مذاکرات سے قبل طالبان میں تفریق نہ کی جائے:پاکستان

مذاکرات سے قبل طالبان میں تفریق نہ کی جائے:پاکستان

  

اسلام آباد(اے این این) وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ مذاکراتی پیشکش سے قبل طالبان میں تفریق نہ کی جائے، افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات سے قبل کوئی شرط عائد نہ کی جائے،مصالحتی عمل غیر مشروط ہونا چاہیے ،اعتماد کی بحالی کیلئے موثر اقدامات ضروری ہیں، تمام طالبان گروہوں کو مذاکراتی عمل کی پیشکش اور طالبان گروہوں کی جانب سے اس پیشکش کے جواب سے قبل فوجی کارروائیوں کی دھمکی مثبت قدم نہیں ہو گا،مذاکرات کا مقصد افغان امن کیلئے خوشگوار ماحول کی فراہمی ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں چار ملکی رابطہ کمیٹی کے اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب میں کیا۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ افغانستان میں مصالحتی عمل غیر مشروط ہو اور اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔ مذاکراتی عمل کے آغاز کے لیے کسی قسم کی شرائط نہ رکھی جائیں کیونکہ ایسا کرنا مدد گار ثابت نہیں ہو گا۔انھوں نے کہا کہ تمام طالبان گروہوں کو مذاکراتی عمل کی پیشکش اور طالبان گروہوں کی جانب سے اس پیشکش کے جواب سے قبل فوجی کارروائیوں کی دھمکی مثبت قدم نہیں ہو گا۔مذاکرات کے لیے تیار گروہ اور وہ گروہ جو تیار نہیں ہیں کے بارے میں تفریق اور مذاکرات کے لیے تیار نہ ہونے والے گروہوں کو کیسے نمٹا جائے کے بارے میں اس وقت فیصلہ کیا جائے جب مذاکرات پر رضامند کرنے کی تمام تر کوششیں کی جا چکی ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں افغانستان میں مذاکرات کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے اور مذاکرات کو بامعنی طریقے سے آگے بڑھائے جانے کے حوالے سے روڈ میپ تیار کیا جائے ۔اس اجلاس کا سب سے پہلا اور اہم مقصد ہے مصالحتی عمل کی سمت کے تعین کے علاوہ اس کیاہداف کا تعین کرنا ہو گا تاکہ حقیقت پر مبنی ٹائم فریم طے کیا جا سکے۔انھوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل اور اس کے نتائج کے حوالے سے روڈ میپ حقیقت پر مبنی ہو اور اس میں تبدیلی کی گنجائش ہونی چاہیے۔خارجہ امور کے مشیر نے کہا کہ مصالحتی عمل کا اہم ہدف ایسی صورتحال پیدا کرنا ہے کہ طالبان گروہ مذاکراتی عمل کا حصہ بنیں اور سیاسی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے مسلح جدوجہد کو ترک کریں۔ مذاکرات کا مقصد افغان امن کیلئے خوشگوار ماحول فراہم کرنا ہے ، طالبان کو مذاکرات کے لیے لچک دکھانا ہوگی ۔ افغان امن کے لیے تعمیری مذاکرات ضروری ہیں ۔مشیر خارجہ نے کہاہے کہ پاکستان افغانستان سے اپنے برادرانہ او ر ہمسائیگی کے تعلقات کو انتہائی قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے۔پاکستان نے افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کیلئے سنجیدہ کوششیں جاری رکھنے کا عزم کررکھا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ مہینے اسلام آباد میں ہارٹ آف ایشیا کی پانچویں وزارتی کانفرنس سے افغانستان میں پائیدار امن کے قیام میں بڑی مددملی ہے۔کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف اور صدر اشرف غنی کے درمیان ملاقات افغان امن اور مصالحتی عمل کے بارے میں اتفاق رائے کی مظہر ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -