چودھری شجاعت حسین کی بصیرت افروز باتو ں پر توجہ کی ضرورت

چودھری شجاعت حسین کی بصیرت افروز باتو ں پر توجہ کی ضرورت

  

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل) کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء نے تمام صوبوں کو برابر کے حقوق دینے اور وزیر اعظم کی طرف سے بلائی گئی اے پی سی میں کئے گئے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقررین نے کہا تمام قومیتوں کو شریک کئے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ نا انصافی ہو گی تو جنگیں ہوں گی۔ ہمیں اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔آئین کی اٹھارہویں ترمیم پر عمل کر دیا جائے تو تمام مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ اے پی سی میں گوادر کے حوالے سے 13 نکاتی قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اے پی سی کے مطالبات میں کہا گیا کہ کے پی کے اور بلوچستان کو پسماندہ رکھا جا رہا ہے۔ حقوق کی بات کریں تو ہمیں غدار کہا جاتا ہے۔ شرکاء نے کہا کہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر کام کرنے کا وعدہ پورا کیا جائے۔ اس روٹ کو نظر انداز کرنے سے مسائل پیدا ہوں گے۔ مسلم لیگ (ق) کے جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا اقتصادی راہداری پاکستان کی ترقی کے لئے بہترین منصوبہ ہے۔ گوادر کے حوالے سے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔ سی پیک کے حوالے سے وزیر اعظم کی سربراہی میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سروسز چیفس اور گورنر سٹیٹ بینک پر مشتمل اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جائے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا کہ 46 ارب ڈالر کے منصوبے پہلے ہی تقسیم ہو چکے ہیں۔ ہمیں صرف نقشوں پر لائنیں لگا کر خوش نہ کیا جائے۔

بی این پی کی آل پارٹیز کانفرنس میں جو ٹھوس مطالبہ سامنے آیا ہے وہ یہی ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ پہلے بنایا جائے اور مئی کے مہینے میں جو آل پارٹیز کانفرنس ہوئی تھی اور اس میں جن اُمور پر اتفاق ہوا تھا، ان پر عمل درآمد کرایا جائے، جبکہ وفاقی حکومت مشرقی روٹ کو اس لئے ترجیح دینا چاہتی ہے کیونکہ یہ روٹ جہاں جہاں سے گزرتا ہے وہاں سڑکوں وغیرہ کا انفراسٹرکچر پہلے سے موجود ہے اور اسے توسیع دے کر اقتصادی راہداری کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔ تاہم اے پی سی میں محسوس کیا گیا کہ دو صوبے (خیبرپختونخوا228 بلوچستان) مغربی روٹ پر کام پہلے شروع کرنے کے حق میں ہیں۔ اب یہ کوئی ایسا اختلاف نہیں جو دور نہ کیا جا سکتا ہو، تمام فریقوں کو ماہرین کے ساتھ بیٹھ کر سنجیدگی سے ایک ہی بار یہ بات طے کر لینی چاہئے مغربی روٹ کی تبدیلی کی جو بات سامنے آ رہی ہے وہ بھی اس صورت میں واضح ہو گی جب پہلے یہ طے ہو جائے کہ روٹ نے کہاں کہاں سے گزرنا ہے، اور تبدیلی کیا ہو رہی ہے۔ وفاقی حکومت کے نمائندوں کا اصرار ہے کہ روٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی۔ اب یہ بات مل بیٹھ کر حل کرنے میں کیا قباحت ہے کہ روٹ تبدیل ہو رہا ہے یا نہیں، اور اگر نہیں ہو رہا تو مخالفین اس بات کو تسلیم کیوں نہیں کر رہے؟ اس کا حل یہی ہے کہ پہلے پرانے روٹ کا نقشہ سامنے رکھا جائے، اور اس کا موازانہ نئے روٹ (اگر کوئی ہے) سے کر لیا جائے، تو سب کچھ واضح ہوگا، وفاقی حکومت پر جو یہ الزام لگ رہا ہے کہ وہ راہداری کے روٹ کے متعلق باتیں چھپا رہی ہے وہ اسی صورت ختم ہوگا۔ اس سلسلے میں سب سے اچھی تجویز پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے پیش کی ہے۔ اگر وزیر اعظم کی سربراہی میں ان کی تجویز کردہ کمیٹی بنا دی جاتی ہے جس میں سٹیٹ بینک کے گورنر بھی شامل ہوں تو شکایات بڑی حد تک دور ہو سکتی ہیں کیونکہ انہوں نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ سٹیٹ بینک کو اقتصادی راہداری کے متعلق تفصیلی معلومات حاصل نہیں ہیں۔

ویسے اگر سیاستدان چاہیں تو مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین کا بیان بھی ان کے لئے مشعلِ راہ ہو سکتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری چین کا عظیم تحفہ ہے، سیاستدان ملکی سالمیت سے نہ کھیلیں مغربی طاقتیں اور بالخصوص ہمارا ہمسایہ ملک بھارت اس عظیم منصوبے پر خوش نہیں اور اس کے خلاف ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ اور ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ میں پہلے ہی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ یہ اقتصادی راہداری منصوبہ بلا شبہ اس خطے میں تبدیلی و تعمیر کا بہت بڑا منصوبہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم سیاستدان اس پر بالغ نظری کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ اتنے بڑے منصوبے پر سیاسی بصیرت کا فقدان بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اگر اس منصوبے کو منسوخ یا تاخیر کا شکار کیا گیا تو پاکستان اس عشرے کا سب سے بڑا قومی سانحہ برداشت نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کسی بھی مسئلے پر، کہیں بھی سو فیصد اتفاق رائے حاصل نہیں ہوتا، نہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان بھی سو فیصد اتفاق رائے کے ذریعے حاصل نہ ہوا تھا، انہوں نے کہا پاکستان میں قومی سطح کی سوچ تنزل کی آخری حد تک پہنچ چکی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد ملک چار حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے جس سے وفاق کمزور ہوا، انہوں نے کہا پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے روٹ کو ہر ایک کی خواہش اور سوچ کے مطابق تبدیل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ ہم میں سے ہر ایک کے گھر کے آگے سے گزارا جا سکتا ہے۔

چودھری شجاعت حسین سینئر سیاستدان ہیں، انہوں نے جو باتیں کی ہیں اُن میں دوسرے سیاستدانوں کے لئے بصیرت کا وافر سامان موجود ہے۔ ان کا یہ کہنا کلی طور پر درست ہے کہ سو فیصد اتفاق رائے تو کسی بات پر نہیں ہو سکتا، اور نہ ہی ہرکسی کے گھر کے دروازے کے باہر سے راہداری کا روٹ گزارا جا سکتا ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ جس حد تک اتفاق رائے ممکن ہو وہ حاصل کر لیا جائے۔ چینی سفارت خانے سے گزشتہ روز جو بیان جاری ہوا تھا اس میں بھی بصیرت کا خاصا سامان موجود ہے۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اقتصادی راہداری پورے پاکستان کے لئے ہے اور اس کے فوائد اور ثمرات سے پوری پاکستانی قوم مستفید ہو گی سیاسی جماعتیں اختلافات ختم کر کے موافق فضا قائم کریں۔ سفارت خانے کے بیان میں اہم بات یہ کہی گئی ہے کہ منصوبہ پاکستان کو ایک اکائی کے طور پر دیکھ کر بنایا گیا ہے۔ چین نے یہ توقع ظاہر کی ہے کہ تمام متعلقہ پارٹیاں اقتصادی راہداری پر اپنے روابط مضبوط کریں گی۔ تاکہ اس اہم منصوبے کے لئے موافق حالات پیدا کئے جا سکیں۔

چین پاکستان کا اقتصادی شریک کار ہی نہیں قریبی دوست اور خیر خواہ بھی ہے۔ چینی سفارت خانے کے اس بیان کے اندر بین السطور ایک پیغام بھی پوشیدہ ہے کہ اگر اختلافات کی خلیج وسیع ہوتی رہی اور اتفاق رائے میں غیر معمولی تاخیر کر دی گئی تو اس سے راہداری منصوبے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سفارتی زبان میں ’’برہنہ گوئی‘‘ سے اجتناب کیا جاتا ہے چینی سفارت خانے کے بیان میں جو بات سفارتی رکھ رکھاؤ کے ساتھ کہی گئی چودھری شجاعت حسین نے وہی بات زیادہ کھول کر اور اپنے مخصوص انداز میں بیان کر دی جس کا پیغام یہ ہے کہ اتفاق رائے کے نام پر ہر کوئی اپنی لایعنی باتیں منوانے کے خبط میں مبتلا نہ ہوجائے معقول حد تک اتفاق تو ہو سکتا ہے لیکن سو فیصدنہیں۔ ہمارے سیاستدانوں کو اس بات پرشرح صدر کے ساتھ غور کر لینا چاہئے۔

آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت کے نمانئدے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کانفرنس میں پیش کیا جانے والا نقشہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ آفیشل نقشہ نہیں ہے۔ چین سے گوادر تک کسی بھی موٹر وے کی فنانسنگ چین کی طرف سے نہیں کی گئی اقتصادی راہداری کے تحت آنے والے 46 ارب ڈالر پاکستان کی صوابدید پر ہیں اور نہ ہی یہ سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہے۔ ان میں سے 35 ارب ڈالر توانائی کے شعبے میں لگ رہے ہیں جبکہ 11 ارب ڈالر انفراسٹرکچر اور شاہراہوں پر لگیں گے 46 ارب ڈالر پہلا فیز ہے 2030ء تک کئی سو ارب ڈالر پاکستان آئیں گے کسی بھی سطح پر کسی بھی مرحلے پر کسی بھی صوبے سے امتیازی سلوک نہیں ہوگا۔ اب یہ یقین دہانی احسن اقبال نے کرا تو دی ہے لیکن مخالفین مطمئن نہیں تو اس کا حل یہ ہے کہ وزیر اعظم نوازشریف خود ان اختلافات کو حل کرائیں اور اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ مئی میں ہونے والی اے پی سی میں جو باتیں طے ہو گئی تھیں ان پر عملدرآمد کرا دیں ان سے یہی مطالبہ کیا بھی گیا ہے جہاں تک گوادر، بندر گاہ کے بارے میں مطالبات کا تعلق ہے ان پر بھی بیٹھ کر اختلاف رائے دور کیا جا سکتا ہے۔

مزید :

اداریہ -