لندن میں سعودی سفیر کا برطانوی ارب پتی کے ساتھ ایسا جھگڑا کہ روس، بھارت اور فرانس بھی میدان میں آگئے

لندن میں سعودی سفیر کا برطانوی ارب پتی کے ساتھ ایسا جھگڑا کہ روس، بھارت اور ...
لندن میں سعودی سفیر کا برطانوی ارب پتی کے ساتھ ایسا جھگڑا کہ روس، بھارت اور فرانس بھی میدان میں آگئے

  

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کے ایک ارب پتی شخص نے سعودی سفیر اور ان کے چند دیگر سفارتکار رفقاءکو ایک عجیب و غریب جھگڑے میں الجھا دیا ہے۔ جریدے ’عریبین بزنس‘ کے مطابق مغربی لندن کے امیر ترین علاقے میں رہائش پذیر برطانوی ارب پتی شخصیت جان ہنٹ نے اپنے گھر میں بے حد بڑا تہہ خانہ بنانے کا اعلان کردیا ہے، جس پر ان کے ہمسائے میں آباد سفراءسخت پریشان ہوگئے ہیں۔

جان ہنٹ اپنے محل نما گھر میں 82 فٹ گہرا تہہ خانہ تعمیر کرنا چاہ رہا ہے، جس میں ایک لان ٹینس کورٹ، دومنزلہ سپورٹس ہال اور سوئمنگ پول بھی شامل ہوگا، جبکہ اس تہہ خانے میں کاروں کا ایک میوزیم بھی قائم کیا جائے گا۔ جان اس منصوبے پر تقریباً 15 کروڑ ڈالر (تقریباً 15ارب پاکستانی روپے) خرچ کرنے کی تیاری کئے بیٹھا ہے، لیکن اس کے ہمسائے میں مقیم سفراءاس منصوبے کو اپنے سفارتی فرائض کی بجا آوری میں بڑی رکاوٹ خیال کرتے ہیں اور اس کی سخت مخالفت کررہے ہیں۔

مزید جانئے: سعودی حکومت کا شاندار اعلان، کفیلوں کا ایک کام جس سے غیر ملکی بے حد تنگ تھے، اب اس پر بھاری جرمانہ ہوگا

سعودی سفیر محمد بن نواف بن عبدالعزیز السعود بھی کینسنگٹن پارک گارڈنز کے علاقے میں رہائش پذیر ہیں اور اس منصوبے کو علاقے کے امن و سکون اور خصوصاً سفارتی سرگرمیوں کے لئے غیر مناسب قرار دیتے ہیں، اور لبنان، فرانس، روس اور بھارت کے سفراءبھی ان کے ہمنوا بن چکے ہیں۔

پانچوں ممالک کے سفراءنے باقاعدہ طور پر حکام سے رابطہ کرلیا ہے تاکہ جان ہنٹ کے تہہ خانے کا راستہ روکا جاسکے۔ سفراءکا موقف ہے کہ اس تہہ خانے کی تعمیر سفارتی قوانین کے متعلق ویانا کنونشن کے آرٹیکل 22 کی خلاف ورزی ہے، جس کے مطابق میزبان ممالک پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ سفراءکے کام میں کسی قسم کا خلل واقع نہ ہونے دیں۔

واضح رہے کہ جان ہنٹ کے ہمسایوں میں متعدد ممالک کے سفیروں کے علاوہ کئی دیگر اہم اور ارب پتی شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں بھارتی ارب پتی لکشمی متل اور برونائی کے سلطان بھی شامل ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -