A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

نائلہ نامی طالبہ کی پرُ اسرار موت،پولیس نے یونیورسٹی کے کلرک کو گرفتار کر لیا ،موبائل سے تصاویر اور ویڈیو کلپس برآمد

نائلہ نامی طالبہ کی پرُ اسرار موت،پولیس نے یونیورسٹی کے کلرک کو گرفتار کر لیا ،موبائل سے تصاویر اور ویڈیو کلپس برآمد

Jan 12, 2017 | 20:03:PM

دادو(ڈیلی پاکستان آن لائن )نائلہ رند نامی طالبہ کی پرُ اسرار موت کی تحقیقات میں پولیس نے مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ایک کلرک کو بھی گرفتار کر لیاہے ۔

ڈان نیوز کے مطابق جامشورو ٹاو¿ن پولیس کے ایس ایچ او انسپکٹر آغا طاہر کی سربراہی میں پولیس کی ایک ٹیم نے یونیورسٹی کی رہائشی کالونی میں چھاپہ مارا اور کلرک آغا بابر پٹھان کو گرفتار کرلیا، جو مرکزی ملزم انیس خاصخیلی کا قریبی ساتھی بتایا جارہا ہے۔پولیس نے آغا بابر پٹھان کا لیپ ٹاپ اور موبائل فون بھی قبضے میں لے لیا اور ڈیوائس میں محفوظ نائلہ سمیت یونیورسٹی کی دیگر طالبات کی تصاویر اور ویڈیو کلپس بھی برآمد کرلیں۔پولیس کے مطابق پٹھان کے لیپ ٹاپ سے جن لڑکیوں کی تصاویر اور ویڈیوز ملیں، وہ زیادہ تر یونیورسٹی کی ہی طالبات تھیں۔ نائلہ رند کی موت کی خبریں سامنے آنے کے بعد طالبہ کے موبائل فون کے ریکارڈ کی روشنی میں انیس خاصخیلی کو پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا ہے۔

مزیدپڑھیں:تیج بہادر کے بعد بھارتی فوج کے ایک اور لانس نائیک نے ہندوستانی فوج کے اعلیٰ افسران کو ’’ننگا‘‘ کر دیا ،انڈین فوجی جوانوں کے استحصال کے ایسے ہوش ربا انکشافات کے پورے بھارت کو سانپ سونگھ گیا

جامشورو کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) کیپٹن طارق ولایت کا کہنا تھا کہ ہاسٹل کی 3 مزید وارڈنز ماہ جبیں، ذکیہ اور نصرت تالپر کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں جبکہ سندھی ڈپارٹمنٹ کے انور فگار ہکڑو، ہاسٹل کی پرووسٹ انیلہ سومرو اور وارڈن ماہ جبیں کے موبائل فون کا ڈیٹا بھی حاصل کرلیا گیا تاکہ تفتیش میں مدد مل سکی۔اس سے قبل پولیس نے اپنی ابتدائی تفتیش کے بعد بتایا تھا کہ نائلہ نے شادی کا جھوٹا وعدہ پورا نہ ہونے پر دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کی۔پولیس کا کہنا تھا کہ انیس کے موبائل ڈیٹا کے مطابق اس کے 30 لڑکیوں کے ساتھ روابط تھے جبکہ اس کے موبائل سے نائلہ رند سمیت دیگر لڑکیوں کی قابل اعتراض تصاویر بھی ملیں۔

واضح رہے کہ نئے سال کے پہلے دن سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹل کے ایک کمرے میں نائلہ رند نامی طالبہ کی لاش پنکھے سے لٹکتی ہوئی برآمد ہوئی تھی جسے ابتدائی طور پر خودکشی کہا جارہاہے ۔نائلہ سندھ یونیورسٹی کے شعبہ سندھی کے آخری سال میں زیر تعلیم تھی۔

مزیدخبریں