الزامات جھوٹے ہیں ،کامران کو نیب طلب کر یگی توپیش ہو جائینگے،امجد کیانی

الزامات جھوٹے ہیں ،کامران کو نیب طلب کر یگی توپیش ہو جائینگے،امجد کیانی

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سابق آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کے بھائی بریگیڈیئر (ریٹائرڈ )امجد پرویزکیانی نے کہا ہے کہ ان کے بھائی کامران کیانی پر جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں ،وہ کاروباری سلسلے میں ملک سے باہر ہیں ،انہیں جب بھی نیب طلب کرے گی تب پیش ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے سے سابق آرمی چیف کو علیحدہ رکھا جائے اور ہم تینوں بھائیوں بابر ،کامران اور میری تحقیقات کرلی جائے۔دنیا نیوز کے پروگرام ’’نقطہ نظر ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کامران آج سے بزنس میں نہیں بلکہ 1999سے کاروبار سے منسلک ہے۔ 2000میں کامران کو پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کی ڈویلپمنٹ کا کنٹریکٹ ملا جس کی کل مالیت 600ملین روپے تھی ،اگر کامران نے ان پیسوں میں سے بیس فیصد بھی بچائے تو یہ بہت بڑی رقم ہے۔بریگیڈ یئر ریٹائرڈ امجد کیانی نے کہا کہ حماد ارشد کو ایک بار ملا ہوں۔دو مہینے پہلے میں نے حماد ارشد سے ملاقات کی تھی اور اس سے پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے ،اس نے بتایا کہ یہ ہمارا معاہدہ تھا اور اس میں کچھ مسائل آگئے ہیں۔حماد ارشد کے مطابق معاہدہ 2009میں ہوا تھا جس میں 2011میں مسائل آنا شروع ہو گئے اور یہ مسائل 2012تک رہے۔یہ سارے مسائل سابق آرمی چیف کے دور میں آرہے تھے۔اگر کامران کیانی یا میں بہت اثر و رسوخ رکھتا تو ان سے کہتے کہ یہ معاملہ ٹھیک کردیں۔ان کا کہنا تھا کہ الزائیم اور گلیپکو کا ڈی ایچ اے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے بتا یا کہ ڈ ی ایچ اے نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس کے بعد سے جھگڑا زیادہ ہو گیا۔ڈی ایچ اے ایک پراپرٹی ڈویلپر اتھارٹی ہے جو پراپرٹی کو ڈویلپ کرتے ہیں۔ڈی ایچ اے کسی کو قومی مجرم کیسے کہہ سکتاہے۔جب شہدا اور غازیوں کے نام لیے گئے کہ ان کے پیسے لے کر کامران کیانی بھاگ گیا ہے۔اس بات پر ہم نے سوچا کہ اپنی خاموشی کو توڑا جائے اور صورتحال کو کلیئر کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈی ایچ اے والے معاملے میں مجھے نہیں پتہ کہ غلطی کس کی ہے۔یہ غلطی یا ڈی ایچ اے کی ہو گی یا دوسری پارٹی جو کہ ہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے نے پریس ریلیز میں کامران کیانی کا نام لیا ،دوسرے دن جب ڈی ایچ اے نے اشتہار دیا تو اس میں کامران کا نام کیوں نہیں دیا ،اس میں صرف حماد ارشد کا نام ہی تھا۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ تحقیقات کسی کے بھی خلاف شروع ہو سکتی ہے۔اگر کسی کے خلاف تحقیقات شروع ہوتی ہے تو کیا وہ مجرم بن جا تا ہے۔اس معاملے میں سب سے زیادہ خراب بات یہ ہے کہ ہم میں سے کسی بھی بھائی کی بات ہوتی ہے تو اس کے ساتھ سابق چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بھی لنک کرلیا جاتا ہے۔ان کا اس سے کیا تعلق ہے ،اگر میں قتل کردوں تو اس سے سابق چیف آف آرمی سٹاف کا کیا تعلق ہے ، آپ مجھے لٹکا دیں۔اگرسابق آرمی چیف نے مدد کرنی ہوتی تویہ پراجیکٹ گھوڑے کی طرح بھاگتا اور ایسا نہیں ہوا۔انہوں نے کہاکہ میرا گھر اس قابل نہیں کہ ایک بار کے بعد کوئی دوسری بار آجائے ،ارب پتی اس طرح نہیں رہتے۔میرا چھوٹا بھائی اسلام آباد کے ایک فلیٹ میں رہتا ہے ،سارا دن مزدور ی کرتا ہے۔بغیر کسی ثبوت کے ہر چیز کو اٹھا کر ہمارے نام کے ساتھ جوڑ دینا غلط ہے۔اور ہر چیز کے ساتھ سابق چیف کو لنک کردینا اس سے بھی زیادہ غلط بات ہے۔ہم جس ادارے میں رہے ہیں اس کی بڑی توقیر ہے اور ہم چاروں بھائیوں نے اس میں نوکری کی ہے۔میں نے بتیس سال یونیفارم پہنا ہے اور بڑے بھائی نے چالیس سال یونیفارم پہنا،ہم سات نسلوں سے اس پیشے سے منسلک ہیں۔کیا ہم تھوڑے بہت پیسے کمانے کے لیے اس کی توقیر کو بیچ دیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -