2015ء،14ہزار8سو50 خواتین اور بچے اغوا ہوئے،تحر یک انصاف پنجاب

2015ء،14ہزار8سو50 خواتین اور بچے اغوا ہوئے،تحر یک انصاف پنجاب

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) تحر یک انصاف پنجاب کے آرگنائزر چو دھر ی محمدسرور نے ’’اغواء اور بداخلاقی ‘‘کے واقعات کی روک تھام میں حکومتی ناکامی پر ’’حقائق نامہ‘‘ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے ساتھ بداخلا قی کے واقعات میں پاکستان کا شمار دنیا کے 10 بد ترین ممالک میں ہے‘پنجاب میں ایک سال کے دوران خواتین ‘بچوں اور بچیوں کے اغواء کے14ہزار8سو50سے زائد اغواء کے واقعات ہوئے ہیں ‘2ہزار خواتین اغواء اور دیگر واقعات میں ’’بداخلاقی ‘‘کا نشانہ بنی ہیں ‘اغواء ہونیوالی خواتین میں سے80فیصدکوبداخلاقی کا نشانہ بنایا جا تا ہے جبکہ 15فیصد اغواء ہونیوالے افراد کو قتل کر دیا جا تا ہے ‘ ہسپتالوں میں ’’نومولود ‘‘بچے بھی اغواء کاروں سے محفوظ نہیں ‘پنجاب میں حکومت عوام کے جانوں کا تحفظ کر نے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں ‘(ن) لیگ کے دور حکومت میں پنجاب میں خواتین اور بچوں کے اغواء میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ تحر یک انصاف پنجاب کے آرگنائزر چوہدری محمدسرور کے جاری حقائق نامہ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں خواتین اور بچوں کا اغواء اور انکے ساتھ بداخلاقی کے واقعات میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور اگر میڈیا رپورٹس سے حاصل ہونیوالی معلومات کے مطابق 2015 میں سال صوبہ میں خواتین، بچوں اور بچیوں سمیت اغوا کے 14ہزار 8 سو 50 جبکہ اغوا برائے تاوان کے 96 مقدمات درج ہوئے‘ان میں خواتین کے علاوہ 980 کم عمر بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں‘ ہسپتالوں سے نومولود بچوں کے اغوا کے واقعات بھی رونما ہوئے۔حقائق نامہ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اغوا برائے تاوان کے 96 مقدمات میں 25 کم عمر بچوں و بچیوں کے اغوا شامل ہیں۔ تحر یک انصاف پنجاب کے آرگنائزر چوہدری محمدسرور کے جاری کردہ حقائق نامہ میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں اغوا برائے تاوان کی 15 وارداتیں ہوئیں‘ لوگ ملزمان کو منہ مانگی رقم تاوان دے کر بھی اپنے پیاروں کو رہا کراتے رہے جبکہ مغویان کو قتل کرنے کے واقعات بھی رونما ہوئے‘ انویسٹی گیشن پولیس کی انتہائی مایوس کن کارکردگی سامنے آئی‘پولیس سینکڑوں مقدمات کا کھوج نہیں لگا سکی اور نہ ہی مغویان کا کوئی سراغ مل سکا۔ 3ہزار1سو سے زائد مقدمات تاحال زیرتفتیش ہیں‘ پولیس کی جانب سے اغوا کی بجائے صرف گمشدگی کی رپٹ درج کرکے اپنی جان چھڑانے کی روش میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔حقائق نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات بھی بڑ ھتے جا رہے ہیں جبکہ پو لیس اور دیگر اداروں کی جانب سے اغواء کاروں کوروکنے میں ناکام نظر آتی ہے ضرورت ا س بات کی ہے کہ ایسے واقعات روکنے اورمجر موں کو سخت سے سخت سزا دینے کیلئے قانون سازی کی جائے ۔

مزید :

کراچی صفحہ آخر -