راہداری منصوبے میں مغربی روٹ کو موخر نہیں کیا جا رہا،غلط نقشہ جات پیش کئے گئے : احسن اقبال

راہداری منصوبے میں مغربی روٹ کو موخر نہیں کیا جا رہا،غلط نقشہ جات پیش کئے گئے ...
راہداری منصوبے میں مغربی روٹ کو موخر نہیں کیا جا رہا،غلط نقشہ جات پیش کئے گئے : احسن اقبال

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں مغربی روٹ کو موخر نہیں کیا جا رہا،اقتصادی راہداری میں مغربی روٹ کے نہ ہونے کے حوالے سے غلط نقشہ جات پیش کئے گئے جن میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس سڑک کی تعمیر میں ایف سی کے کئی اہلکار شہید ہوئے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مغربی روٹ تعمیر نہیں کیا جا رہا وہ ان شہدا کے خون سے بے وفائی کر رہے ہیں۔

دنیا نیوز کے پروگرام“ نقطہ نظر“ میں گفتگو کرتے ہوئےاحسن اقبال نے اسے  ایک گمراہ کن مہم قرار دیتے ہوئے بتایا کہ سب سے پہلے مغربی روٹ ہی آپریشنل ہوگا اور دسمبر 2016ءتک یہ روٹ مکمل ہو جائے گا جبکہ مشرقی روٹ کو مکمل ہونے میں تین سال کا وقت لگے گا،کچھ لوگوں کی غلط فہمیاں ہیں جن کی وجہ سے پھر تحفظات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 6لائن کا روٹ ضروری ہوتا تو سب سے پہلے چین کے علاقے میں بنتا ، پہلے چار لائن کا روٹ بنایا جائے گا پھر چھ لائن کے روٹ کی تعمیر ہوگی۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 12نومبر 2015 کو اقتصادی راہداری کے حوالے سے تمام صوبوں کے وزرائے اعلی کو خط لکھا اور تمام صوبوں کو اس اعلی سطحی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جس میں تمام صوبوں کے نمائندوں نے شرکت بھی کی اور اپنا موقف بھی پیش کیا، اب کے پی کے کے وزیراعلی کا یہ کہنا کہ مجھے اس بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں سمجھ سے بالاتر ہے۔انہوں نے کہا کہ نہ تو پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ کو تبدیل کیا جا رہا ہے اور نہ ہی چین نے 46 ارب ڈالر پاکستان حکومت کی جیب میں ڈال دیئے ہیں۔چین نے جو 44ارب ڈالر دیئے ان میں سے 35ارب ڈالر بجلی کے منصوبے ہیں جن کی اکثریت سندھ میں ہے،یہ قرضے نہیں ہیں بلکہ یہ نیپرا سے منظور شدہ منصوبے ہیں۔ان سب میں شفافیت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔صنعتی زونز لگائے جانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ صنعتی زونز کیلئے ہمیں بجلی کی ضرورت ہے جو کہ ابھی ہمارے پاس نہیں، اسی لئے پاک چین اقتصادی راہداری کے 46 ارب ڈالر میں سے 35 ارب ڈالر سے زائد بجلی کے منصوبوں پر خرچ کئے جا رہے ہیں تاکہ موجودہ صنعتی زونز کے ساتھ ساتھ نئے لگائے جانے والے صنعتی زونز کو بھی بجلی فراہم کی جا سکے، اقتصادی راہداری کے 46 ارب ڈالر میں ایل این جی کا کوئی بھی منصوبہ شامل نہیں ہے۔ پہلے مرحلے میں ہم بجلی کی پیداوار کیلئے کام کریں گے اور پھر دوسرے مرحلے میں صنعتی زونز لگائے جائیں گے تاکہ انہیں بجلی بھی فراہم کی جا سکے۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت ہم نے حکومت سندھ کے ساتھ مل کر گزشتہ 67 سالوں سے دفن کوئلے کو نکالا ہے جو آئندہ 200 سال کیلئے ہماری ضرورت کو پورا کر سکتا ہے، اس کوئلے کو پہلی مرتبہ بجلی بنانے کیلئے استعمال کیا جائے گا جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔گوادر پورٹ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کے حوالے سے آئین موجود ہے اور ہم آئین پاکستان کے اندر ہی اسے بھی چلائیں گے، آئین کے خلاف ہرگز نہیں چلیں گے،حکومت گوادر کے ماہی گیروں کو متبادل جگہ اور روزگار میں جدت دینے میں مدد فراہم کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ عمران خان نے اپنی پریس کانفرنس میں بے بنیاد باتیں کیں۔پرویز خٹک کو وزیراعظم نواز شریف نے بیرون ملک دورے میں جانے کی دعوت دی تھی لیکن وہ نہیں گئے انہوں نے انکار کر دیا۔سندھ ، بلوچستان سمیت تمام صوبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پی کے کے لوگوں کو کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے۔اگر عمران خان چین کی سرمایہ کاری پر تھینک یو نہیں کہہ سکتے تو ان پر تنقید تو نہ کریں۔

مزید :

قومی -