جمائمہ سے ریحام تک۔۔۔!!

جمائمہ سے ریحام تک۔۔۔!!
جمائمہ سے ریحام تک۔۔۔!!

  

شریف برادران کو حکومت کرنے کا بار بار موقع اس لئے ملتا ہے کہ ان کے مقابلے میں کوئی لیڈر نہیں ، بڑی مشکل سے عمران خان کی شکل میں قوم کو ایک لیڈر نما سیاست دان ملا۔ قوم کی امید بندھی انہوں نے اس کی آواز پر لبیک کہا اورتبدیلی کے لئے اس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کر لیں ‘ لیکن یہ کیا ہوا کہ موصوف نے شادی کر لی۔۔۔!! اس طرح کے مضبوط دلائل کا اظہار یاروں کی محفل میں ہمارے ایک دوست بوجھل دل کے ساتھ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب سیاسی میدان میں جتنے دھواں دھار انداز میں کھیل رہے تھے اب شادی ان کیلئے بہت چھوٹی سی بات تھی، کیونکہ جب وہ کرکٹ کے عروج پر تھے تو شادی کے سوال پر ہمیشہ یہی کہتے کہ انکا نکاح کرکٹ سے ہو چکا ہے اور جب تک وہ کرکٹ کھیل رہے ہیں اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ آج جب کہ وہ سیاست میں بھی عروج پر تھے اور عمر کے اس حصے میں بھی تھے جہاں شادی وغیرہ بہت اہم نہیں ہوتی توو ہ آسانی سے ایسے کسی حملے کو ٹال سکتے تھے وہ سیاست میں گلیمر کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے ۔ لیکن پتہ نہیں ان کو کیا سوجی یا وہ کس بھنور میں پھنسے کہ انہیں چاروں شانے چت ہونا پڑا۔

بعض دوستوں نے خان صاحب کی شادی کے حق میں بھی بات کی، لیکن مجموعی طور پر ان دوستوں کا پلہ بھاری رہا جو ہیر رانجھا کی کہانی میں کیدو کی طرح سوچ رہے تھے۔ خان صاحب کی شادی جہاں میڈیا کی توجہ کامرکز بنی ہوئی ہے وہاں گھر گھر میں بھی ان کی شادی کی باتیں کہی اور سنی جا رہی ہیں ،بعض دفاتر میں تو اس پر بحث اتنی بڑھی کہ لوگ باقاعدہ ہاتھا پائی تک پہنچ گئے اور یہ اس لئے ہے کہ خان صاحب ملکی سیاست کے افق پر چمک رہے ہیں ، اور خاص طور پر پچھلے چھ ماہ سے خان صاحب اپنے دھرنے اور شعلہ بیانی کی وجہ سے ہر گھر کے فرد بنے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان کے جلسوں کی رونقیں بھی قابل دید ہوتی ہیں لیکن ان کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد گھروں میں بھی بیٹھی ہوئی ہے۔ ان حالات میں خان صاحب کا عقد ثانی کا فیصلہ ان کی ذاتی خواہش یا ضرورت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ لیکن عوام بھی اس پر رائے زنی کا پوراپورا حق رکھتے ہیں ۔

ہمارے ایک دوست بتاتے ہیں کہ وہ گھر میں بیٹھے کوئی کام کر رہے تھے تو دوسرے کمرے سے ان کی بیوی نے کہا کہ عمران اور ان کی بیوی کی تصویر نیٹ پر آ گئی ہے تو انہوں نے وہیں سے پوچھا کہ لڑکی خوبصورت ہے ‘ تو بیوی نے جواب دیا کہ ہاں !لڑکی پیاری ہے ۔مَیں نے جواب دیا کہ پھر کپتان کا شادی کا فیصلہ ٹھیک ہے ۔صدقے جاؤں اپنی قوم کے ! جو صرف سوہنی شکل پر سب کچھ بھول جاتی ہے ‘ویسے بھی جب ریحام خان نے ٹی وی پر ٹاک شو شروع کیا تو لوگ اسے لڑکی ہی سمجھے ۔وہ تو جب ان کی شادی کی باتیں شروع ہوئیں تو پتہ چلا کہ خاتون تین بچوں کی ماں ہے۔ خان صاحب نے اپنی شادی کے ولیمہ کا کھانا ‘ دوستوں کی بجائے یتیم بچوں کو کھلادیا ہے ‘ حالانکہ اس عمر میں انہیں شادی کی کامیابی کے لئے دعاوں سے زیادہ دواوں کی ضرورت ہے ۔خان صاحب نے خود اس بات کا اقرار کیا ہے کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کی شادی پر اتنا بڑا ردعمل آئے گا ۔ ہاں انہوں نے یہ اچھی بات کی کہ جو لوگ انہیں تحفہ دینا چاہتے ہیں وہ ان کے پشاور کے زیر تعمیر کینسر ہسپتال میں عطیات دیں۔

ویسے تو خان صاحب کی پہلی شادی پر بھی لوگوں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا تھا ۔ البتہ خواتین نے ان کے فیصلے کی مذمت کی تھی ‘ کیونکہ وطن عزیز میں کچھ ہو نہ ہو دنیا کے کسی بھی خطے سے زیادہ خوبصورت ‘ خوب سیرت خواتین موجود ہیں لہٰذا ان کا اس وقت موقف صحیح تھا کہ خان صاحب ۔۔۔اپنی مٹی سے بہترین شریک حیات کا انتخاب کر سکتے تھے ۔ان کی موجودہ شادی بھی اسی صورت حال کا شکار ہے ۔حکومت خوش ہے کہ خان صاحب ۔۔۔کچھ وقت گھر میں بھی گزاریں گے اور ہر وقت حکومت کو کھری کھری سنانے کی بجائے کچھ گھر میں بیگم کی بھی سنیں گے ۔ بعض سیاست دانوں نے خان صاحب کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مہربانی کریں ‘ تو اب مزید احتجاجی سیاست کی بجائے ہنی مون منائیں ۔مولانا فضل الرحمان نے بھی طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ وہ خان صاحب سے عمر میں چھوٹے ہونے کے باوجود ایسی خواہش نہیں رکھتے ‘ خان صاحب کے مسائل اور ہو سکتے ہیں ۔

ہمارے ایک دوست کی اس بات میں بھی کافی وزن ہے کہ صحافی اور سیاست دانوں کی بنتی نہیں ۔۔! اللہ کرے بنی گالا میں صحافی اور سیاست دان ایک دوسرے سے بنا کر رکھیں ۔کیونکہ صحافی ہمیشہ سیاست دان پر نظر رکھتا ہے اور سیاست دان کی کوشش ہو تی ہے کہ کوئی اس پر نظر نہ رکھے۔ ہمارے دوست ایک واقعہ بتاتے ہیں کہ جب خان کی شادی کے ابتدائی دن تھے تو ایک تقریب میں جب خان صاحب تقریر کے لئے سٹیج پر آئے تو لوگوں نے جمائمہ کے استقبال کے لئے نعرے لگائے اور اسے سٹیج پر بلانے کا مطالبہ کیا، جس پر تقریب میں اگلی نشست پر بیٹھی ہوئی جمائمہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی جس پر عمران خان نے باقاعدہ سختی کے ساتھ اسے روک دیا اور وہ بچاری دبک کر واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گئی ۔ا ن کا کہنا ہے کہ اگر خان صاحب آزاد معاشرے کی لڑکی کو آزادی دینے پر تیار نہ تھے تو اب ریحام خان جو آزاد دنیا کی مسافر ہے اس کو گھر میں بٹھائے پر کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں ۔۔!ریحام نے اپنے سسرال میں پہلے ناشتے کے بعد انٹرویو دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے معاملات میں دخل نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں کون کون سے معاملات آتے ہیں اور کس کی کس حد تک برداشت ہے اس کا فیصلہ ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ کہتے ہیں کہ دوسری شادی کی خواہش بہت اچھی بات ہے ‘ بشرطیکہ یہ صرف خواہش ہی رہے ۔اگراس خواہش کو عروسی لباس پہنا دیا جائے تو یہ آزمائش بن جاتی ہے ۔خان صاحب کے لئے عقد ثانی بھی آزمائش سے کم نہیں ۔کہیں ایسا نہ ہو ! کہ چند سال بعدخان صاحب بھی سیاسی غلطیوں کی طرح اس بات کا بھی اعتراف نہ کر لیں کہ مجھے اب احساس ہوا ہے کہ دوسری شادی میری غلطی تھی ۔

مزید :

کالم -