کم جونگ نے ہائیڈروجن بم کے دھماکے کے بعد ایک اور ناقابل یقین کارنامہ سرانجام دے دیا، مغربی دنیا کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

کم جونگ نے ہائیڈروجن بم کے دھماکے کے بعد ایک اور ناقابل یقین کارنامہ سرانجام ...
کم جونگ نے ہائیڈروجن بم کے دھماکے کے بعد ایک اور ناقابل یقین کارنامہ سرانجام دے دیا، مغربی دنیا کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

  

پیانگ یانگ (مانیٹرنگ ڈیسک) ہائیڈروجن بم کے دھماکے کا دعویٰ کرنے کے بعد شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اُن نے اب ایک اور دعویٰ کردیا ہے، جس پر یقین کرنا دنیا کے لئے خاصا مشکل ثابت ہورہا ہے، اور خصوصاً مغربی دنیا تو حیرت میں ڈوب گئی ہے۔

اخبار ’ڈیلی میل‘ کے مطابق شمالی کوریا کے سرکاری اخبار ’روڈونگ‘ نے صدر کم جونگ اُن اور ان کے آٹھ انتہائی قریبی ساتھیوں کی تصاویر جاری کی ہیں، جن میں وہ ملک کی بلند ترین چوٹی ’ماﺅنٹ پیکڈو‘ پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ اخبار نے بتایا ہے کہ شمالی کوریائی صدر نے اپنے والد کی یاد تازہ کرنے کے لئے ملک کی بلند ترین چوٹی کو سر کرنے کا فیصلہ کیا اور انتہائی سخت موسمی حالات کے باوجود یہ کارنامہ سرانجام دے دیا۔

دوسری جانب کوہ پیمائی سے دلچسپی رکھنے والے ماہرین حیران ہیں کہ شمالی کوریائی صدر -23 ڈگری سیلسیئس درجہ حرارت میں برف سے ڈھکی چوٹی پر کوٹ پینٹ اور نرم جوتے پہن کر کیسے پہنچ گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم جونگ ان جس طرح تازہ دم اور ہشاش بشاش نظر آرہے ہیں اس سے تو یوں لگتا ہے کہ انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے چوٹی پر پہنچایا گیا، اور پھر انہوں نے فخریہ انداز میں تصاویر بنوائیں اور اخبار میں چھپوا دیں، تا کہ اپنی عوام کو دکھا سکیں کہ وہ واقعی ایک سپر لیڈر ہیں۔ یہ خیال بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ کم جونگ اُن کی چوٹی پر بنائی گئی تصاویر ایک سال پرانی ہیں،جنہیں اب میڈیا میں جاری کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے شمالی کوریا کا سرکاری میڈیا یہ رپورٹ بھی شائع کرچکا ہے کہ کم جونگ ان 3 سال کی عمر میں ہی ماہر ڈرائیور بن چکے تھے۔ ان کے والد کے بارے میں شمالی کوریا کے لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ وہ ماﺅنٹ پیکڈو کی پہاڑی پر قائم ایک فوجی کیمپ میں پیدا ہوئے، جبکہ برطانوی میڈیا کے مطابق روسی تاریخی دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ وہ روس کے ایک دور دراز گاﺅں میں پیدا ہوئے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -