تعز شہر حوثی باغیوں کا قبرستان ثابت، 2017ء میں 2860 جنگجو ہلاک

تعز شہر حوثی باغیوں کا قبرستان ثابت، 2017ء میں 2860 جنگجو ہلاک

صنعاء(این این آئی)یمن کی سرکاری فوج نے بتایا ہے کہ ملک کی جنوب مغربی گورنری تعزمیں گذشتہ برس 42 اہم فیلڈ کمانڈروں سمیت ایران نواز حوثی گروپ کے کم سے کم 2860 جنگجو ہلاک ہوگئے۔ یوں تعز شہر حوثیوں کے لیے قبرستان ثابت ہوا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق یمنی فوج کے شعبہ اطلاعات کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ پچھلے برس تعز میں حوثیوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں میں 3116 جنگجو زخمی اور 36 کو گرفتارکیا گیا۔ اس کے علاوہ تعز میں حوثیوں کی 285 فوجی گاڑیوں، 26 اسلحہ اور گولہ بارود کے گوداموں اور کاتیوشا میزائلوں نے متعدد لانچنگ پیڈ تباہ کیے گئے۔

تعز میں باغیوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں گذشتہ برس صدارتی محل کے اہم حصوں، متعدد ٹیلوں، رہائشی کالنویوں، مغربی پہاڑے علاقے میں واقع مقبنہ پہاڑوں اور التشریفات کیمپ کو باغیوں سے چھڑا لیا گیا۔جنوبی تعز میں گذشتہ برس کی کارروائیوں میں الصلو، صوالحہ پہاڑے سلسلے اور حیفان محاذ سے بھی باغیوں کو ہاتھ دھونا پڑے۔یمن کے عسکری ذرائع کا کہناتھا کہ یمنی فوج اور اس کی معاون عرب اتحادی فوج نے تعز کو باغیوں سے آزاد کرانے کے لیے ایک نیا پلان تیار کیا گیا ہے۔ اس پلان پر جلد عمل درآمد شروع کیا جائیگا۔خیال رہے کہ حوثی باغیوں نے گذشتہ اڑھائی سال سے تعز پرخوفناک محاصرہ مسلط کر رکھا ہے۔ حوثیوں کی طرف سے تعز گورنری کے رہائشی علاقوں اورآبادی پر اندھا دھند گولہ باری روز کا معمول ہے۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...