برطانیہ میں پاکستان اور پاکستانیوں کا محافظ ہوں :لارڈ مئر مانچسٹر

برطانیہ میں پاکستان اور پاکستانیوں کا محافظ ہوں :لارڈ مئر مانچسٹر
 برطانیہ میں پاکستان اور پاکستانیوں کا محافظ ہوں :لارڈ مئر مانچسٹر

  

مانچسٹر (مرزا نعیم الرحمان) مانچسٹر کے پہلے مسلمان لارڈ میئر کونسلر محمد افضل خان نے کہا ہے کہ برطانیہ میں مقیم برٹش پاکستانیوں کی فلاح وبہبود میری اولین ترجیح ہے، یہاں پاکستانی مضبوط ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہو گا کیونکہ پاکستان پر جب بھی کوئی قدرتی آفت آئی تو برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے اپنے ہم وطنوں کے مسائل کے حل کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا، دیگر یورپی ممالک کے مقابلے میں برطانیہ میں مقیم پاکستانی کیمونٹی خوشحال ہے اور وہ ایک عرصہ سے اس نظام کا حصہ ہے۔ ’پاکستان فورم ‘میں گفتگو کر تے ہوئے انہو ں نے کہا کہ جب میں برطانیہ کے دوسرے بڑے معاشی شہر مانچسٹر کا لارڈ میئر بنا تو پوری دنیا میں اس پر مثبت رد عمل ظاہر کیا گیا۔ برطانوی معاشرے میں انسانیت اور قابلیت کو ترجیح دی جاتی ہے، مانچسٹر کے عوام نے انہیں جو اعزاز بخشا، اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لارتے ہوئے میں نے اس منصب کے ساتھ انصاف کیا اورپھر بھی بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے جو کوئی کمی و کوتاہی رہ گئی ہے اس کیلئے کوشاں ہوں۔ بطو رلارڈان کا سب سے نمایاں کام صنعتی وتجارتی تعلقات کو فروغ دیکر لوگوں کے لیے روزگار پیدا کرنا ہے ‘ مانچسٹر کی خوبصورتی کیلئے بھی ان کی خدمات مانچسٹر تاریخ کا حصہ ہیں، مانچسٹر میں برٹش مسلم ‘ تاریخ و ثقافت ‘ سنٹر جس پر چاڑھے چار ملین پاﺅنڈ سے تعمیرکرایاجبکہ اس وقت نائین الیون اور سیون سیون کے دلخراش واقعات رونما ہو چکے تھے جن کی وجہ سے مسلمان ایک بحرانی کیفیت سے دوچار تھے اس وقت مسلمان کا تشخص بحال رکھنا اور دیگر کیمونٹی سے تعلقات کی بہتری ایک بہت بڑا چیلنج تھاتب میں نے اللہ کی مدد سے یہ بیڑہ اٹھایا اور خدا وند کریم نے مجھے کامیابی سے ہمکنار کیا، اسی انتھک اور مثبت سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ مجھے مختلف اعزازات حاصل ہوئے جن میں سرفہرست مانچسٹر کا پہلا مسلمان لارڈ میئر منتخب ہونا دوسرے نمبر پر اسی سال میئر آف ائیر ایوارڈ‘ وائس پریذیڈنٹ ورلڈ سر آف پیس ‘اور مختلف خیراتی اداروں کے لئے ریکارڈ تعداد میں فنڈز اکٹھا کرنا اور ’نوجوان طبقے کیلئے خدمات ان کا اعزاز ہے خدمت کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو گا، اس جذبہ کے تحت وہ آج بھی عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ان کی شخصیت اور کام کسی سے پوشیدہ نہیں اس وجہ سے وہ اب خدمت کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے مانچسٹر میں شعبہ تعلیم کے انچارج ہیں اور اس شعبہ میں وہ نمایاں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے دن سے ہی اس لئے لیبر پارٹی سے وابستہ ہیں کہ یہی پارٹی مزدور طبقہ کی نمائندگی کرتی ہے جبکہ کنزرویٹو پارٹی امیر طبقے کی نمائندگی کرتی ہے، آئندہ نتخابات میں لیبر پارٹی ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دے گی۔ موجودہ حکومت نے برطانیہ کے عوام کے مسائل کم کرنے کی بجائے ان میں اضافہ کیا وقتی فوائد کیلئے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا مگر لیبر پارٹی تمام مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی ایشیاءکے امن کی ضمانت ہے ’جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا امن کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی لہٰذا برطانیہ سمیت اقوام متحدہ مصلحتوں سے کام لینے کی بجائے اقوام متحدہ کی قر ار داروں پر عمل درآمد کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی حالات سے بیرون ملک مقیم پاکستانی براہ راست متاثر ہوتے ہیں، انہی حالات کی وجہ سے پاکستانیوں کی تیسری نسل جو پروان چڑھ رہی ہے۔ پاکستان سے مکمل طور پر لاتعلقی کر دے گی تو اس کے پاکستانی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں مذہبی اور لسانی درجہ بندی پاکستانی کیمونٹی کیلئے زہر قاتل ہے ‘ ہم سب سے پہلے مسلمان اور پھر برٹش پاکستانی ہیں، درجہ بندی کی وجہ سے اتحاد واتفاق میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ اگر پاکستانی کیمونٹی نے برطانوی معاشرے میں اپنا کوئی جائز مقام حاصل کرنا ہے تو انہیں اتحاد و اتفاق کا عملی نمونہ پیش کرنا ہو گا۔ دنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر ہمیں امن کے لیے کام کرنا ہوگا۔ اگر امن ہو گا تو روزگار کے مواقع ترقی اور خوشحالی کے دروازے کھلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مایوسی گناہ ہے وہ پاکستانی کیمونٹی کے درخشاں مستقل کے بارے میں پر امید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایمگریشن صرف برطانیہ ہی کی نہیں بلکہ پورے یورپ کی ضرورت ہے، یہاں کی آبادی میں جوانوں کی کمی اور بوڑھوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، پڑھے لکھے افراد کسی بھی معاشرے کے استحکام اور اسکی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن موجودہ برطانوی حکومت نے بلاتمیز اور سوچے سمجھے بغیر ایمگریشن کی تلوار لٹکا رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون اور سیون سیون کے واقعہ کے بعد ابھی تک اسکے منفی اثرات موجود ہیں چند دہشت گردوں کی قابل مذمت اور نفرت انگیز حرکت کی وجہ سے پورے دنیا کے مسلمان اور بالخصوص پاکستانی تارکین وطن سخت متاثر ہوئے ہیں۔ ان بدترین حالات میں دیار غیر میں بسنے والے پاکستانیوں کو ایک اہل ‘نڈر اور باہمت قیادت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں اس منفی پراپیگنڈہ کو کسی حد تک زائل کر دیا تھا ‘ اسکا تسلسل قائم رکھنا اشد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکہ برطانیہ نے بھی انکی کارکردگی کی وجہ سے مختلف اعزازات ’کمانڈر آف برٹش ایمپائر‘ کے اعزاز سے نوازاجو بلاشبہ پوری کیمونٹی کیلئے اعزاز ہے۔ انہو ں نے کہا کہ اگر خداوند کریم نے انہیں مزید موقع دیا اور عوام نے انکا ساتھ دیا تو وہ اپنے ادھورے مشن کی تکمیل کیلئے یورپی یونین کے پلیٹ فارم سے بھی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ پاکستانی قوم بڑی بہاد ر ‘ اور محنت کش ہے برطانوی معیشت کے استحکام کیلئے انکا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں ،برطانوی حکومت چند دہشت گردوںکی کاروائیوں سے پوری کیمونٹی کو بدنام اور مورد الزام نہ ٹھہرائے بلکہ مثبت پہلوﺅںپربھی غور کرے ۔ برطانیہ میں 12لاکھ سے زائد پاکستانی آباد ہیں، اب وہ برطانوی نظام کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ تعلیم کیلئے آنے والے طالب علم اس ادارے کے متعلق اچھی طرح ریسرچ کریں اور اچھی شہرت کے حامل تعلیمی اداروںمیں داخلہ لیں، دیگر ممالک کی طرح برطانیہ میں بھی تعلیم کے نام پر لوٹ مار جاری ہے مگر اچھے تعلیمی اداروں کی بھی کوئی کمی نہیں ۔انہوں نے کہا کہ بعض علماءدین کا برطانیہ میں کردار مثبت نہیں بلکہ انہوں نے برطانیہ میں دین کے نام پر لوٹ مار شروع کر رکھی ہے، فرقہ واریت کیخلاف درس دیں نہ کہ فرقہ واریت کو فروغ دیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بعض خیراتی ادارے برطانوی عوام کو بے وقوف بنا کر لاکھوں روپے بٹور کرلے جاتے ہیں، وہ خدا اور رسول کے مجرم بھی بنتے ہیں، ان لوگوں کے اس قابل مذمت عمل کی وجہ سے اصل اور حقدار لوگ محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو خیراتی ادارے پاکستان میں عملی طو رپر فعال ہیں انکی مدد اور سرپرستی ہر انسان کا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک منتخب جمہوری حکومت جو عوام کے ووٹوں سے اقتدار تک پہنچنے ہی ہی عوام کے مسائل حل کر سکتی ہے مگر ان دنوں سیاستدانوں کی دھینگا مشتی اور کرپشن کی خبروں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا سر شرم سے جھکا دیا ہے، ہمیں پاکستان کی خیرمانگنی ہو گی نہ کہ کسی سیاسی جماعت کا آلہ کار بن کر پاکستان کو بدنام کرنے والوں کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے، پاکستان ہے تو ہم سب ہیں جماعتیں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اقوام عالم پاکستان جو دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے سخت معاشی بحران اور مسائل کا شکارہے ،کی مدد کریں کیونکہ ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان ہی عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تعداد کے حوالے سے برطانیہ کی جیلوں میں پاکستانیوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے جو خوفناک ہے، نئی نسل منشیات کی عادی ہوتی جا رہی ہے ڈرگ ہی تمام جرائم کا دروازہ کھولتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں پاکستانی خواتین مسائل کا شکار ہیں یہ مسئلہ صرف برطانیہ میں ہی نہیں بلکہ پور ے یورپ میں ہے ،صرف دین اور دنیا کی تعلیم ہی عورت کا احترام سیکھا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم فلسطین اور کشمیر کے عوام کی آواز بلند کرنا ان کا مشن ہے مسلمان جہاں بھی مسائل کا شکار ہیں ،میں ان کی آواز بن جاﺅںگا‘ مجھے کسی سے ڈر اور خوف نہیں مگر حق اور سچ کی آواز اور پرچم بلند رکھنا ہی میری آن و شان ہے۔ انہوںنے انکشاف کیا کہ بطور لارڈ میئر مانچسٹر انہوں نے ٹاﺅن ہال میں قائد اعظم محمد علی جناح کا مجسمہ نصب کیا جو انکی وطن سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

مزید : بین الاقوامی