چار ملکی رابطہ کمیٹی کا اجلاس،افغان امن مذاکرات کامیاب بنانے کیلئے 4نکات پیش

چار ملکی رابطہ کمیٹی کا اجلاس،افغان امن مذاکرات کامیاب بنانے کیلئے 4نکات پیش

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،اے این این،صباح نیوز،این این آئی )افغانستان میں امن عمل کی بحالی کیلئے پاکستان ،افغانستان،امریکہ اور چین کے نمائندوں پر مشتمل چار فریقی رابطہ کمیٹی کا اسلام آباد میں اجلاس، پاکستان نے امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے چار نکات پیش کردئیے،رابطہ کمیٹی کااگلا اجلاس کابل میں متوقع، طالبان کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق افغان امن عمل بارے میں پاکستان ،افغانستان، امریکہ اور چین کے نمائندوں کا چار فریقی اجلاس گزشتہ روز اسلام آباد میں ہوا جس کا مقصد طالبان کے ساتھ امن بات چیت کے دوبارہ آغاز کیلئے لائحہ عمل اور اقدامات طے کرنا تھا۔ اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری، افغان وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ خلیل حکمت کرزئی نے کی جبکہ امریکہ کی طرف سے پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکی خصوصی نمائندے رچرڈ اولسن اور افغانستان کیلئے چین کے امور خاص کے منتظم ڈینگ شی جن اجلاس میں شریک ہوئے ۔ اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے افغانستان میں مفاہمتی عمل کے فروغ کیلئے چار نکات پیش کیے ۔ انہوں نے طالبان کو ہتھیاروں سے دور کرنے کیلئے انہیں مراعات دینے ، متحارب گروپوں کے درمیان اعتماد سازی اور امن عمل کوبڑھانے کیلئے ایک واضح اور لچکدار لائحہ عمل وضع کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں مصالحتی عمل غیر مشروط ہونا چاہیے کیونکہ مذاکراتی عمل کے آغاز کے لیے کسی قسم کی شرائط عائد کرنا مدد گار ثابت نہیں ہو گا۔سرتاج عزیز نے کہا کہ تمام طالبان گروہوں کو مذاکراتی عمل کی پیشکش کی گئی ہے اور طالبان گروہوں کی جانب سے اس پیشکش کے جواب سے قبل فوجی کارروائیوں کی دھمکی مثبت قدم نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ مصالحتی عمل کا اہم ہدف ایسی صورتحال پیدا کرنا ہے کہ طالبان گروہ مذاکراتی عمل کا حصہ بنیں اور سیاسی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے مسلح جدوجہد کو ترک کریں۔ دریں اثناء چار فریقی رابطہ کمیٹی کا اگلا اجلاس کابل میں متوقع ہے جس میں ممکنہ طورپر طالبان کے نمائندے بھی شریک ہونگے۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی،صباح نیوز) افغان مفاہمتی عمل پر پہلے چار فریقی اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق افغانستان میں قیام امن کیلئے شدت پسندی کا خاتمہ ضروری ہے۔ اجلاس میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جلد براہ راست مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اعلامیے کے مطابق افغان قیادت نے مفاہمتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ چار ملکی کمیٹی کا اگلا اجلاس 18 جنوری کو کابل میں ہوگا۔

مزید :

صفحہ اول -