ہسپتالوں میں ٹنور پالیسی کی دھجیاں اڑادی گئی ملازمین کئی سال سے ایک ہی جگہ تعینات

ہسپتالوں میں ٹنور پالیسی کی دھجیاں اڑادی گئی ملازمین کئی سال سے ایک ہی جگہ ...

  

لاہور( جنرل رپورٹر) صوبائی دارلحکومت کے سرکاری ہسپتالوں میں ٹنور پالیسی کی دھجیاں اڑادی گئی ہیں قوانین کے مطابق کوئی سرکاری افسر یا اہلکار تین سال سے زائد ایک ہی جگہ پر تعینات نہیں رہ سکتا مگر شہر لاہور کے نوے فیصد ہسپتالوں میں سالہا سال سے تعینات سینٹری انسپکٹروں ‘ دارغوں اور سینٹری سپر وائزر نے اپنی جاگیر بنا لیا ہے اور یہ لوگ سروسز ٹنور پالیسی کی ہسپتالوں میں خلاف ورزیاں کررہے ہیں اور جہاں اور جس ہسپتال میں بھرتی ہوئے بعض وہاں پر ہی ریٹائر ہونے کو پہنچ چکے ہیں زیادہ تر ہسپتالوں میں گزشتہ بیس بیس سالوں سے ایک ہی ہسپتال کے اندر تعینات ہیں جہاں تک کے سینٹری ورکرز ‘ آیا ‘ وارڈ بوائز گائیڈ مینز مالی اور چوکیدار کی ڈیوٹیاں بھی ان کے رحم و کرم پر ہیں پرکشش وارڈوں اور مقامات پر ڈیوٹیاں لگوانے کے لئے مذکورہ عملہ ان چھوٹے افسروں کو باقاعدہ ماہانہ کی ادائیگی کرتا ہے ہسپتالوں کے یہ چھوٹے جاگیر دار کہلانے والے سینٹری انسپکٹرز‘ داروغے اور سینٹری سپر وائزرز من پسند مقامات پر ڈیوٹیاں لگوانے والوں سے دو سے تین ہزار روپے ماہوار نذرانہ وصول کرتے ہیں ۔اس حوالے سے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ کوئی سینٹری انسپکٹرز ہو یا پھر کوئی اور ملازم ٹنور پالیسی سے زائد ایک جگہ پر تعینات نہیں رہ سکتا اس حوالے سے مکمل تحقیقات کروائیں گے اور ایسے سینٹری انسپکٹرز یا دیگر عملہ جو ٹنور پالیسی کے برعکس ہے انہیں فوری تبدیل کردیا جائے گا جو زون انہوں نے تشکیل دے رکھے ہیں وہاں سالہا سال سے تعینات چھوٹے ملازمین کی تفصیلات بھی طلب کی جائیں گی اور ایکشن بھی لیا جائے گا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -