قتل و غارت کا سدباب کیوں کر؟

قتل و غارت کا سدباب کیوں کر؟

قصاص کی حکمت اور اس کے احکام

امام کعبہ فضیلۃالشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس کا خطبہ!

بندگان خدا! اللہ کی عبادت کیجیے اس کا شکر ادا کیجیے کہ اس نے آپ کو دین اسلام کی ہدایت عطا فرمائی ہے۔ یہ دین عظیم مرتبہ والا، بلند خصلتوں والا اور واضح دلائل واحکام والا دین ہے۔

سنو! اپنے رب کے رستے پر چلو! تقویٰ کے سوا کسی کی رہنمائی مت چاہو! دنیا پر بھروسہ مت کرو! اپنے پروردگار پر اعتماد کرو اور اسی کو اپنا نگہبان سمجھو۔

اے مسلمانو! اسلامی شریعت کے مقاصد کاعلم حاصل کرنے کے لیے اور دلائل تلاش کرنے کے لیے، ان پر عمل کرنے اور انہیں اپنانے کے لیے، ان کی حکمتیں اور ان کے پوشیدہ اسرار ورموز جاننے کے لیے جو شخص نظر اُٹھاتا ہے، اس پر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ شریعت اپنے حقائق میں بے مثال ہے۔ اپنی چھوٹی سے چھوٹی چیز میں با کمال ہے، یہ ہر دور میں قابل نفاذ ہے، ہر نو ایجاد، جدید اور ہر نئی مشکل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ بلکہ یہ ہر بے بنیاد اور گمراہ کن طوفانِ افکار، اور پر فریب و پر اسرار خواہشات کی امواج سے بچاو کا ذریعہ ہے۔

اگر کوئی مفکر ومدبر مقاصد شریعت پر نظر دوڑائے تو وہ یقین کے ساتھ جان لے گا کہ حفاظتِ دین کے بعد مقاصد شریعت کی اصل اور اساس ، نفسِ انسانی کی حفاظت ہے۔ وہ نفس کہ جسے اللہ تعالیٰ نے تکریم اور شرف سے نوازا ہے، جس کی طرف اپنے کلامِ مبارک میں اشارہ فرمایا ہے، جس کی قسم کھا کر اس کی اہمیت بڑھا ئی ہے اور جسے پاکیزگی عطا فرمائی ہے۔ کیا ہی عظیم قائل کا فرمان ہے:

قسم ہے! نفس انسانی کی اور اُس ذات کی کہ جس نے اُسے ہموار کیا۔(الشمس)

نفسِ انسانی کو اللہ تعالیٰ نے جس تکریم اور جس شرف سے نوازا ہے، یہ حفاظت وضمانت کا حیران کن نظام ہے۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے اسے بغیر کسی ثابت جرم کے ہلاک ہونے سے روکا ہے۔ بھلا انسانی نفس کو کس طرح ہلاک کیا جا سکتا ہے جبکہ انسانی نفس کا قتل تخلیقِ الٰہی اور اس کی حکمتِ ربانی کو للکارنے کے مترادف ہے۔ یہ تو اللہ رب العزت کی قدرت ونعمت پر حملہ ہے۔

اے امت اسلام! تمام شریعتوں میں انسانی جان کی حفاظت کی گئی ہے، کیونکہ انہی کی حفاظت پر نظامِ عالم قائم ہے اور قتل، حکمتِ تخلیق وایجاد کی عین ضد ہے۔ شریعت اسلامیہ میں تو اللہ رب العزت نے قتل کو شرک کی مانند قرار دیا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے:

جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے۔ (الفرقان68)

پروردگارِ عالم نے انسانوں کو بہار کے باغوں کی سی زندگی عطا فرمائی ہے۔ نفسِ انسانی کی حفاظت فرمائی ہے اور اسے نظامِ کائنات اور شریعت اسلامیہ کا پابند بنایا ہے۔ آیات بیّنات میں فرمایا ہے:

اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔ (المآئدۃ 32)

اللہ تعالیٰ نے نفسِ انسانی کو ہلاک کرنے والی ہر شے سے منع فرمایا ہے اور اس جرم کی ہر راہ بند فرمائی ہے ۔ چنانچہ لڑائی جھگڑے سے منع فرمایا ہے، اختلافات اور نا راضیوں سے روکا ہے۔ جس شخص کا نفس اس بدترین جرم پر اسے اکساتا ہو، اسے اللہ رب العزت نے بد ترین وعید سنائی ہے، فرمایا:

رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اُس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر اللہ کا غضب اور اُس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(النسآء )

اے مومنو!دین اسلام، دین امن ہے۔ شریعت اسلامیہ کے احکام در حقیقت لوگوں کی دنیا وآخرت سنوارنے کے لیے ہیں۔ جہاں بھلائی یقینی نظر آئے، شریعتِ الٰہی کا حکم بھی اسی جگہ نظر آتا ہے۔ ہماری شریعت بناو ہے بگاڑ نہیں، تعمیر وترقی ہے تباہی وبربادی نہیں۔ ہماری شریعت بڑھاتی ہے فنا نہیں کرتی۔

تاہم جماعت سے الگ ہونے والے چند گمراہ گروہ نوک دار اسلحہ لیے، پر فریب سوچیں اپنائے، بے بنیاد منہج پر عمل کرتے ہوئے سوئے فتنوں کو جگانے اور معصوم خون کو بہانے میں لگے ہیں ۔ وہ زمین میں فساد برپا کرنے میں جتے ہیں اور جرائم کرنے میں مگن ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس بابرکت ملک کی کمائی پر پانی پھیر دیں، اس کی عمارتیں زمین بوس کر دیں اور اس کی خوش قسمتی، اس کی کرشماتی طاقت ، اس کی قوت کے مراکز اور دنیا میں اس کی عزت کو خاک میں ملا دیں اور بے گناہ معصوم جانوں کو قتل کریں۔ بلکہ اس سے بڑی آفت اور مصیبت یہ کہ وہ اللہ کے گھروں کی حرمت پامال کرتے ہیں، مقاماتِ عبادت اور مساجد پر حملے کرتے ہیں، ان کی عزت وحرمت پامال کرتے ہیں، پُر امن سجدہ ریزوں کو ڈراتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارے کام، بلکہ یہ تو بہت بڑے ہیں، ان سے بہت ہلکے کام بھی ہماری شریعت کے عظیم مقاصد کے منافی ہیں۔ صحیح حدیث میں آپ ؐ نے فرمایا:

تمہاری جانیں، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اس طرح حرام ہیں جس طرح اس مہینے اور اس مقام پر یہ دن حرام ہے۔ (بخاری ومسلم)

سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں:اُس ہستی کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! امت کو آپ ؐ نے یہ وصیت فرمائی ہے۔ فرمایا:

جو آج موجود ہے وہ غیر موجود لوگوں کو میرا پیغام پہنچا دے سنو! میرے بعد پھر کافر بن کر ایک دوسرے کی گردنیں نہ اتارنے لگنا۔

آپ ؐ نے فرمایا:

روزِ قیامت سب سے پہلے لوگوں میں خون ریزی کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ (بخاری ومسلم)

حافظ ابن حجرؒ بیان کرتے ہیں:

’’اس حدیث میں خون کی حرمت بیان کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ شروع اسی چیز سے کیا جاتا ہے جو بہت اہم ہو۔ گناہ کی سنگینی کا اندازہ فساد کی مقدار سے لگایا جاتا ہے، جو اس کے نتیجے میں ظاہر ہوتا ہے۔ انسانی ساخت کو تباہ کرنا تو انتہائی برا گناہ ہے۔ قتل کی سنگینی کے بیان پر مشتمل کئی آیات اور کئی اقوال پائے جاتے ہیں‘‘۔

صحیح مسلم میں روایت ہے کہ آپ ؐ نے فرمایا:

میرے بعد آپ بہت سے امور دیکھو گے تو جو شخص امت میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کرے جبکہ وہ ایک بات پر اکٹھی ہو چکی ہو تو ایسا کرنے والے کی گردن اتار دو۔

یقیناً امت میں تفرقہ پیدا کرنے والے کے لیے عدل وانصاف کا تقاضا بھی یہی بنتا ہے، تو بھلا اس شخص کی کیا سزا ہو گی جو قتل کرتا ہے، دھماکہ خیز مواد بناتا ہے، اس کی تشہیر کرتا ہے، امن وامان اور سکون برباد کرنے کی کوشش کرتا ہے اور معاشرے کے افراد میں خوف وہراس پھیلاتا ہے، جو مساجد سے جڑی، رکوع وسجود کرنے والی جانوں کو ہلکا سمجھنے لگتا ہے۔ رحمٰن کی بے مثال شریعت ، حدسے نکلنے والے کو اور جماعت سے الگ ہونے والے کو حق کے ذریعے سے حد کے اندر رکھتی ہے اور اس کی سنجیدگی اور غیر سنجیدگی درست کر دیتی ہے۔

ایسے ہی بیمار، ظالم اور شر پسند انسانوں کی وجہ سے اللہ رب العزت نے اس بد ترین گناہ پر سخت سزا رکھی ہے تاکہ ظالم قاتل کی راہ روکی جا سکے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

ا ے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے۔(البقرۃ)

اسی طرح فرمایا:

عقل و خرد رکھنے والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے اُمید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے۔(البقرۃ)

ظاہر ہے کہ یہ احکام امن وامان قائم رکھنے کے لیے، معاشرے کی حفاظت کی ضمانت کے لیے، جرائم کی جڑ کاٹنے اور لا قانونیت کو فروغ دینے والی ہر شے کی راہ روکنے کے لیے نازل کیے گئے ہیں۔

قتل سے ہاتھ اٹھا لے! اب تو حد ہی ہو گئی۔ اللہ سے ڈر، کہ اگر وہ چاہے تو تجھے ہلاک کر ڈالے۔ قتل چھوڑ دے، قتل در حقیقت ایک آگ ہے جو تجھے اور تیرے وجود کو جلا کے راکھ کر دے گی۔

برادرانِ اسلام! عدل قائم کرنا قابل نفاذ فرض ہے اور قابل توجہ حق ہے۔ ظلم چاہے حد پار کر تے ہوئے اللہ کی بخشی ہوئی زندگی سلب کر لے، تاہم عدل کا تقاضا جان کے بدلے جان لینا ہے، یقیناً اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ مخلوق کی بہتری کس میں ہے۔

حضرت قتادہؓ بیان کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے قصاص کو زندگی کا ذریعہ بنایا ہے، اہل طیش اور جاہلوں کی نکیل بنایا ہے۔ کتنے لوگ گناہ کا پختہ ارادہ کر لیتے ہیں اور اگر قصاص کا ڈر نہ ہو تو وہ ضرور گناہ میں کود پڑیں۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے قصاص کے ذریعے سے لوگوں کو ایک دوسرے سے فاصلے پر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام دنیا وآخرت کی بھلائی پر مشتمل ہیں اور تمام ممنوع امور دنیا وآخرت کے فساد سے بچانے کے لیے ہیں۔ یقیناً اللہ بہتر جانتا ہے کہ مخلوق کے لیے کیا بہتر ہے۔

تاہم قصاص کی ذمہ داری حکمرانوں کے سر ہے اور یہ انہیں سے مختص ہے۔

اے امت اسلام!اللہ تعالیٰ نے قصاص کو اُس کے لیے تنبیہ بنایا ہے جس کا نفس اسے برائی اور زیادتی پر اکساتا ہے۔ یا جس کی خواہشِ نفس حق اور ہدایت کے سامنے حائل ہو جاتی ہے اور اسے ہلاکت کی سواری پر سوار کر دیتی ہے۔ ایسا شخص جب تلوار کی دھار دیکھتا ہے تو اسے اپنی زندگی کی فکر پڑتی ہے اور وقت ہاتھ سے نکلنے سے پہلے ہی وہ اپنا حال سنوار لیتا ہے۔

یقیناً! تلوار نجومیوں کی کتابوں کی بہ نسبت زیادہ سچی خبریں دیتی ہے۔ اس کی دھار سنجیدگی اور کھیل کو الگ کر دکھاتی ہے۔

اس طرح سب لوگوں کو زندگی نصیب ہوتی ہے، اسے بھی نصیب رہتی ہے جسے قتل کرنے کی نیت کی گئی تھی اور وہ بھی زندہ رہتا ہے جس نے قتل کی نیت کی تھی۔ یہ ہماری حسین شریعت کے اعجاز کا ایک اور پہلو ہے۔ شریعت اسلامیہ باریک بینی، عدل اور انصاف کے اعتبار سے ایسے مقام پر فائز ہے کہ جسے دانشور بھی دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔ یہ شریعت وسطیت اور اعتدال کی شریعت ہے اور یہ ہر زمان ومکان میں نفاذ کی صلاحیت رکھنے والی شریعت ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے۔ (الملک)

حدود اور تعزیر ڈراوے اور رکاوٹ کا کام کرتے ہیں۔ ان کے نفاذ سے معاشروں میں امن وامان قائم رہتا ہے۔

زمین پر ایک حد نافذ ہونا، اہل زمین کے لیے چالیس دنوں کی بارش سے زیادہ فائدہ مند ہے۔

حدود کے قیام کا مقصد نفاذ شریعت ہونا چاہیے، نہ کہ خواہشات نفس کی اتباع۔ حدیں در حقیقت مخلوقات کے لیے رحمت ہیں، حق ظاہر ہونے کا ذریعہ ہیں، عدل کے قیام کا ذریعہ ہیں، ظلم رفع کرنے کا طریقہ ہیں۔ عقل کا تقاضا بھی یہ ہے کہ اچھا اور بُرا بَرابر نہ ہوں، یا نیک اور مجرم ایک جیسے نہ ہوں۔ جب قاتل کو یقین ہو جاتا ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے گا تو وہ قتل سے رک جاتا ہے۔

عرب کی پرانی کہاوت ہے: قاتل کو قتل کرنا ہی قتل روکنے کا طریقہ ہے۔

قرآن کریم کے بلیغ اسلوب پر بھی غور کیجیے کہ کس طرح قصاص کو زندگی کا نام دیا گیا ہے۔ جی ہاں! زمین والوں کے لیے زندگی ہے۔

نفاذِ حدود میں شریعت ا سلامیہ کی سر بلندی ہے اور اسی میں امت اسلامیہ کی عزت اور زندگی ہے اور چونکہ معاشرے نجات کی ایسی کشتی ہیں جو اپنے سواروں کو امن کے کنارے اور سلامتی کے ساحل پر لے جاتی ہیں تو مجرموں اور تخریب کاروں کو انہیں گاڑنے سے روکنا چاہیے اور کسی فسادی یا کھیلنے والے کو ان میں سوراخ ڈالنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

اسی طرح ان کے ہاتھ اس انداز میں پکڑنے چاہئیں کہ وہ رک جائیں، ان کا شر دور ہو جائے، ان کی زیادتی ختم ہو جائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے باغیوں اور خوارج سے جہاد کرنا شریعت اسلامیہ کا حصہ بنایا ہے تاکہ وحدت اور اجتماعیت کی حفاظت کی جا سکے۔ امن وامان قائم رکھا جا سکے اور افراتفری سے دور رہا جا سکے۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں اُن کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا اُن کے ہاتھ اور پاوں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں، یہ ذلت و رسوائی تو اُن کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں اُن کے لیے اس سے بڑی سزا ہے۔(المآئدۃ)

برادرانِ ایمان!ہم پر اللہ تعالیٰ کے عظیم ترین احسانات اور اعلیٰ ترین نعمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس مملکت خداداد میں اللہ کی مبارک شریعت نافذ ہے۔ صحیح اور صاف ستھرے عدالتی نظام میں اللہ کی حدود کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں۔ عدالتی نظام پر کوئی اثر و اندازنہیں ہو سکتا، صرف دین حنیف کی حکمرانی ہے۔ شریعت کے مقاصد اور اہداف کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اسلام کی بلند اقدار و روایات کی پوری دنیا میں نشرواشاعت کا فریضہ ادا کیا جاتا ہے۔ ہم اس پر اللہ تعالیٰ کے نہایت شکر گزار ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہمارے حکمرانوں کو عملی تدابیر اختیار کرنے کی توفیق عنایت کی ہے۔ ا س مقدس ملک میں بحرانوں سے نپٹنے کیلئے مضبوط فیصلے کیے جاتیہیں۔ جو نہایت پیشہ وارانہ اور جدید حالات سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے عادل حکمران کو ہر کجی کو دور کرنے والا اور ہر ظالم کو راہ راست پر لانے والا بنایا ہے۔ اسے ہر فساد کی اصلاح، کمزور کی قوت و طاقت، مظلوم کی داد رسی کرنے والا اور ہر خوفزدہ کیلئے پناہ گاہ بنایا ہے۔ وہ اللہ کی زمین پر اس کی شریعت کا محافظ ہے، اللہ کے بندوں پر گھنا سایہ ہے، اسی کے ذریعے اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچا جاتا ہے۔ مظلوم کی مدد کی جاتی ہے، ظالم کو روکا جاتا ہے اور خوفزدہ کو امن ملتا ہے۔

یہ لوگ جو ظالموں اور مجرموں پر نوحہ خوانی کر رہے ہیں، مظلوم اور مرنے والوں کو بھلائے بیٹھے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ حدود اللہ کا نفاذ نہایت سختی اور وحشت ہے، حالانکہ یہ عدل و انصاف کے ساتھ رحمت کی شاندار صورت ہے۔ یہ شخصی آزادی اور حقوق انسانی کے علمبردار بنے پھرتے ہیں، حالانکہ یہ دوغلے پن کا شکار ہیں۔ ان کے عدل کا معیار دہرا ہے۔ یہ لوگ فرقہ پرستی اور دہشت گردی کے قائل ہیں۔۔۔اللہ ہی مددگا رہے!(مترجم: اجمل بھٹی)

مزید : ایڈیشن 2