیال کے حامی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت یہ جائز مطالبات ماننے کے بجائے بلا سبب علامہ قادری پر انتخابات کو ملتوی کرنے کا ایجنڈا رکھنے کا الزام دے رہی ہے۔ اس موقع پر دہشت گردی کی وارداتوں میں اچانک شدت کا پیدا ہوجانا اور لائن آف کنٹرول پر بھارت کی اشتعال انگیزی ہمیں بیرونی جارحیت اور مہم جوئی کے خدشات سے بھی دوچار کررہی ہے۔

 اس وقت دونوں ملکوں میں تجارت بڑھانے کے لئے مذاکرات ہو رہے ہیں اور تعلقات کو نارمل بنانے کا عمل جاری ہے۔لیکن ان حالات میں ہمیں ہر طرح کی بیرونی جارحیت کے مقابلے کے لئے بھی تیار رہنا ہو گا۔ دشمن کی طر ف سے ہمیں اندر باہر سے گھیرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس وقت ہماری حکومت جس طرح بے حد سنگیں اندرونی مسائل سے بھی نمٹنے میں ناکام ہے اور ملکی مسائل کے حل کے لئے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے اور قومی یک جہتی کا ثبوت دینے کے بجائے مخالفوں کو مختلف سیاسی اور انتظامی ہتھکنڈوں کے ذریعے پچھاڑنے میں مصروف ہے اس سے ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ جن کے بعد ارد گرد کی مخالف طاقتیں باآسانی مہم جوئی پر آمادہ ہو سکتی ہیں۔ ملک کے بڑھے ہوئے مسائل سے فائدہ اٹھانے کی کسی کوشش کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئیے۔ اس سلسلے میں صرف ڈپلومیسی اور بیرونی یقین دہانیوں ہی پر انحصار نہیں کیا جاسکتا خود ہمیں بھی ہر سطح پر ہر آزمائش کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی اور انڈین میڈیا کے پاکستان مخالف پراپیگنڈا کے باوجود ہماری وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے یہ کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے امن مذاکرات اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا خیال نہیں کہ کنٹرول لائن پر ہونے والے واقعات سے امن مذاکرات متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کنٹروال لائن پر ایک پاکستانی فوجی کی شہادت کے بعد سامنے آنے والے مختلف بھارتی بیانات پر حیرت ہوئی ہے۔ ہمیں سوچنا یہ ہے کہ کیا ہم خود کو آپ کنٹرول کرنا چاہتے ہیں یا دوسروں کو اپنی رہنمائی کرنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں۔؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان مقاصد کے لئے اپنے میکانزم کے مطابق کام کرنا چاہتا ہے، بھارت کی طرف سے آنے والے بیانات کی روشنی میں صورتحال کی کشیدگی میں اضافہ کرنا ہمارا مقصد نہیں ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ ایک ایسے راستے کو اپنائے ہوئے ہیں جس کا مقصد اعتماد سازی اور ان حالات کو معمول پر لانا ہے جو کہ پہلے ہی بعض حرکتوں اور بیانات کی وجہ سے غیر مستحکم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک پاکستانی پوسٹ پر انڈین حملے کے بعد پاکستان نے جس رویے کا مظاہرہ کیا امید ہے کہ انڈیا کی طرف سے بھی معاملات کو درست کرنے کے لئے اس کا مثبت جواب دیا جائے گا۔ اس موقع پر پاکستانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی طرف سے کنڑول لائن کے واقعات کی اقوام متحدہ کے کمیشن سے تحقیقات کرانے کی پیشکش کا اعادہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی پوری پابندی کررہا ہے اور اس مسئلے کے حل کے لئے موجود میکانزم کے مطابق کام کررہا ہے۔

 بھارت سے اچھے تعلقات اور تجارتی روابط قائم کرنے کے خواہشمند تمام حلقے اسی پالیسی کے حامی اور طرفدار ہیں۔ وہ مذاکرات اور امن کے معاملات آگے بڑھنے کے موقع پر دوسرے تمام سنگین واقعات کو بھی امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کا کیا دھرا سمجھ رہے ہیں ۔ جبکہ مسئلہ کشمیر کے حل سے پہلے بھارت سے تجارت شروع نہ کرنے کے حامی دہشت گردی کے واقعات میں انڈیا کا ہاتھ سمجھ رہے ہیں۔ ان کی طرف سے یہ کہا جارہا ہے کہ ہمارے انتخابات اور لانگ مارچ کی فضامیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں شدت پیدا کرکے اور کنڑول لائن پر اشتعال انگیزی کے ذریعے بھارت اپنا مقصد پورا کرنا چاہتا ہے۔ بہت سے لوگ امریکہ اور اسرائیل کو بھی اس طرح کے منصوبوں میں شامل سمجھ رہے ہیں۔ تا ہم یہ رائے رکھنے والوں کا حلقہ بھی کافی وسیع ہے کہ ایسا سب کچھ ان ہاتھوں کی طرف سے کرایا جا رہا ہے جو انتخابات کو ملتوی کرانا چاہتے ہیں یا جمہوریت ہی کو ختم کرنے کا پروگرام رکھتے ہیں۔ حکومت میں شامل سیاستدانوں کے سلسلے میںہماری بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ان کی طرف سے ملک کی لوٹ کھسوٹ اور خوفناک حد تک بڑھی ہوئی کرپشن کو ختم کیا گیا نہ ملک کے بڑے بڑے مسائل کے سلسلے میں قوم کو اعتماد میں لینے کے لئے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔ بلکہ یہی تاثر دیا گیا کہ شاید ان کی طرف سے دانستہ طور پر بجلی اور گیس بحران، بے روزگاری ، دہشت گردی ، بلوچستان اور کراچی کے مسائل پیدا کئے گئے ہیں۔ مختلف بہانوں سے قوم وملک کو بے بس اور کمزور کرکے ہماری حالت اس طرح قابل رحم بنا دی گئی ہے کہ رحم نہ کرنے کا عادی دشمن ( خدانخواستہ) اپنے عزائم پورے کرنے کی راہ میں کسی طرح کی رکاوٹ محسوس نہ کرے۔

اگر ایسا نہیں ہے۔ اگر ہمارے حکمران حالات کا ادراک رکھتے ہیں اور ملکی معاملات پر ان کی گرفت ہے تو پھر یہ کیا ہے جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔ ؟ کیا ہم حالت جنگ میں ہیں۔ ؟ایک ایسی جنگ کی حالت میں جو حکمرانوں کی نااہلی اور حالات سے عہدہ برا ہونے کی صلاحیت کے فقدان کی وجہ سے ہم پر باہر اور اندر سے ٹھونس دی گئی ہے۔ ؟ کیا اس انتہا کی دہشت گردی اور دردناک مصائب کے بعد کسی طرف سے امید کی کوئی کرن نظر آ رہی ہے۔ ؟ جمہوریت کے نام پر حکومت کرنے والوں کو جمہوریت بے حد عزیز ہے لیکن اپنے حالات کی وجہ سے جمہوریت سے بیزار ہو جانے والے عوام کے لئے بھی جمہوریت کو پسندیدہ بنانے کے لئے آخر حکمرانوں کی طرف سے کیا ہو رہا ہے۔؟ حکومت کے سارے وسائل طاقت اور انتظامی اختیارات رکھنے کے باوجود حکمرانوں کی طرف سے مسلسل سارے مصائب کا ذمہ دار دوسروں ہی کو قرار دئیے جانے کا مطلب آخر کیا ہے۔؟

امن مذاکرات اور تجارت کے لئے بھارت سے مذاکرات کرنے اور مثبت رویہ اختیار کرنے کے علاوہ بھارت پر یہ زور دینے کی بھی ضرورت ہے کہ وہ کنڑول لائن پر اشتعال انگیزی سے باز رہے۔ اگر کچھ غلط فہمیاں ہیں تو دونوں ملکوں میں موجود میکا نزم کے ذریعے انہیں دور کیا جائے۔ دونوں ملکوں کی طرف سے انتہاءپسندوں کو میدان میں کودنے اور سرگرام ہونے کا موقع فراہم نہ کیا جائے۔ بالخصوص بھارتی میڈیا کی طرف سے اپنے عوام میں جنگی جنون اور پاکستان دشمنی کے جذبات پیدا کرنے کی مہم کو فی الفور روکا جائے ورنہ پاکستانی عوام بھارتی حکمرانوں کی نیت پر شبہ کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔

باہمی تنازعات اور سارک تنظیم

وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے تجویز کیا ہے کہ سارک ممالک کو بھی یورپی یونین کا ماڈل اپنانا ہوگا کہ اگر صدیوں ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار رہنے والے یورپی ممالک اپنے تنازعات یورپی یونین بنا کر حل کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟.... یہ بات بالکل درست ہے میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ ہی نہیں، ایک بڑی جماعت کے اہم رہنما بھی ہیں جو ماضی میں دو بار وفاق میں بھی حکمران رہ چکی ہے۔ وہ بات کرتے ہیں تو اس میں وزن ہوتا ہے۔ یہ بات حقائق پر مبنی ہے۔ اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید بھی یہ بات دوسرے انداز سے کہتی تھیں وہ جنوب مشرقی ایشیاءکو یورپی یونین کی طرح ایک تنظیم بنانے کی بات کرتی تھیں جو کرنسی بھی ایک بنا لیں۔ یہ بات میاں محمد نواز شریف اور صدر آصف علی زرداری بھی دہرا چکے ہوئے ہیں، تاہم کوئی پیش رفت نہیں ہو پا رہی۔ سارک تنظیم بھی چل تو رہی ہے، لیکن یہ بھی تنظیم کے رکن ممالک کے آپس والے تنازعات کے لئے کسی کردار کی اہل نہیں کہ چارٹر میں ہی یہ تحریر کر دیا گیا کہ رکن ممالک کے تنازعات زیر بحث نہیں لائے جاسکیں گے۔ سارک تنظیم میں پاکستان اور بھارت دونوں شامل ہیں اور اہم تنازعات بھی ان دونوں ممالک کے درمیان ہیں۔ کشمیر، سیاچن اور سرکریک کے علاوہ دریاو¿ں کے پانی پر تنازعات موجود ہیں، بھارت کے اصرار پر ہی سارک تنظیم کے لئے یہ پابندی عائد کی گئی تھی۔ مبادا کشمیر اور دوسرے تنازعات کا ذکر ہو جائے۔

انہی حالات میں سارک تنظیم محض محفلوں کی حد تک رہ گئی اور تجارت یا دوسرے امور میں باہمی تعاون کی بات ہوتی ہے۔ باقی امور جوں کے توں ہیں۔ بہتر تو یہی ہے کہ اس طریق کار کو تبدیل کیا جائے۔ اگر سارک دوست ساز تنظیم ہے تو پھر اسے تنازعات کے حل کے لئے بھی کردار ادا کرنا چاہئے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ امور طے پا جائیں تو سارک تنظیم بھی مضبوط ہوگی اور پھر یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے کہ یورپی یونین ماڈل اپنا لیا جائے۔ اس کے لئے بھارت پر ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یوں بھی وہ بڑا ملک ہے۔ اس لئے پہلے تنازعات کی طرف توجہ دے لی جائے۔

مزید : اداریہ