قومی منصوبوں پر سیاست نہ کی جائے،رضا کارانہ ٹیکس ادائیگی سکیم ماضی کی ایمنسٹی سیکم سے مختلف ہے:اسحٰق ڈار

قومی منصوبوں پر سیاست نہ کی جائے،رضا کارانہ ٹیکس ادائیگی سکیم ماضی کی ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ قومی اہمیت کے منصوبوں پر سیاست نہ کی جائے ،مارچ 2018 تک توانائی کے بحران پر قابو پالیں گے اور 10 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کردیں گے ،ایٹمی پاکستان کو معاشی طور پر بھی مستحکم ہونا چاہیے ،رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی اسکیم ماضی کی ایمنسٹی سکیم سے مختلف ہے ،تاجروں کو ملکی معاشی ترقی کیلئے اعتماد میں لیا ہے ،چین کی 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ملک میں خوشحالی آئے گی، چین کے بعد سعودی عرب بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے ، پاکستان کی بہتری کے لیے ہر قدم اٹھائیں گے،کوشش کررہے ہیں ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا جائے۔پاکستان سٹاک ایکس چینج کی افتتاح تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کاکہنا تھا کہ معیشت کی مضبوطی میں اسٹاک ایکس چینج کا کلیدی کردار ہوتا ہے،پاکستان اسٹاک ایکس چینج کا خواب پورا ہونے میں 15 سال لگے،میرا ایمان ہے کہ پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے۔ مارچ 2018 تک توانائی کے بحران پر قابو پالیں گے اور 10 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کردیں گے ، ہم نے مسلسل محنت کے ذریعے اپنے اہداف کم مدت میں حاصل کیے ،پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ملک بن چکا ہے ، پاکستان کی ریٹنگ منفی سے مثبت ہوگئی ہے ، جیٹرو کے مطابق پاکستان سرمایہ کاری کیلئے دوسرا پرکشش ملک ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے 22 مالیاتی اداروں نے پاکستان کی معاشی کارکردگی کو سراہا،آیندہ ڈھائی سالوں میں روزگار کے مواقع پر توجہ دیں گے ،امن کی بحالی اور معاشی بہتری کے بعد سرمایہ کار پاکستان آرہے ہیں ،حکومت نے ملک کے ہر حصے میں اپنی رٹ قائم کی ہے،انسداد دہشتگردی سے متعلق حکومتی کوششوں کے فوائد آرہے ہیں ،کراچی سے فاٹا تک امن کے لیے بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔ہماری حکومت نے ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا ، بلوچستان میں قومی ترانے اور قومی پرچم لہرائے جارہے ہیں ،موجودہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔اپنے خطاب میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ معیشت کی بحالی کے لیے واضح روڈ میپ بنا یا ہے ، پاکستان کی منزل کے حصول کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ،معیشت ، تعلیم اور صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے کوشاں ہیں۔ہمیں توانائی بحران اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مسائل حل کرنا ہیں ،قانون سازی سے متعلق حکومت کا وڑن واضح ہے ،مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر قانون سازی کی جارہی ہے،نیک نیتی سے تمام کام کیے جاسکتے ہیں ،2013 میں پاکستان سے متعلق کی جانے والی پیشگوئیاں غلط ثابت کردیں، پاکستان کے پاس 6 ماہ کے زرمبادلہ ذخائر ہیں ۔

مزید :

صفحہ اول -