راہداری کا مغربی روٹ دسمبر 2016ءمیں آپریشنل ہوجائے گا: احسن اقبال

راہداری کا مغربی روٹ دسمبر 2016ءمیں آپریشنل ہوجائے گا: احسن اقبال
راہداری کا مغربی روٹ دسمبر 2016ءمیں آپریشنل ہوجائے گا: احسن اقبال

  

کراچی (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ دسمبر 2016ءمیں آپریشنل ہوجائے گا، مشرقی روٹ کو مکمل ہونے میں تین سال کا وقت لگے گا،انٹرنیٹ پر غلط نقشوں کے ذریعے راہداری سے متعلق مہم چلائی گئی، پرویز خٹک کا یہ تاثر درست نہیں کہ انہیں اقتصادی راہداری پر کچھ علم نہیں ہے، بلوچوں کے سیاسی حقوق غصب نہیں ہونے دیں گے، گوادر کے ماہی گیروں کو متبادل جگہ اور روزگار میں جدت دینے میں مدد کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری سے متعلق کچھ غلط فہمیاں ہیں جس کی وجہ سے تحفظات جنم لے رہے ہیں، پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ اقتصادی راہداری کا روٹ تبدیل کردیا گیا ہے، پاکستان اور چین کے متفقہ روٹ میں ایک انچ تبدیلی بھی ثابت ہوجائے تو ہر سزا قبول ہے۔ 2013ءمیں وزیراعظم کے پہلے دورئہ چین کے موقع پر پاک چائنا اقتصادی راہداری کیلئے ایم او یو پر دستخط ہوئے، 2013ءسے پہلے اقتصادی راہداری کا کوئی تسلیم شدہ روٹ نہیں تھا جس میں تبدیلی کی گئی ہو۔

انہوں نے کہا کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ چینی حکومت نے 46ارب ڈالر پاکستانی حکومت کے خزانے میں جمع کرادیئے ہیں اور وفاقی حکومت وہ رقم صوبوں میں تقسیم نہیں کررہی ہے، چین کی طرف سے مختلف شعبوں میں 46ارب ڈالر سرمایہ کاری کا پیکیج دیا گیا ہے، پشاور اور کوئٹہ سے دو کوریڈور افغانستان اور سینٹرل ایشیا کو جوڑیں گے۔

احسن اقبال نے کہا کہ اقتصادی راہداری پر تحفظات میں سیاسی مصلحتیں زیادہ نظر آرہی ہیں، اختر مینگل کے نکتہ نظر سے متفق ہیں اور اس کا حل نکالیں گے، پرویز خٹک کا یہ تاثر درست نہیں کہ انہیں اقتصادی راہداری پر کچھ علم نہیں ہے، 12نومبر 2015ءکو اقتصادی راہداری پر جے سی سی کے اجلاس میں شرکت کیلئے تمام وزرائے اعلیٰ کو خط لکھا، خیبرپختونخوا نے اجلاس میں کسی وزیر کو بھیجنے کے بجائے پارلیمانی سیکرٹری کو بھیجا۔ وزیر منصوبہ بندی نے پروگرام میں اقتصادی راہداری کا متفقہ نقشہ بھی دکھایا جس میں مغربی، مشرقی اور وسطی تینوں روٹس دکھائے گئے تھے۔

مزید :

کراچی -