محکمہ داخلہ نے پاکستانی پولیس کو بین الاقوامی معیار پر لانے کیلئے تجاویز پیش کر دیں

محکمہ داخلہ نے پاکستانی پولیس کو بین الاقوامی معیار پر لانے کیلئے تجاویز ...

  

لاہور(شہباز اکمل جندران) پاکستانی پولیس بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتی ، وزارت داخلہ نے تسلیم کرلیا۔معیار کو بہتر بنانے کے لیے بجٹ بڑھایا جائے،بین الاقوامی معیار کے تربیتی مراکز قائم کئے جائیں،آبادی کے تناسب سے نفری رکھی جائے اور پولیس افسروں کو تفتیش کے جدید ترین طریقوں سے روشناس کیا جائے ۔محکمے نے وفاقی حکومت کو تجاویز پیش کردیں۔معلو م ہواہے کہ وزارت داخلہ نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستانی پولیس بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتی جس کی کئی وجوہات ہیں ۔محکمہ داخلہ نے وفاقی حکومت کوتجاویز پیش کی ہیں کہ پولیس کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں بین الاقوامی معیار کے تربیتی مراکز قائم کئے جائیں جہاں پولیس اہلکاروں اور افسروں کو جدید ترین طریقوں سے تربیت دی جائے۔پولیس فورس کا بجٹ بڑھایا جائے کیونکہ کم بجٹ کی وجہ سے نہ صرف بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں بلکہ ضروری آلات ، اسلحہ اور ایمونیشن کی خریداری بھی نہیں ہوپاتی جس کی وجہ سے جرائم کے تناسب میں اضافہ ہوتا ہے ۔یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ آبادی کے تناسب سے پولیس میں نفری رکھی جائے۔بتایا گیا ہے کہ ملک کی 20کروڑ کے لک بھگ آباد ی میں جرائم کی روک تھام اور امن وامان کے قیام کے لیے مجموعی طورپر ڈیڑھ ہزار سے زائد پولیس سٹیشن ہیں۔ پولیس کی منظور شدہ نفری کی تعداد سوا 3لاکھ سے زائد ہے لیکن عملی طورپر یہ تعداد تین لاکھ سے بھی کم ہے اور 20کروڑ کے لگ بھگ آبادی کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتی۔یہ بھی علم میں آیا ہے کہ پاکستانی پولیس فورس میں کرپشن کا عنصر حد درجے سرایت کرچکا ہے جس کی بڑی وجہ پولیس کا ناقص سیلری سٹرکچر ہے۔ کم تنخواہ کی وجہ سے اکثر اوقات پولیس اہلکار رشوت لینے لگتے ہیں اور لالچ میں آکر نہ صرف فورس کا تقدس پامال کرتے ہیں بلکہ اکثر اوقات مظلومین اور مستحقین سے انصا ف بھی نہیں کرپاتے ۔کرپشن کے خلاف سرگرم عمل غیر سرکاری بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی 2010کی ایک رپورٹ کے مطابق 2002، 2006اور 2009کے سروے میں پاکستان کے کرپٹ سرکاری اداروں میں پولیس سب سے پہلے نمبر پر ہے اور عوام کو کرپشن کے متعلق سب سے زیادہ شکایات پولیس کے خلاف ہوتی ہیں۔ذرائع کے مطابق واچ اینڈ وارڈ سے لیکر تفتیش تک اور انٹیلی جنس سے لیکر جرائم کی روک تھام تک پولیس اہلکار ہرکام اور ہر شعبے میں رشوت لیتے ہیں۔پولیس اہلکاروں میں سے بیشتر ایسے ہیں جو فرائض کی بجاآوری میں پیشہ ورانہ دیانت اور جوش و جذبے پر ذاتی اور مالی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔

مزید :

علاقائی -