گیس کی قلت بر قرار ،کھپت3 گنا برھ گئی،پنجاب بھر میں صارفین کا احتجاج

گیس کی قلت بر قرار ،کھپت3 گنا برھ گئی،پنجاب بھر میں صارفین کا احتجاج

  

لاہور( اپنے نامہ نگار سے) صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں گیس کی قلت نے زور پکڑ لیا ہے۔ گیس کی کھپت تین گنا بڑھ گئی ہے اور اس کے مقابلہ میں ڈیمانڈ کو پورا کرنا گیس حکام کے لئے درد سر بن کر رہ گیا ہے جس کی بنا پر صارفین کے احتجاج میں تیزی آنے لگی ہے۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں جہاں گیس کی لوڈشیڈنگ پر صارفین سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں وہاں پنجاب کے دیگر شہروں میں گیس کی بندش کے خلاف گزشتہ روز بھی صارفین نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ موسم سرما کی شدت بڑھنے پر گیس کی کھپت میں حیرت انگیز حد تک اضافہ ہو کر رہ گیا ہے جس پر گیس حکام چکرا کر رہ گئے ہیں اور تمام تر حربے اور فارمولے بھی گیس کی ڈیمانڈ کو پورا کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہو رہے ہیں۔گیس کی کھپت 2800 ملین کیوبک فٹ تک پہنچ گئی ہے جس کے باعث گیس کے موجودہ ذخائر انتہائی ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ اس میں گیس کو سپلائی لائنوں میں سٹور کرنے کا فارمولا بھی مددگار ثابت نہیں ہو پا رہا اور سپلائی لائنوں میں جانے سے گیس کا پریشر انتہائی کم ہونے پر کھانے تیار کرنے کے اوقات میں بھی گیس لائنوں میں پریشر بحال نہیں ہو رہا ہے، جس کے باعث گیس کا شارٹ فال کنٹرول سے باہر ہو کر رہ گیا ہے، جس سے شہریوں کی شکایات بڑھ کر رہ گئی ہیں۔ اس میں گیزر کا استعمال بھی زیادہ ہے، جبکہ پوش علاقوں میں گیس ہیٹرز کے استعمال میں تیزی آنے پر گنجان آبادیا گیس بحران کی لپیٹ میں آ گئی ہیں۔ گیس ہیٹرز آن ہونے پر پوش علاقوں میں بھی گیس کا پریشر کم ہے۔ صرف سپلائی لائنوں کے قریب گھروں میں گیس کا پریشر رہتا ہے۔ اس صورتحال میں گیس حکام کا کہنا ہے کہ صارفین گیس ہیٹرز کا استعمال بند کر دیں تو صورتحال قدرے بہتر ہو سکتی ہے۔ گیس حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ڈیمانڈ کے مطابق 2500 سے 2800 ملین کیوبک فٹ گیس ذخائر کی ضرورت ہے جبکہ گیس ک ذخائر 1150 سے 1200 ملین کیوبک فٹ ہیں۔ اس میں گیس ذخائر کو پائپ لائنوں میں 6 سے 8 گھنٹوں کے لئے سٹور کر کے پریشر بڑھایا جاتا ہے جس سے گھروں کی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گیس حکام کاکہنا ہے کہ صارفین صبح 6 بجے سے صبح 10 بجے تک اور شام کو 4 بجے سے رات 8 بجے تک گیس کا استعمال کریں۔ باقی اوقات می چولہے آن نہ کریں تاکہ لائنوں میں گیس کا پریشر بحال کیا جا سکے۔ اس میں کوشش کی جا رہی ہے کہ کھانے تیار کرنے کے لئے دئیے گئے اوقات میں گیس کا پریشر بحال کیا جا سکے۔ اس میں صارفین گیس کا کم سے کم استعمال کریں۔ گیزر اور گیس ہیٹرز کی بجائے صرف کھانے تیار کرنے کے لئے گیس کا استعمال کریں اس سے گیس کا پریشر برقرار رہ سکے گا۔

گیس قلت

مزید :

صفحہ آخر -