اب کراچی میں موبائل فون چھیننے والوں کے گرد گھیرا تنگ ہوگا

اب کراچی میں موبائل فون چھیننے والوں کے گرد گھیرا تنگ ہوگا

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

کراچی میں بھتہ خوری کا سلسلہ ختم ہوگیا، یا بہت کم ہوگیا، لیکن سٹریٹ کرائمز بڑھ گئے اور موبائل فون چھیننے کی وارداتیں تو اتنی عام ہوگئی ہیں کہ کافی عرصے سے لوگ شارع عام پر فون سننے سے گریز کرنے لگے ہیں، تو کیا اس سے یہ مطلب اخذ کیا جائے کہ جو لوگ پہلے بھتے لیتے تھے جب اُن کیلئے یہ راستہ رینجرز کے اقدامات کی وجہ سے بند ہوگیا تو انہوں نے سٹریٹ کرائمز پر توجہ مرکوز کردی اور بھتوں کی بجائے فون چھیننے شروع کردیئے؟ کیا بھتہ خوری کی وارداتیں کرنے والے گروہ اور سٹریٹ کرائمز کرنے والے الگ الگ ہیں یا اُن کا باہمی رابطہ بھی ہے؟ اور وہ مل کر ایسا دھندہ کرتے ہیں۔ یہ جو کچھ بھی ہیں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اب رینجرز سٹریٹ کرائمز اور موبائل فون چھیننے کی وارداتیں روکنے کی طرف متوجہ ہوگی۔ یہ احساس اس وقت قوی تر ہوتا ہے جب کراچی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجروں اور صنعتکاروں سے سندھ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بلال اکبر کے خطاب کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ وہ جب یہ کہتے ہیں کہ کراچی آپریشن منطقی انجام تک پہنچائیں گے اور اس مقصد کیلئے اختیارات میں توسیع کی ضرورت نہیں اور نہ رینجرز سندھ سے جائے گی تو اس پیغام کو اچھی طرح وصول کرنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کراچی میں بھتہ خوری کی وارداتوں کے خاتمے کے بعد کراچی کے شہری بدستور سٹریٹ کرائمز میں لٹتے رہیں اور اُن کے قیمتی فون کسی خوف کے بغیر چھینے جاتے رہیں تو اس کا مطلب تو یہی ہے کہ کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ بھتے بند ہوئے تو قیمتی فونوں کا ’’بھتہ‘‘ لیا جانے لگا، ایسے میں اگر ڈی جی رینجرز نے تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے یہ حوصلہ افزا بات کہی ہے کہ کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا تو یہ سمجھا جانا چاہئے کہ اب آپریشن کا رخ موبائل فون چھیننے اور سٹریٹ کرائمز کی طرف بھی ہوگا۔

کراچی میں رینجرز بنیادی طور پر پولیس کی امداد کیلئے آئی ہوئی ہے۔ پولیس چونکہ سنگین جرائم قتل اور بھتہ خوری کی وارداتیں روکنے میں ناکام ہوگئی تھی اس لیے رینجرز کی مدد لی گئی لیکن سٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں تو پولیس کو کامیابی ہونی چاہئے، تاہم اگر ایسا نہیں ہو رہا تو اس کا بدیہی مطلب یہ ہے کہ رینجرز کو اب اس جانب توجہ دینا پڑے گی۔ کراچی پولیس اگر جرائم روکنے میں اس طرح کامیاب نہیں ہوسکی جس طرح ہونا چاہئے تو اس کا مطلب ہے کہ پولیس کے اہلکار یا تو جرائم سے نپٹنے کی پوری صلاحیت نہیں رکھتے یا پھر سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے جرائم پیشہ لوگوں کو پکڑ نہیں پاتے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جو ملزم پکڑے جاتے ہوں ان کے سیاسی سرپرست انہیں چھڑوا کر لے جاتے ہوں اور ان کے خلاف مقدمات عدالتوں میں لے جانے کی نوبت ہی نہ آتی ہو۔ وجہ کچھ بھی ہو‘ ہر قسم کے سٹریٹ کرائم سے نپٹنا بنیادی طور پر پولیس کی ہی ذمہ داری ہے اور اگر صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ اسے رینجرز پر انحصار نہ کرنا پڑے تو پولیس کی ان خطوط پر تربیت ضروری ہے کہ وہ جرائم پیشہ لوگوں سے نپٹ سکے اور صحیح معنوں میں قانون نافذ کرے۔ اگر پولیس کے پاس ایسی صلاحیت ہو تو پھر نہ رینجرز کو بلانے کی ضرورت محسوس ہو اور نہ ہی یہ سوال پیدا ہو کہ رینجرز کے پاس پولیس کی طرح کے تفتیشی اختیارات ہونے چاہئیں یا نہیں اور نہ صوبے کی حکومت کو مرکز سے کوئی شکایت پیدا ہو۔ انہوں نے پولیس کو پیشہ وارانہ تربیت دینے اور شفاف بھرتیوں کے نظام کے سلسلے میں خدمات فراہم کرنے کی جو پیشکش کی ہے سندھ کی حکومت کو اس سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے تاکہ پولیس بہتر طور پر تربیت یافتہ ہو جائے۔ ڈی جی رینجرز نے کہا کہ وفاق کی جانب سے رینجرز کو سرچنگ (تلاشی) اور گرفتار کرنے کی اجازت ہے لہٰذا رینجرز کو اختیارات میں توسیع کی کوئی ضرورت نہیں۔ صوبے کی جانب سے جب رینجرز کے قیام کی مدت میں توسیع نہیں کی گئی تب بھی ہم اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے تھے۔ ڈی جی رینجرز نے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2014ء میں کراچی میں 38 ہزار موبائل فون چھینے گئے تھے جبکہ 2015ء میں 40 ہزار موبائل فون چھینے گئے۔ یہ وارداتیں تو وہ ہیں جن کا مقدمہ درج کرایا گیا جو سستے ٹیلی فون چھینے جاتے ہیں متاثرہ فریق تو اس کا مقدمہ بھی درج نہیں کراتے کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ فون تو ملے گا نہیں خجل خواری علیحدہ ہوگی اور تفتیش میں وقت بھی ضائع ہوگا۔ کراچی میں جو قیمتی موبائل فون چھینے جاتے ہیں ایک اطلاع کے مطابق وہ زیادہ تر افغانستان سمگل کردیئے جاتے ہیں یا پھر دوسرے صوبوں کی مارکیٹ میں بیچ دیئے جاتے ہیں اس لیے جرائم پیشہ گروہوں کے یہ راستے بند کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ کراچی میں اگر جرائم پیشہ لوگوں کے خلاف سختی ہو رہی ہو تو وہ پنجاب یا لاہور کا رخ کرتے ہیں اور اگر لاہور میں مجرموں کے خلاف شکنجہ کسا جا رہا ہو تو وہ کے پی کے وغیرہ کا رخ کرتے ہیں، اس لیے صوبائی حکومتوں کو جرائم پیشہ گروہوں پر نظر رکھنے کیلئے فہرستوں کا تبادلہ کرنا چاہئے۔ لاہور میں جو جدید ترین فرانزک لیبارٹری قائم کی گئی ہے وہ اس سلسلے میں بڑی مفید ثابت ہوسکتی ہے اور اس سے مجرموں کی گرفتاری میں مدد مل سکتی ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اب کراچی میں موبائل فون چھیننے والوں کے گرد گھیرا تنگ ہوگا اور سٹریٹ کرائمز کرنے والوں کی بھی شامت آئے گی اور یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ بھتہ خوروں نے اپنے راستے بند ہونے کے بعد سٹریٹ کرائمز تو شروع نہیں کردیئے۔ موبائل فون تو گزشتہ کئی سال سے چھینے جا رہے ہیں اور 2015ء میں چالیس ہزار فون چھیننے کا مطلب یہ ہے کہ کم از کم اتنی ہی تعداد وہ ہوگی جنہوں نے مقدمات بھی درج نہیں کرائے ہوں گے۔

مزید :

تجزیہ -