مقبوضہ کشمیر نا مساعد حالات کے باعث خودکشی کے رجحان میں تشویشناک اضافہ

مقبوضہ کشمیر نا مساعد حالات کے باعث خودکشی کے رجحان میں تشویشناک اضافہ

 سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر میں نامساعد حالات کی وجہ سے خود کشی کے رجحان میں تشویشناک اضافہ ہو گیا ہے پچھلے دو برسوں کے دوران547افراد نے خود کشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا اور ان واقعات کی تعداد کے حوالے سے شمالی ضلع بارہمولہ سر فہرست رہا۔اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی مبارک گل نے حکومت سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ریاست میں خود کشی کے واقعات کی شرح کیا ہے اور گزشتہ دو برسوں میں کتنے افراد نے اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا؟اس کے جواب میں وزیر اعلی نے ایوان میں تمام اضلاع کے اعدادوشمار تحریری طور پیش کئے۔انہوں نے کہا کہ سال2016اور2017کے دوران ریاست کے مختلف علاقوں میں547افراد نے خودکشی کر لی۔ 2016میں ریاست میں ایسے 272 جبکہ 2017 میں275معاملات سامنے آئے ۔ اس سلسلے میں بارہمولہ کا پہلا اور ہندوارہ کا دوسرا نمبر ہے۔وزیر اعلی نے ایوان کو بتایا کہ سال2016میں بارہمولہ میں خودکشی کے23واقعات سامنے آئی اور2017میں ان کی تعداد بڑھ کر 41تک پہنچ گئی۔ہندوارہ میںیہ تعداد بالترتیب 31اور57درج کی گئی۔سال2016اور2017میں اننت ناگ میں بالترتیب31اور33، سوپور میں 6اور 16، بانڈی پورہ میں اور6، شوپیان میں9اور4، کپوارہ میں30اور14، کولگام میں18اور5اور پلوامہ میں 8اور2افراد نے اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا۔ اس طرح اونتی پورہ میں یہ تعداد بالترتیب7اور8 جبکہ بڈگام میں20اور21 رہی۔ایوان کو بتایا گیا کہ لداخ کا کرگل ضلع ایسا واحد ضلع ہے کہ جہاں گزشتہ دو سال میں خود کشی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔لداخ کی لیہہ ضلع میں سال2016میں دو اور2017میں دو افراد نے خود کشی کی۔سرکاری اعداوشمارکے مطابق جموں ضلع میں یہ تعداد ایک ہندسے پر ہی مشتمل ہے جبکہ ریاسی، ڈوڈہ اور کشتواڑ میں یہ شرح معمولی ہے ۔ حالانکہ چند برس قبل خود کشی کے سب سے زیادہ واقعات جموں میں پیش آتے تھے۔

مزید : عالمی منظر