پاک بھارت مذاکرات، تدبر کا امتحان، وزیر اعظم محتاط ہیں

پاک بھارت مذاکرات، تدبر کا امتحان، وزیر اعظم محتاط ہیں

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

تجزیہ نگار اور اینکر حضرات ایک آواز سے کہہ رہے ہیں کہ پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے تدبر کا امتحان شروع ہو گیا کہ وہ اس مسئلہ کو باہمی رواداری اور تعاون سے حل کریں کہ ان نان سٹیٹ ایکٹروں کا یہ وار خالی جائے جو دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر نہیں دیکھ سکتے اور اختلافات میں شدت چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے بھارتی میڈیا نے مسلسل رقیبانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے حتیٰ کہ ایک اخبار نے بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے حوالے سے یہ مصدقہ خبر شائع کر دی کہ 15 جنوری کو اسلام آباد میں ہونے والے خارجہ امور کے سیکریٹری حضرات کے مذاکرات ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔ بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر کو اس کی تردید کرنا پڑی اور انہوں نے کہا کہ اس اخبار کو کوئی انٹرویو نہیں دیا ادھر امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز نے یہ کہا کہ یہ ملاقات طے ہے اور ہو گی۔ یوں ایک کنفیوژن پیدا کر دیا گیا ہے۔ تاہم سرکاری سطح پر وزیر اعظم اور حکام محتاط رویے ہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو واجب ہے کہ اول تو تحقیقات کی تکمیل سے قبل کسی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں۔ دوسرے تحقیقات، مخاصمانہ نہیں۔ غیر جانبدارانہ اور خطے کے امن کو سامنے رکھ کر ہونا چاہئے تبھی بہتر نتیجہ نکلے گا اور مذاکرات کے التوا کو تو عالمی سطح پر بھی پسند نہیں کیا جائے گا۔ امریکہ، چین اور روس کے علاوہ برطانیہ سے بھی یہی رائے آئی ہے اس لئے مثبت توقع رکھنا چاہئے، میڈیا اور عوام کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔

یہ تو خطے میں پاک بھارت تعلقات کا سلسلہ ہے جو جڑتے ٹوٹتے رہتے ہیں اور یوں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی صرف انسانی ذہنوں پر نہیں معاشی اور اقتصادی ترقی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے کہ امن ہو تو بے شمار اخراجات بچا کر بہبودِ عوام پر خرچ ہو سکتے ہیں جبکہ ذہنی سکون بھی حاصل ہوتا ہے توقع بہتری کی ہے۔ اللہ خیر کرے گا۔

یہ تو برصغیر کی بات تھی جو سلسلہ چل رہا ہے یہاں تو خود اندرونی حالت نے وزیر اعظم کو امتحان میں ڈالا ہوا ہے جو بہت ٹھنڈے مزاج اور دھیمے لہجے کا مظاہرہ کرتے چلے آ رہے ہیں یوں بھی ان کو کیا ضرورت پڑی ہے ان کے وزرا اور مشیر جو موجود ہیں۔ ابھی سندھ اور پیپلزپارٹی سے چھیڑ خوباں والی بات تھی اور ٹھنڈی ہو کر پھر سے گرم ہوتی جا رہی ہے کہ اقتصادی کاریڈور پر اوپر تلے دو کانفرنسیں ہو گئی ہیں اور تینوں صوبوں نے اپنے تحفظات کا اظہار شروع کر دیا ہے ایک بار پھر تدبر والی بات سامنے آئی ہم نے ان سطور میں ایک سے زیادہ مرتبہ گزارش کی تھی کہ وزیر اعظم خود مداخلت کریں اور پھر سے پارلیمانی جماعتوں اور اہم سیاسی راہنماؤں کو اکٹھا کر کے بات کریں۔ وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ سندھ سے بات کی تو نتیجہ مثبت نکلا لیکن پھر مصلحت آڑے آ رہی ہے وزیر داخلہ سندھ نہیں گئے حالانکہ اعلان کیا جا چکا تھا اگرچہ ان کے جانے سے بھی فرق نہ پڑتا اور اب تو پیپلزپارٹی ذہنی طور پر حالات کا سامنا کرنے کو تیار ہے اگرچہ آصف علی زرداری اب بھی وزیر اعظم کو خط لکھنا چاہ رہے ہیں اچھا ہے کہ کر گزریں شاید اسی طرح کوئی بات بن جائے کہ محاذ آرائی کسی صورت بہتر نہیں۔ پیپلزپارٹی کو تو بہر حال اپنے مورچوں کا جائزہ لینا ہی ہوگا کہ بات ڈاکٹر عاصم اور منور تالپور تک نہیں رکے گی حالانکہ اس سے کہیں پہلے سابق وزرا اعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کو جواب دہ ہونا تھا اور ہونا ہے تاہم ابھی تک بات ڈاکٹر عاصم کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس سلسلے میں پیپلزپارٹی کی ایک دلیل میں وزن ہے کہ ریفرنس صرف انہی کے خلاف کیوں؟ دوسری جماعتیں اور صوبوں کو استثنا کیوں ملا ہوا ہے؟ بلوچستان اور کے پی کے کے تو کئی سکینڈل بھی سامنے آئے تھے اب پیپلزپارٹی نے پنجاب کی طرف رخ کر لیا ہے یوں بھی تمام امور شفاف تو ہوتے نہیں۔ اعتراض اور تنقید کی گنجائش تو کیا الزام بھی لگائے جا سکتے ہیں۔ اس لئے اس پر غور کرنا کہ واقعی امتیازی سلوک نہ ہو، لازمی ہے۔

اندرونی استحکام ہی سے بیرونی مسائل سے عہدہ برآ ہونے میں سہولت ہوتی ہے۔ سعودی عرب، ایران تعلقات میں تنی ہوئی رسی پر چلنا پڑ رہا ہے کہ جائیں تو جائیں کہاں والی بات بھی آ ہی جاتی ہے۔ اس لئے اندرونی استحکام پر توجہ دیں اور ہمارے خیال میں شاید اب اکیلے اکیلے راہنماؤں کو بلا کر بات کرنے سے بات نہ بنے بہتر عمل پھر سے اجتماعی مذاکرات ہیں۔ وزیر اعظم خود بات کرنا چاہتے ہیں تو پرویز خٹک سے شروع کر کے دوسروں تک کیوں سیدھا سیدھا مثبت تاثر پیدا کریں ’’یہ ڈنگ ٹپاؤ‘‘ اور ’’لارا لپا‘‘ پالیسی کا طعنہ نہ سنیں تو بہتر ہے دوسری صورت میں عارضی مفاہمت بھی طویل نہ ہوگی اور جوڑ توڑ بھی خراب کرے گا۔

مزید :

تجزیہ -