نیشنل ایکشن پلان مسلم لیگ(ن) کا پلان ہے ،کرپشن کیسز میں دہری پالیسی ترک کرنا ہو گی:بلاول بھٹو

نیشنل ایکشن پلان مسلم لیگ(ن) کا پلان ہے ،کرپشن کیسز میں دہری پالیسی ترک کرنا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور ( نمائندہ خصوصی ، مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک مرتبہ پھر نیشنل ایکشن پلان کو ( ن لیگ) ایکشن پلان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کرپشن کے خاتمے کے لیے دوہرا معیار ختم کرنا ہو گا اقتدار میں آکر فرینڈلی جوڈیشل سسٹم لایا جائے گاازخود نوٹس لینے کا معیار مقرر ہونا چاہئے ، اعلی عدلیہ میں ججز کی تقرریوں میں صدر اور پارلیمانی کمیٹی کو کوئی کردار نہیں دیا گیا ۔ ججوں کی تقرری کے لئے صرف جج ہی نہ ہوں ، پارلیمنٹ، صدر اور وزیراعظم اور بار کونسل بھی ججوں کی تقرری میں شامل ہونے چاہئیں،وہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر ’’پاکستان کے مستقبل ‘‘کے موضوع پر بار کے کراچی شہداء ہال میں وکلاء سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر ہائی کورٹ بار کے صدر پیر مسعود چشتی ، نائب صدر عرفان عارف شیخ ، سیکرٹری محمد احمد قیوم ، سیکرٹری فنانس اختر شیرازی ، پی پی پی پنجاب کے صدر منظور احمد وٹو ، سابق صدر جہانگیر بدر ، ایم پی اے شوکت بسراء ، سابق وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی ، سپریم کورٹ بار کی سابقہ صدر عاصمہ جہانگیر ، سابق جج ملک سعید حسن ، احسن بھون ، سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل تنویر ہاشمی ، سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ ، پیپلز لائرز فورم پنجاب کے صدر خرم لطیف کھوسہ ، افتخار شاہد ، میاں شاہد عباس سمیت پیپلز پارٹی کے کارکن وکلاء دیگر نے بھی شرکت کی ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ بار جمہوریت کے لئے ماڈل ہے ۔ بار نے کبھی دھرنے نہیں دئیے ، دھاندلی کے خلاف مظاہرے نہیں کئے ، سیاستدانوں کو مینڈیٹ کا احترام بار سے سیکھنا چاہئے ۔1977کا مارشل لاء ہو یا 2007کا وکلاء جب بھی اٹھے ڈکٹیٹر شپ کا خاتمہ ہواْ ۔ ہمارے قائد بھی وکیل تھے اور ذوالفقار علی بھٹو بھی وکیل تھے ، ایک نے ہمیں ملک دیا اور ایک نے آئین دیا ۔ لیکن قوم کی ناکامی کی وجہ اسٹیبلشمنٹ اور سب سے بڑی غلطی عدلیہ کی ہے کیونکہ ملک کے منتخب وزیر اعظم کا عدالتی قتل ہوا۔ لاڑکانہ کے وزیراعظم اور لاہور کے وزیر اعظم کے جوڈیشل فیصلوں میں بڑا فرق ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نیشنل ایکشن پلان کو نون لیگ ایکشن پلان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع نے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ گیس پائپ لائن منصوبے پر وہ افغان طالبان سے مذاکرات کریں گے میں اس حکومت کے وزیر دفاع سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا نان سٹیٹ ایکٹرز سے بات کرنا سٹیٹ کی پالیسی ہے آرمی پبلک سکول کے شہداء نے دہشت گردی کے خاتمے کا راستہ ہموا ر کیا لیکن یہ حیران کن ہے کہ اب بھی کہا جاتا ہے کہ کیا یہ جنگ ہماری ہے یا کسی اور کی، وزیر اعلی پنجاب بھی کہتے ہیں کہ طالبان پنجاب میں حملے نہ کریں آرمی پبلک سکول کے واقعے کے بعد سزائے موت پر پابندی ختم ہوئی اور اب تک تین سو سے زائد پھانسیاں دی جا چکی ہیں میں حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ عام مجرم تھے یا دہشت گرد ذہنی معذور اور بچوں کو پھانسی پر لٹکانا کیا دہشت گردی کا خاتمہ ہے کرپشن کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کرپشن کے مقدمات میں دوہرا معیار نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی کوئی مقدس گائے ہونی چاہئے ۔ ایک طبقے کے لئے ایک قانون اور دوسرے طبقے کے لئے دوسرا قانون نہیں ہونا چاہئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے ڈکٹیٹر شپ کی معاونت کی اور جنھوں نے اس کی توثیق کی ان کی غیرجانبداری پر سوالیہ نشان ہیں آئین کہتا ہے کہ جو آئین سے انخراف کرنے میں مدد کرے یا معاونت کرے وہ بھی بغاوت کا مجرم ہے ، وکلاء کو اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہئے ۔قانون کی کتابوں میں لکھے ہوئے حقوق لوگوں کو ملنے چاہئیں ۔ وکلاء قانون کا تخفظ کریں ، بار کو سہولت کی ضرورت ہے اور لوگوں کو انصاف کی ۔ اس کے لئے اصلاحات ہونی چاہئیں اور ماتحت عدالتوں میں جلد انصاف ہونا چاہئے ، توہین رسالتﷺ کے قانون کے غلط استعمال پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اقلیتوں کے خلاف اس قانون کا غلط استعمال بند ہونا چاہئے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پارلیمنٹ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہئے اور غلط استعمال کو روکنے کے لئے قانون سازی ہونا چاہئے ۔ اعلی عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 2013سے اب تک اعلی عدلیہ میں 126تقرریاں کی گئیں لیکن پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے صرف آٹھ نامزدگیوں پر اختلاف کیا گیا۔ صدر زرداری کے سپریم کورٹ کو اس معاملے پر بھجوائے گئے ریفرنس پر سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صدر اور پارلیمانی کمیٹی کا صوابدیدی اختیار نہیں ۔ جوڈیشل کمیشن نے اپنے رولز خود بنائے ، سیکریسی بنائی ، تین چار کے سوا اس کے تمام ممبرز جج ہیں ۔ آئین کہتا ہے کہ پارلیمنٹ کی کئی گئی ترمیم چیلنج نہیں ہو سکتی ۔ لیکن یہاں ایسا نہیں ہے ، بلاول بھٹو نے کہا کہ عدلیہ کا کام فیصلے کرنا ، پارلیمنٹ کا کام قانون بنانا اور انتظامیہ کا کردار بھی واضح ہے لیکن حیران کن طور پر سابق چیف جسٹس نے چئیرمین نیب ، سروس ٹربیونلز کے سربراہان کی تقرریوں کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔ حالانکہ ایسا نہیں ہو سکتا تھا ۔انھوں نے سینٹ کمیٹی کی جانب سے ازخود نوٹس کے اختیار پر دی گئی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ از خود نوٹس کا استعمال پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا ۔ ازخود نوٹس کا مناسب استعمال اور اس کا ایک معیار بھی مقرر ہونا چاہئے ۔

لاہور( نمائندہ خصوصی ) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے وقت میں پنجاب میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کیا جائے گا پارٹی کے تمام سنئیرز لیڈروں اور نئے لیڈروں وکارکنوں کے ساتھ ملکر شہید زوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو شہید والی پارٹی بنایا جائے گا ۔چیرمین نے تفصیل کے ساتھ پر پارلیمینٹرین کی باتوں کو سنا اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے اقدامات کی یقین دہانی بھی کروائی ۔چیرمین نے ان پارلیمینٹیرین سے کہا کہ وہ پنجاب میں مشکل حالات میں بھی پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں جس سے ان کی پارٹی کے ساتھ وفا داری اور بھٹو شہید بے نظیر بھٹو شہید کے نظرئیے سے محبت ثابت ہوتی ہے انہوں نے ان پارلیمینٹرین کی خدمات کو بھی سراہا۔پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں دو بڑی سیاسی سرگرمیاں کی ہیں جس میں انہوں نے لاہور ہائی کورٹ بار اور امیر بیگم ویلفئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام پچاس اجتماعی جوڑوں کی شادیوں کی تقریب میں شرکت کی ہے ان دونوں تقریبات میں شریک ہو کر انہوں نے غریب آدمی اور ملک کے دانشور طبقے کو اعتماد میں لیا ہے ۔انہوں نے چیرمین سے کہا کہ آپ کو فوری طور پر پنجاب میں اپنی ایک نئی ٹیم بنا لینی چاہئے اور اب پنجاب میں ایک حقیقی اپوزیشن کرنی چاہئے۔

مزید :

صفحہ اول -