” جو قائد کا غدار ہے .... “

” جو قائد کا غدار ہے .... “
” جو قائد کا غدار ہے .... “

  

قائد اعظم محمد علی جناح کے بنائے ہوئے ملک میں سیاست کرنے والی ایک سیاسی جماعت کے برطانوی شہریت کے حامل سربراہ الطاف حسین کا کہنا ہے کہ قوم کے باپ نے بھی تو برطانوی تاج کی وفاداری کا حلف اٹھایا تھا، اس پر مجھے ایم کیو ایم حقیقی بننے پرکراچی میں لگنے والے کچھ بینرز یاد آ گئے جن پر تحریر تھا کہ” جو قائد کا غدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے “۔ اس سیاسی جماعت کے قائد کاغدار تو موت کا حق دار ٹھہرتا ہے اور پوری قوم کے متفقہ قائد کوبدنام کرنے اور ان سے غداری کرنے والے کی کیا سزا ہونی چاہئے،اس کا فیصلہ اسی جماعت کے رہنماو¿ں کو اپنی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ضرور کرنا چاہئے۔ یوں بھی میں سمجھتا ہوں کہ جو قوم کے باپ پر اعتراض کر سکتا ہے وہ اپنے باپ پر بھی اعتراض کرسکتا ہے جس کی وجہ سے آج وہ دنیا میںموجود ہے ۔

مجھے اس تاریخی واقعات پر مبنی بحث میں نہیں جانا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے کب اور کہاں برطانوی بادشاہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا تھا، کیا اس وقت انگریز حکمران تھا یا پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد اس کا آئین تشکیل دیا جاچکا تھا جس کے تحت ان کا حلف ہوتا۔ یہ حلف انہوں نے زمانہ طالب علمی میں اٹھایا تھا یا گورنر جنرل کے طور پر وہ اللہ، قرآن اور پاکستانی قوم کی بجائے انگریز بادشاہ کے وفادار بنے تھے مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ متحدہ برصغیر میں اگر کوئی میرے رب اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے سب سے زیادہ وفا نبھانے والا تھا تو وہ محمد علی جناح ہی تھا ، اگرمیرا قائد انگریز حکمرانوں کا وفادار ہوتا تو لارڈ مونٹ بیٹن کو پاکستان اور ہندوستان دونوں کا گورنر جنرل تسلیم کر لیتا مگر میرا قائد تو اس مملکت خدادادکو،قرآن کو دستور بناتے ہوئے، اسلام کی عملی تجربہ گاہ بنانا چاہتا تھا۔ یہ اس کی اپنے رب سے وفاداری کا سب سے بڑا ثبوت تھا، ہے اور رہے گا کہ اس نے کروڑوں مسلمانوں کو مدینہ منورہ کے بعدانسانی تاریخ کی دوسری اسلامی نظریاتی ریاست قائم کر کے دی، اس نے تو ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ سنت ادا کی جو اس سے پہلے کوئی ادا نہیں کر سکا اور نہ آئندہ کسی میں یہ توفیق نظرآتی ہے ۔ ان کی اللہ، محمد اور امت کے ساتھ وفاداری کا یہ عالم تھا کہ وہ انگریزی زبان میں بھی تقریر کرتے تھے تو مجمع اپنے لبوں کو تالے لگاکے، پورے دھیان کے ساتھ ان کی بات سنتا تھا، کسی سیانے نے ایسے ہی کسی دیہاتی سے پوچھ لیا کہ یہ تو انگریزی میں بات کر رہے ہیں اور تمہیں تو انگریزی کا ایک لفظ نہیں آتا، تم ان کی بات کیوں سن اور کیسے سمجھ رہے ہوں۔ وہ دیہاتی اس سیانے کو دیکھ کے مسکرایا اور بولا ، ہاں ، یہ درست ہے کہ قائداعظم جو کہہ رہے ہیں مجھے اس کے ایک لفظ کی بھی سمجھ نہیں آ رہی مگر مجھے پورا یقین ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ سچ کہہ رہے ہیں۔ کیا مجھے یہاںیہ بھی بتانا پڑے گا کہ میرے قائد کے جلسوں میں کوئی سیکٹر انچارج بندے لے کر نہیں آتا تھا، ان کے ساتھی ہمیشہ تعلیم، صحت اور بلدیات کی وزارتیں نہیںلیتے تھے کہ وہاں لاکھوں لوگوں کو نوکریاں دے کر انہیںریاست کی بجائے ایک سیاسی جماعت کی غلامی میں دے دیا جائے، وہ ملازم سرکاری اداروں سے زیادہ، ہفتے میں تین سے چار مرتبہ نوکر ی لے کر دینے والوں کے سیاسی جلسوں میں حاضری دینے کے پابند ہوں۔

یہاں کئی ایسے نام نہاد دانشوربھی مل جائیں گے جو پاکستان کو تاریخ کی ایک بڑی غلطی قرار دیں گے ، جن کے دل ابھی بھی ہندوستان میں اٹکے ملیں گے۔ ایسے لوٹوں کی تو کمی ہی نہیں جو اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرتے ہوئے برصغیر ہی نہیں دنیا بھر میں بیسویں صدی کے عظیم ترین رہنماکی کانگریس سے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت کی مثال دیں گے مگر کیا وہ واقعی قائداعظم محمد علی جناح کے کردار کی عظمت، صداقت، دیانت اور اصول پسندی کاایک سوواں حصہ بھی اپنے اندر پاتے ہیں ، میں کہتا ہوں کہ اعتراض کرنا دنیا کا آسان ترین اور نتائج دینا دنیا کا مشکل ترین کام ہے ۔ اعتراض کرنے والے صرف باتیں بناتے ہیں مگر میرے قائد نے مختصر سی مدت میں، بغیر کسی لانگ مارچ اور بغیرسول نافرمانی کی کسی تحریک کے دنیا کے نقشے کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔ مگر زندہ اور غیرت مند قومیں کچھ نظریات اور کچھ شخصیات پر متفق ہوتی ہیں جیسے پاکستان میں اسلام کا نظریہ اور علامہ محمد اقبال اور محمد علی جناح جیسی شخصیات،جو قوم اپنے باپ کے کردار پر مطمئن اور متفق نہیں ہوتی ، کم سے کم اور نرم سے نرم الفاظ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ قوم ہی نہیں ہوتی۔

قوم کے باپ کو تاج برطانیہ کی وفاداری کا طعنہ دینے والے نے صرف اپنی غیر ملکی شہریت کو جائز بنانے کے لئے اصل میں پوری قوم کو طعنہ دیاہے۔ ایک برطانوی شہری نے تاج برطانیہ سے اپنی وفاداری درست قرار دینے کے لئے قائد اعظم محمد علی جناح کی ملک و ملت کے ساتھ وفاداری کو مشکوک بنانے کی جسارت کی ہے ،اگر یہی سیاسی ڈرون حملہ تھا تو مجھے پورے یقین کے ساتھ یہ کہنا ہے کہ ڈرون اٹیک کرنے والے نے دیکھا ہی نہیں کہ اس ڈرون کا منہ خود اس کی طرف تھا، یہ وہ تھوک تھا جو چاند پر پھینکا گیا اور سیانے جانتے ہیں کہ چاند کی طرف منہ کر کے تھوکنے کا نتیجہ کیا ہوتاہے۔ میں تاریخ کا ماہر نہیں ہوں، حالات حاضرہ کا بھی محض ایک طالب علم، مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میرے قائد نے اسلام کے عظیم نظرئیے پر،مسلمان قوم کے پلیٹ فارم سے سیاست کی تھی ،وہ ایک زبان بولنے والے کسی مخصوص طبقے کے رہنما نہیں تھے۔ میرے قائد سے اپنا موازنہ کرنے والے ذہن میں کیوں نہیں رکھتے کہ وہ سینکڑوں افراد کے قتل، اربوں روپوں کے بھتے کی وصولی، ٹارچر سیل بنانے کے الزامات اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر کو مقتل میں بدلنے کے بعد ملک سے فرار نہیں ہوئے تھے۔مگر انہوں نے برطانوی شہریت تو کیا برطانیہ جا کے علاج معالجے تک کی سہولت نہیں لی تھی۔

مزید : کالم