کرکٹ ٹیم۔۔۔دورہ نیوزی لینڈ ، عامر اور آفریدی ہوشیارباش!

کرکٹ ٹیم۔۔۔دورہ نیوزی لینڈ ، عامر اور آفریدی ہوشیارباش!

  

پاکستان کرکٹ ٹیم کا پہلا سکواڈ معتوب محمد عامر سمیت نیوزی لینڈ پہنچ گیا۔ یہ کھلاڑی شاہدخان آفریدی کی قیادت میں تین ٹی 20میچ کھیلیں گے اور اس کے بعد اظہر کی قیادت میں ایک روزہ میچوں کی سیریز ہوگی، یہ ٹیم سلیکشن کمیٹی نے چنی اور ان کھلاڑیوں سے بہت امیدیں وابستہ کی گئی ہیں تاہم ساتھ ہی ساتھ بعض خدشات بھی ہیں:ایک امر تو یہ ہے کہ جارحانہ کھیل والے عمر اکمل پہلا میچ نہ کھیل سکیں گے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں ضابطے کی خلاف ورزی پر ایک میچ کی پابندی کا شکار ہیں جس کا اطلاق انٹرنیشنل پر بھی ہوتا ہے، دوسرا مسئلہ محمد عامر کا ہے کہ اسے فکسنگ کیس میں سزا اور تربیتی کورس مکمل ہونے کے بعد ٹیم میں شامل کیا گیا کہ وہ سزا بھگت چکا، معذرت بھی کی اور کھیل پر توجہ دینے کا یقین دلایا، تاہم ٹیم منیجر انتخاب عالم نے مزید محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔انتخاب عالم کے مطابق محمد عامر کی موجودگی سے یہ مشکل پیش آئے گی کہ خود عامر اور ٹیم کے کیپٹن سے ترش سوال ہو سکتے ہیں اور میڈیا کی مخاصمت کا سامنا ہوگا، انہوں نے تحمل اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔انتخاب عالم کے بیان سے بھی پہلے یہ مسئلہ ملک کے اندر بھی پیش آیا اور یہاں بھی محمد عامر اور ان کے بعد محمد آصف اور سلمان بٹ کی بھی مخالفت کی گئی لیکن ایک آفاقی اصول کے تحت کہ جرم کی سزا بھگت لینے والے کو اصلاح کا موقع دینا چاہیے کہ وہ معاشرے کا مفید شہری بن سکے، اس پر بیرون ملک بھی اکثریت صاد کرتی اور محمد عامر کے حق میں آواز بلند ہوتی۔ تاہم محمد عامر کے لئے کھیل پر توجہ اور اپنا رویہ درست رکھنا لازم ہے کہ اب پھر ان کے کیرئیر کا سوال ہے اور اسی طرح شاہد خان آفریدی کو ملکی میڈیا سے سلوک کی طرح کا سلوک نیوزی لینڈ یا دوسرے ممالک کے میڈیا سے نہیں کرنا ہوگا ورنہ نئے مسائل پیدا ہوں گے، انتخاب عالم اور وقار یونس اس صورت حال سے آگاہ ہیں تو ہوشیار بھی رہیں اور اپنا کنٹرول رکھیں۔

مظاہرے، ٹریفک بلاک اور انتظامیہ کا کردار!

گزشتہ دو روز کے دوران دو مختلف نوعیت کے احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے میٹروبس چلنے سے رکی اور مظاہرین نے راستہ بلاک کرکے احتجاج کیا، پولیس کی بھاری جمعیت کی مداخلت پر مظاہرین کو ہٹایاگیا اور بس روانہ ہوئی۔ جہاں تک میٹروبس کا تعلق ہے تو اسے کم وقت میں روٹ پورا کرنے کے لئے خصوصی راستہ بنا کر دیا گیا ہے جو گجومتہ سے شاہدرہ تک ہے اور یہ راستہ محفوظ بھی بنایا گیا ہے تاہم مسلم ٹاؤن سے گجومتہ کے دوران جب کوئی احتجاج ہو تو مظاہرین اس سڑک پر آکر دھرنا دیتے اور مظاہرہ کرتے ہیں جو میٹرو کے لئے مختص کیا گیا ہے ، ایسا کئی بار ہو چکا ہے گزشتہ دو روز کے دوران پہلے ایک مزدور جاوید کے قتل پر مظاہرین نے بس سروس معطل کی اور فیروز پور روڈ کی ٹریفک بھی معطل کر دی۔ مقامی پولیس مظاہرین کو منانے اور ہٹانے میں ناکام رہی تو ریزرو جمعیت بلائی گئی پھر ہلکا لاٹھی چارج اور اس کے بعد مذاکرات کام آئے اور احتجاج ختم ہوا، اس سے اگلے روز (اتوار) کو نابینا افراد نے اپنے دیرینہ مطالبات منظور نہ ہونے پر احتجاج کیا اور بعض بینا حضرات ان نابیناؤں کو میٹرو روٹ پر لے آئی یوں میٹرو بھی معطل ہوئی اور فیروز پور روڈ پر بھی ٹریفک جام ہو گئی یہاں بھی پولیس کی جعمیت بلا کر بات چیت کرکے میٹرو اور ٹریفک بحال کرائی گئی۔

یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے جبکہ مال روڈ پر فیصل چوک اور شملہ پہاڑی پر پریس کلب مظاہرین کا مرکز ہیں، جو لوگ بھی احتجاج کرتے ہیں ان کی بھاری اکثریت پہلے سے اعلان کرکے آتی ہے اور اپنے دکھ اجاگر کرنے کے لئے عوام کو پریشانی میں مبتلا کیا جاتا ہے ، یہاں انتظامیہ کا کردار عجیب ہے کہ جب مطالبات ہو رہے ہوں اور احتجاج کا بھی اعلان کیا جا رہا ہو تو اس طرف کوئی دھیان نہیں دیتا اور جب مظاہرین ٹریفک بلاک کرکے شہریوں کے لئے پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں تو پھر ہوش آتا ہے اکثر سختی سے کام لیا جاتا اور بات بھی بگڑ جاتی ہے جس کے بعد مذاکرات اور یقین دہانی کے ذریعے ہی مظاہرہ ختم کرایا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں یہ انتظامیہ کی سستی ہی کہلائے گی ہونا تو یہ چاہیے کہ جو بھی متاثر ہوں اور احتجاج کا اعلان کریں متعلقہ محکمے اور انتظامیہ پہلے ہی ان کے ساتھ بات چیت کرکے مسئلہ حل کرائیں تو شہریوں کی پریشانی کم سے کم ہو سکتی ہے۔ یہ انتظامیہ ہی کی ذمہ داری ہے کہ اگر متاثرین کے حوالے سے متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ حکام متحرک نہ ہوں تو یہ ان کو آگاہ کرکے بلائے تاکہ معاملہ احسن طریقے سے حل ہو اور عوام کی پریشانی بھی کم ہو جائے۔

مزید :

اداریہ -