صوبائی حکومت کا فنڈز استعمال میں تاخیر کا تاثر غلط ہے:عنایت اللہ

صوبائی حکومت کا فنڈز استعمال میں تاخیر کا تاثر غلط ہے:عنایت اللہ

  

پشاور( پاکستان نیوز)خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر اور جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ خان نے اس تاثر کو غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے کہ صوبائی حکومت نے ترقیاتی فنڈز کا صرف13فیصد استعمال کیا ہے اور باقی فنڈز لیپس ہونے کا خدشہ ہے۔ مرکز اسلامی پشاور میں میڈیاکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیاکہ غیر ملکی کمپوننٹ کے سوا ہمارامجموعی ترقیاتی پروگرام142ارب روپے ہے جس میں 42ارب روپے اضلاع کو جاچکے ہیں ان میں15ارب روپے جاری ہو چکے ہیں اور تمام سطحوں پر ترقیاتی عمل تیزی سے شروع ہو چکا ہے۔اسی طرح باقی100ارب روپے میں26ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہو چکے ہیں جو40فیصد ہے حالانکہ ماضی میں یہ شرح22.4فیصد رہی ہے اس لحاظ سے اگلے چند مہینوں میں باالخصوص مالی سال کے اختتام پر یہ شرح سو فیصد کے قریب ترین ہو گی جو پچھلے سال97فیصد رہی ہے تاہم انہوں نے واضح کیاکہ خرچ کے ساتھ ساتھ فنڈز کاشفاف اور منصفانہ استعمال بھی ضروری ہوتا ہے اور جلد بازی میں اس قومی امانت کے ضیا ع کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں سینئروزیرنے واضح کیا کہ ہماری حکومت کا بنیادی مقصد ترقی کے ساتھ ساتھ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم سے کم کرناہے اور خداکے فضل سے ہم اس مقصد میں بھی کامیاب رہے ہیں اور اگلے بجٹ میں عوام کو مزید ریلیف اور خوشخبریاں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی کے کرپشن کے سیلاب پر بند باندھ دیئے ہیں جوپہلے زبان زد عام تھے۔سینئر وزیرنے کہاکہ بلدیایتی انتخابات اور تین سطحوں پر ناظمین کے انتخابات نیز صوبائی فنانس کمیشن کی تشکیل کے مراحل کی وجہ سے فنڈزکے اجراء میں وقت لگامگر نہ صرف اب ان فنڈزکا استعمال یقینی بنے گا بلکہ یہ نان لیپس ایبل ہوں گے اور ضلعی ،تحصیل و نیبر ہوڈ اور ویلج کونسلوں کو انکے صحیح استعمال کے اچھے مواقع ملیں گے۔عنایت اللہ نے کہا کہ صوبے میں پرانے بڑے منصوبوں کے علاوہ باب پشاور فلائی اوور سمیت53میگاپراجیکس پر کام90فیصد سے زائد مکمل ہو چکا ہے اور مزید پیشرفت بھی جاری ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ اول -