پلوامہ میں قبرستان کو مزار شہدا کے نام سے منسوب کرنے کے مطالبے کے حق میں ہڑتال

پلوامہ میں قبرستان کو مزار شہدا کے نام سے منسوب کرنے کے مطالبے کے حق میں ...

  

سری نگر(کے پی آئی) جنوبی کشمیر کے قصبے پلوامہ میں قبرستان کو مزار شہدا کے نام سے منسوب کرنے کے مطالبے کے حق میں پیر کو مسلسل 11 ویں روزبھی مکمل ہڑتال رہی۔ اس دوران بھارتی فورسز نے چھاپوں کے دوران 30سے زیادہ نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ۔ تفصیلات کے مطابق پلوامہ قصبہ میں کشیدگی برقرارہے اور مقامی شہید پارک پرمخصوص بورڈآویزاں کرنے کے مطالبے کے حق مسلسل 11 ویں روزبھی مکمل ہڑتال رہی ۔پلوامہ میں گزشتہ11 روزسے مسلسل ہڑتال جاری ہے جسکے نتیجے میں یہاں تمام کاروباری اورعوامی سرگرمیاں عملا مفلوج ہوکررہ گئی ہیں۔شہید پارک پرایک مخصوص بورڈآویزاں کرنے کے معاملے کولیکرقصبہ میں صورتحال بدستور کشیدہ بنی ہوئی ہے اورقصبہ میں عوامی سرگرمیاں بری طرح سے متاثرہورہی ہیں۔ وشہ بگ میں شبانہ چھاپوں اورگرفتاریوں کیخلاف احتجاج اورسنگ باری کررہے مشتعل نوجوانوں کومنتشرکرنے کیلئے پولیس اورفورسزنے شلنگ کی جبکہ تازہ چھاپوں کے دوران 30سے زیادہ نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔ ادھر مقامی تاجروں کی تنظیم اوراوقاف کمیٹی نے ضلع انتظامیہ کو سوموار تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔پلوامہ میں شہید پارک میں یادگار نصب کرنے کی اجازت نہ دینے اور جبروزیادتیوں پر فریڈم پارٹی ، دختران ملت اور مسلم کانفرنس کے سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے عوام کے جذبہ حریت کی سراہنا کی ہے۔ فریڈم پارٹی کے محبوس سربراہ شبیر احمد شاہ نے پلوامہ میں نہتے عوام کے خلاف پولیس کی جبر و زیادتیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا پلوامہ میں عوامی حلقوں نے شہداکی یاد گار قائم کرنے سے متعلق جائز مطالبے کو لے کر جو مہم جاری رکھی ہے ہم اس کی بھر پور اورمکمل حمایت کرتے ہیں ۔شبیر شاہ نے پلوامہ کے عوام اور باالخصوص جوانوں کا شہداکے تئیں ان کے جذبات اور استقامت کے مظاہرے کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے شہداتحریک جدوجہد کے روشن ستارے ہیں اور ان کے لئے یادگاری بورڑ نصب کرنا کسی بھی صورت میں قانون شکنی نہیں بلکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ قوم اپنے ان عزیزوں کی یادگار قائم رکھنے میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے اور جن لوگوں کی وجہ سے قومی تفاخر اور افتخار کا اظہار ہوتا ہو، انہیں یاد کرنا اور ایک فطری جذبہ ہے جسے کسی بھی صورت میں دبانا یا روکنا ممکن نہیں ۔

شبیر شاہ نے پلوامہ میں پولیس حکام کی جانب سے نہتے عوام کے خلاف پیلٹ گن استعمال کرنے اور گرفتاریوں کا چکر چلانے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے گرفتار کئے گئے جوانوں کی فوری رہائی کا مطالبہ دہرایا۔ ادھر دختران ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی نے پلوامہ کے عوام کو ان کے عزم و ہمت اور استقامت کیلئے سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے 11 دنوں سے ان لوگوں نے رواں جدوجہد میں فورسز کے ہاتھوں لڑتے ہوئے جاں بحق عسکریت پسندوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک یادگاری بورڈ نصب کرنے کیلئے جو احتجاج جاری رکھا ہوا ہے ،وہ تمام مسلمانان کشمیر کیلئے ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے جنوبی کشمیر نے جس طرح سے عسکری و سیاسی جد جہد میں سبقت لے رکھی ہے وہ قابل ستائش ہے اور جنوبی کشمیر کا ضلع پلوامہ ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔آسیہ اندرابی نے کہاکہ میں ان سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ تب تک ثابت قدم رہیں جب تک کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتے، دوم وہ اس بات پر بھی غور کریں کہ اگر خدا نخواستہ مستقبل میں کوئی مہمان عسکریت پسند جاں بحق ہوتا ہے تو اس کی جسد خاکی کو بھی وہیں دفن کرنا یقینی بنائیں جہاں ہمارے مقامی مجاہد دفن ہوتے ہیں اور اس ضمن میں وہ علماسے رہنمائی طلب کریں۔انہوں نے نوجوانوں کی گرفتاریوں کی مذمت کی۔ اس دوران مسلم کانفرنس چئیرمین شبیر احمد ڈار نے پلوامہ میں مقامی آبادی کو طاقت کے بل پر شہیدی پارک میں بورڈ نصب نہ کرنے کی کارروائی کو بلاجواز اور ریاستی ظلم وستم سے تعبیر کرتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ کی ساری آبادی غیرتمند اور حریت پسند ہیں اور انہیں بزور بازو کسی قیمت پر نہ تو دبایا جاسکتا ہے اور نہ ہی انکے عزم و ارادوں کو ہرایا جاسکتا ہے ۔

مزید :

عالمی منظر -