مدارس کے حوالے سے حقیقت پسندانہ رویے کی ضرورت (2)

مدارس کے حوالے سے حقیقت پسندانہ رویے کی ضرورت (2)
مدارس کے حوالے سے حقیقت پسندانہ رویے کی ضرورت (2)

  



گزشتہ قسط میں مختصراً اس بات کا ذکرکیا گیا تھا کہ پاکستانی مدارس پر تنقید میں 9ستمبر 2011ء کے واقعے کے بعد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس واقعے کے بعد غیرملکی ذرائع ابلاغ کی تقلید میں ملکی ذرائع ابلاغ میں بھی مدارس پر ایک بے جاتنقید اور بغیر ثبوت کے الزامات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کیا گیا، جس نے مدارس کے خلاف رائے عامہ ہوار کرنے کی کوشش کی۔ ستمبر 2001ء کے واقعے کا جائزہ لینے کے لئے امریکی حکومت نے جو کمیشن بنایا اس کی رپورٹ 2004ء میں شائع ہوئی جو 9/11کمیشن رپورٹ کہلاتی ہے۔ اس رپورٹ کے صفحہ 367پر پاکستان کے حوالے سے جو تبصرہ درج ہے، اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے۔۔۔’’پاکستان کی دائمی غربت، وسیع پیمانے پر پھیلی کرپشن اور غیرمؤثر حکومتی نظام اسلام پرست افراد کی بھرتی کے مواقع فراہم کرتا ہے،لاکھوں خاندان، خاص طورپر غریب خاندان اپنے بچوں کو مدارس میں تعلیم دلانے پر مجبور ہیں۔ ایسے بہت سارے مذہبی تعلیمی ادارے غریب والدین کے بچوں کے لئے حصول تعلیم کا واحد ذریعہ ہیں، لیکن ان میں سے کچھ اداروں کو انتہا پسندانہ کارروائیوں کے مرکز کے طورپر استعمال کیا گیا ہے ‘‘۔۔۔ پہلی بات تو یہ کہ 9/11کے واقعے میں جن 19افراد کو ملوث قرار دیا جاتا ہے، ان میں سے 15کا تعلق سعودی عرب سے بیان کیا جاتا ہے، باقی کا اردن اوریمن سے۔ پاکستان یا افغانستان سے کوئی فرد اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔ اس کے باوجود سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کا ذکر اس میں کیوں آیا، پھر اس رپورٹ میں پاکستانی مدارس کا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مراکز کے طورپرذکر کیوں کیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 9/11کمیشن کی رپورٹ میں سعودی عرب کا ذکر 90مرتبہ، عراق کا 100مرتبہ، پاکستان کا 150مرتبہ اور افغانستان کا ذکر 200مرتبہ آیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ مدارس کے صرف اسی قدر ذکر پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ آگے چل کر اس رپورٹ کے صفحہ 374پر اس وقت کے سیکرٹری دفاع رونلڈرمزفیلڈ کے ایک بیان کا حوالہ دیا گیا ہے جو اس نے 2003ء میں دیا تھا۔ اس بیان میں سیکرٹری دفاع نے سوالیہ انداز میں یہ کہا کہ کیا امریکی حکومت اور فوج اس تعداد میں دہشت گردوں کو گرفتار، ہلاک یا کارروائیوں سے روکنے میں کامیاب ہورہی ہے جس تعداد میں مدرسے یا انتہا پسندعلماء انہیں بھرتی کے بعد تربیت دے کر امریکہ کے خلاف جنگ کے لئے تیار کررہے ہیں۔ اپنے سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے رونلڈ رمزفیلڈ پھر کہتا ہے کہ اگرچہ امریکی حکومت ایک طرف تو لمبی منصوبہ بندی اور مربوط حکمت عملی کی تیاری کررہی ہے، جبکہ دوسری طرف دہشت گردوں کی آئندہ نسل کے خاتمے کے لئے قلیل المدت حکمت عملی کے تحت فوجی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، مدارس کے خلاف فضا ء ہموار کرنے کے لئے بے جا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے اور غیرملکی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ ملکی نشریاتی ادارے بھی اس مہم میں برابر کے شریک ہیں۔ طوالت سے بچنے کے لئے یہاں صرف چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔ ستمبر 2013ء میں تمام ملکی اخبارات میں مدارس کے حوالے سے ایک خبر بڑے اہتمام سے شائع کی گئی۔ خبر کے مطابق حکومت پنجاب نے ملک بھر میں پھیلے دس ہزار سے زیادہ مدارس کی کڑی نگرانی کا فیصلہ کیا اور ان کی مکمل جانچ پڑتال کے ساتھ ساتھ ان کے ذرائع آمدنی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ خبر کے مطابق 45مدارس کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا، جن میں سے بیشتر ملتان شہر میں تھے ، جبکہ کچھ لاہور میں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ایسے مدارس کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی جو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اس کے کچھ ہی دنوں بعد ایک نجی چینل پر ایک دانشور یہ دعویٰ کرتے ہوئے پائے گئے کہ ضلع بہاولپور اور ضلع بہاولنگر میں بعض مدارس کو دہشت گردی کی تعلیم تربیت دیتے ہوئے خود اپنی آنکھ سے دیکھا ہے۔ واضح رہے کہ یہ دانشور انہی دنوں بھارت یاترا سے واپس آئے تھے۔ اب بہاول پور یا بہاولنگر نہ تو جنگلی علاقے میں واقع ہیں اور نہ ہی دوردراز کے پہاڑی علاقے میں جہاں ہماری پولیس یا دیگر اداروں کی رسائی ممکن نہ ہو۔

اس کے بعد مئی 2014ء میں ایسی ہی خبر دوبارہ اخبارات کی زینت بنی۔ اس بار امریکی محکمہ داخلہ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں موجود کئی مدارس دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ یہ خبر بنیادی طورپر ایک جرمن اخبار نے شائع کی تھی جسے ہمارے اخبارات، بالخصوص انگریزی اخبارات نے بڑے اہتمام سے شائع کیا۔ اتفاق سے امریکی محکمہ داخلہ کی مذکورہ رپورٹ انٹرنیٹ پر موجود ہے اور اس میں مدارس کا قطعاً کوئی ذکر نہیں ہے۔ ہمارے ملکی اخبارات نے مدارس کا اضافہ کرکے صحافتی بدیانتی کا مظاہرہ کیا۔ اس سے بھی بڑی بدیانتی کا مظاہرہ ایک پاکستانی نژاد امریکی مصنف نے کیا، جس نے پاکستان کے مدارس پر ایک کتاب لکھی، اس مصنف نے ضلع بہاول پور کی تحصیل احمد پور شرقیہ میں موجود مدارس کا خصوصی طورپر ذکر کیا ہے۔ احمد پور شرقیہ میں موجود مدارس کے حوالے سے مصنف نے لکھاہے کہ اس تحصیل میں 367مدارس ہیں، ان میں سے تقریباً پچاس فیصد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں ، جن کا ریکارڈ متعلقہ تھانے میں موجود ہے۔

اتفاق سے راقم کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے، مصنف کی کتاب پڑھ کر مَیں سوچ میں پڑ گیا کہ اگر ایک تحصیل میں ساڑھے تین سوسے زیادہ مدارس موجود ہیں تو پورے ضلع بہاولپور میں جس کی چار تحصیلیں ہیں، کل مدارس کی تعداد ساڑھے چودہ سو بنتی ہے ۔ اسی طرح پورے پنجاب میں مدارس کی تعداد پچاس ہزار سے تجاوز کرجائے گی۔ باقی تینوں صوبوں آزاد کشمیر اور گلگت کو ملاکر پاکستان میں مدارس کی تعداد محتاط اندازے کے مطابق بھی ڈیڑھ لاکھ تو پہنچ ہی جائے گی،۔ چنانچہ راقم نے اپنے پی ایچ ڈی کے سات طلباء کے ساتھ اس تحصیل کا سروے کیا، پوری تحصیل میں گلی گلی ، محلہ اور بستی بستی کا جائزہ لیااور تمام علاقے میں موجود تمام مساجد اور مدارس کا محل وقوع، طول بلد اور عرض بلد کے ساتھ نوٹ کیا تاکہ نقشے پر اس کی نشاندہی کی جاسکے۔ قارئین حیران ہوں گے کہ اس طرح ہم نے 355مساجد کا شمار کیا جن میں سے صرف 41میں مدارس قائم تھے، دراصل مصنف مسجد، مکتب اور مدرسے میں فرق کرنے سے قاصر رہا، یادرہے کہ ان 41مدارس میں سے صرف 7میں درس نظامی کی تدریس آدھے سے زیادہ نصاب پر جاری تھی، باقی میں صرف ابتدائی دو تین سال کی تعلیم دی جاتی تھی، اس کے بعد ہم نے متعلقہ تھانے سے رابطہ کیا اور تھانے کے سربراہ سے تحریری تصدیق حاصل کی جس کے مطابق کوئی بھی مدرسہ یا مدرسے کے استاد دہشت گردی میں ملوث نہ تھے ،اگرچہ علاقے میں شیعہ ،سنی فرقے کے افراد میں جھگڑے کے واقعات درج تھے، لیکن اس میں مدارس ملوث نہ تھے یا ان کے خلاف تھانے میں کوئی مقدمہ درج نہ تھا۔

درج بالا واقعات سے مدارس کے خلاف جاری مہم کی اصل حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف برصغیر میں بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مدارس صدیوں سے تعلیمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان مدارس کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود مذہب اسلام کی۔ برصغیر میں ان مدارس کی تاریخ کم ازکم بارہ سو سال پرانی ہے۔ مدارس کی اہمیت اور ضرورت کا اندازہ علامہ اقبال ؒ کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے جس کا ذکر خلیفہ عبدالحکیم مرحوم نے اپنی ایک تحریر میں کیا ہے۔ علامہ اقبال ؒ نے کہا کہ پہلے میں بھی مدارس کو مروجہ سکولوں میں ضم کرنے کا حامی تھا۔ لیکن جب میں یورپ گیا تو مجھے مدارس کی ضرورت اور اہمیت کا اندازہ ہوا کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ اگر مدارس نہ رہے تو مسلم معاشرے کا کیا حشر ہوگا۔ اس کا وہی حشر ہوگا جو اسلامی تہذیب اور معاشرے کا سپین میں ہوا، جہاں بعض مساجد تو موجود ہیں لیکن ان میں نمازی نہیں۔ اس لئے ان مدارس کو جوں کا توں رہنے دیا جائے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مدارس کے خلاف مہم کیوں جاری ہے اور اس میں حالیہ اضافہ کیوں دیکھنے میں آرہا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ رونلڈ رمز فیلڈ کے اعلان کے مطابق یہ کسی لمبی منصوبہ بندی کا حصہ ہے، یا پھر کہیں کمال اتاترک کے زمانے کی ترکی کی تاریخ دہرانا تو مقصود نہیں ہے، جہاں تمام مدارس کو مارکیٹ میں تبدیل کردیا گیا اور مساجد میں عربی میں اذان پر پابندی لگادی گئی۔ اس کی تفصیل پھر سہی۔

مزید : کالم