چارسدہ ،سینکڑوں خاندانوں کا پولیو مہم سے بائیکاٹ کا فیصلہ

چارسدہ ،سینکڑوں خاندانوں کا پولیو مہم سے بائیکاٹ کا فیصلہ

  

چارسدہ (بیورو رپورٹ)حفیظ کور اور میجر عجم کلے کے سینکڑوں خاندانوں کا انسداد پولیو مہم سے بائیکاٹ۔ 600بچے پولیو ویکسین اور قطروں سے محروم ہو گئے ۔ ضلع چارسدہ اور مہمند ایجنسی کی انتظامیہ ہماری شہریت تسلیم نہیں کر تی تو ہمارے بچوں سے ان کا کیا تعلق۔ مرے یا زندہ رہے ۔حکومت کو ئی سرو کار نہ رکھیں۔گزشتہ 16سا ل سے شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ، پاسپورٹ ، تعلیم اور صحت کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور فاٹا حکام نے دو گاؤں کے ہزاروں مکینوں کو فٹ بال بنا دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق شبقدر کے علاقہ حفیظ کور اور میجر عجم کلے کے سینکڑوں خاندانوں نے انسداد پولیو مہم کا بائیکاٹ کر کے پولیو ٹیموں کو علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا جس کی وجہ سے 600کے قریب بچے انسداد پولیو ویکیسن اور قطروں سے محروم ہو گئے ۔ دونوں علاقوں میں مکینوں نے انسداد پولیو مہم سے مکمل بائیکاٹ کے بڑے بڑے بینرز لٹکائے اور حکومتی ناانصافیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ علاقے کے عمائدین ملک نثار ، ملک خلیل ، ملک عصمت ، ملک شمشاد اور دیگر عمائدین سے ڈی ایس پی شبقدر محمد فیاض ، تحصیل دار شیر قادر ، ڈاکٹر فیروز شاہ اور ایس ایچ او گل شید خان نے کئی گھنٹے تک مذاکرات کئے جو کہ بے سود رہے ۔ عمائدین علاقہ کا موقف ہے کہ 1999ء میں حفیظ کور اور میجر عجم کلے کو مہمند ایجنسی سے ختم کرکے ان علاقوں کو ضلع چارسدہ میں کیا گیا تھا مگر 16سال گزرنے کے باوجود ان علاقوں کے مکینوں کو فاٹا اور نہ ضلع چارسدہ کی انتظامیہ قبول کر رہی ہے ۔ محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کے اہلکاروں کو تاحال فاٹا فنڈز سے تنخواہیں ادا کی جارہی ہے ۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک ہی علاقے کے لوگوں کے ووٹوں کا اندراج تین علاقوں ضلع چارسدہ ، ضلع پشاور اور فاٹا میں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے فاٹا ، پشاور اور چارسدہ میں ان کی نمائندگی موجود ہے مگر منتخب نمائندوں نے بھی منہ موڑ لیا ہے ۔ اپریشن کی وجہ سے تباہ شدہ سکولوں کی تعمیر نو کی ذمہ داری کوئی قبول نہیں کر تا اور نہ علاقے کے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کے حوالے سے کسی کو فکر ہے ۔ گزشتہ 16سال سے دونوں علاقوں سے وفاقی اور صوبائی حکومت نے ہاتھ کھینچ لئے ہیں۔علاقے کے سینکڑوں خاندان بنیادی شہری سہولیات سے محروم ہیں ۔گزشتہ 16سا ل سے شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ، پاسپورٹ ، تعلیم اور صحت کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور فاٹا حکام نے ہزاروں مکینوں کو فٹ بال بنا دیا ہے۔اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنا شہری تسلیم نہیں کیا جاتا تو ہمارے بچوں کی فکر نہیں کرنا چاہیے وہ مرے یاجئے ۔ حکومت کوئی سروکار نہ رکھیں۔

مزید :

پشاورصفحہ اول -