بڑے ملک میں وہ ایک کام جو اکثر پاکستانی کرتے ہیں پر پابندی لگادی گئی، اب جرمانہ ہوگا

بڑے ملک میں وہ ایک کام جو اکثر پاکستانی کرتے ہیں پر پابندی لگادی گئی، اب ...
بڑے ملک میں وہ ایک کام جو اکثر پاکستانی کرتے ہیں پر پابندی لگادی گئی، اب جرمانہ ہوگا

  

ابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک) شارجہ کے بازاروں میں خریداری کرنے والے کچھ عرصے سے حکام کو شکایت کر رہے تھے کہ گاہکوں کو آوازیں لگانے والے دکانداروں اور ان کے ملازموں نے خاصی پریشانی پیدا کر رکھی ہے، اور حکام نے اب اس پریشانی کا سدباب کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے آوازیں لگاکر گاہکوں کو بلانے والوں کو خبردار کردیا ہے کہ انہیں 500 درہم (تقریباً 14 ہزار پاکستانی روپے) جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید جانئے: کیا آپ کو معلوم ہے سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جس میں کوئی دریا نہیں؟جانئے سعودی عرب کے بارے میں وہ حیران کن حقائق جو لوگوں کو آج بھی معلوم نہیں

خلیج ٹائمز کے مطابق شارجہ میونسپلٹی کی طرف سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خریداروں کو آوازیں لگا کر بلانے پر مکمل پابندی ہوگی اور اس فعل کے مرتکب ہونے والوں کو جرمانے کا ضرور سامنا کرنا پڑے گا۔شارجہ میونسپلٹی کے ہیڈ آف سینٹرل مارکیٹس عبداللہ ابراہیم حسن کا کہنا تھا کہ یہ پابندی گاہکوں کی طرف سے موصول ہونے والی متعدد شکایات کے بعد لگائی گئی ہے جن میں لوگوں نے بازاروں میں آوازیں لگانے والوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی شدید کوفت اور پریشانی کا ذکر کیا تھا۔

حکام کی طرف سے دکانداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ گاہک کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کہاں ہے اور اس نے کہاں جانا ہے اور کیا خریدنا ہے، لہٰذا اسے بلاوجہ پریشان نہ کریں۔ دکانداروں اور ان کے ملازمین کے لئے خصوصی شناختی کارڈ کا استعمال یقینی بنانے کے لئے بھی کام کیا جارہا ہے، تاکہ یہ واضح ہو کہ وہ غیر قانونی طور پر یا بلا اجازت کام نہیں کررہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -