حکمت کی باتیں

حکمت کی باتیں

شیخ حفیظ میرے عملی استاد تھے، وہ زندگی کے ہر معاملے میں میرے گائیڈ تھے، وہ زندگی کے ہر معاملے میں میرے گائیڈ تھے، میں آج جو بھی ہوں، اس میں اللہ تعالیٰ کے کرم کے بعد ان کا بہت بڑا ہاتھ تھا، شیخ صاحب نے زندگی کی 80 بہاریں دیکھیں، ماشاء اللہ بھرپور زندگی گزاری، جوانی میں یورپ گئے اور ٹرینوں ٗ بسوں اور پاؤں سے پورا یورپ دیکھ ڈالا، پاکستان واپس آئے تو بینک میں ملازمت کر لی، وہ 1997ء میں ایک بڑے بینک سے سینئر نائب صدر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے اور 2016ء تک ریٹائر زندگی گزاری۔

میری ان سے پہلی ملاقات 1999ء میں ہوئی، میں اس وقت تازہ تازہ ’’مشہور‘‘ ہوا تھا اور یہ ’’مشہوری‘‘ مجھ سے ہضم نہیں ہو رہی تھی، شیخ صاحب ملے اور انہوں نے میری نکیل پکڑ لی، وہ زندگی کے ہر معاملے میں میری رہنمائی کرنے لگے۔

ان کا پہلا سبق بہت دلچسپ تھا، ان کا کہنا تھا ’’آپ جتنے بھی طاقتور ہو جائیں، آپ جتنے بھی کامیاب ہو جائیں، آپ وقت واپس نہیں لا سکتے۔ مثلاً آپ ساٹھ سال کی عمر میں دنیا کے امیر ترین شخص ہو جائیں اور آپ اپنی ساری دولت خرچ کر دیں تو بھی آپ بیس پچیس سال کے جوان نہیں ہو سکیں گے چنانچہ انسان کو جوانی کے کام جوانی ہی میں کرنے چاہئیں، انہیں بڑھاپے کے لئے بچا کر نہیں رکھنا چاہئے‘‘ ان کا کہنا تھا ’’آج کے دن میں زندہ رہنا سیکھو، کل آ جائے گا لیکن آج دوبارہ نہیں آئے گا۔‘‘

شیخ حفیظ نے بتایا، فیملی سپریم ہوتی ہے، ان کا کہنا تھا ’’میرے تمام عزیز ایک ایک کرکے میری زندگی سے نکل گئے، دوست ساتھ چھوڑ گئے یا دور چلے گئے، میں اس جاب سے بھی ریٹائر ہو گیا جس کے لئے میں نے اپنا خون، پسینہ اور زندگی کے قیمتی ترین سال ضائع کئے تھے، یوں میری زندگی سے ہر وہ چیز رخصت ہو گئی جس کو میں اہم سمجھتا تھا، آخر میں صرف فیملی رہ گئی، میرے ساتھ اب صرف میرے بچے ہیں چنانچہ انسان کو اس چیز پر کسی قسم کا ’’کمپرومائز‘‘ نہیں کرنا چاہئے۔ اسے سپریم رکھنا چاہئے جس سے آخری سانس تک ساتھ چلنا ہو‘‘ میں نے یہ بات بھی پلے باندھ لی، میں اب فیملی پر کمپرومائز نہیں کرتا۔

شیخ صاحب نے لکھایا ’’وعدہ نہیں توڑنا، اگر ایک بار کمٹمنٹ کر لی تو پھر اسے ٹوٹنا نہیں چاہئے اور آپ کی اس عادت کا پوری دنیا کو علم ہونا چاہئے، دوست بہت کم ہونے چاہئیں لیکن شاندار ہونے چاہئیں، اللہ تعالیٰ کو ہر وقت راضی رکھیں کیونکہ اگر وہ آپ کے ساتھ ہے تو پھر کوئی فرق نہیں پڑتا کون کون آپ کے خلاف ہے، بچت کو آپ کے اخراجات سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے، آپ 75 فیصد خرچ کریں صرف 25 فیصد بچائیں کیونکہ آپ اپنی خواہشوں اور حسرتوں کو دبا کر بچت کرتے ہیں اور یہ بچت کسی بھی وقت ضائع ہو سکتی ہے۔

لوگوں سے توقعات وابستہ نہ کریں، ان پر اعتبار کرنے سے پہلے کم از کم تین بار انہیں ٹیسٹ کر لیں، یہ نہ دیکھیں آپ کو کون کیا کہہ رہا ہے، کون آپ کے راستے میں روڑے اٹکا رہا ہے، کسی الزام کا جواب نہ دیں، بس اپنے راستے پر چلتے رہیں، کیوں؟ کیونکہ جو لوگ آپ کو جانتے ہیں، وہ ان الزامات کو اہمیت نہیں دینگے اور جو آپ سے واقف نہیں ہیں وہ آپ کی وضاحت کو اعتراف جرم سمجھیں گے۔‘‘

شیخ صاحب نے سمجھایا ’’بے غرض ہو جاؤ، لوگوں کی محتاجی سے نکل جاؤ گے، انسان کا کام انسان کی سب سے بڑی پبلک ریلیشننگ ہوتا ہے‘‘ شیخ صاحب نام نہاد روحانیت کے بھی سخت خلاف تھے، میں ایک وقت میں بزرگوں کی تلاش میں رہتا تھا، مجھے جس شخص کے سر میں راکھ نظر آتی تھی، میں اس میں پیر کامل تلاش کرنے لگتا تھا، شیخ صاحب نے یہ ’’متھ‘‘ بھی توڑ دی، وہ میرے ساتھ بزرگوں کی محفلوں میں جاتے اور انہوں نے ایک ایک کرکے تمام بزرگ بھگا دیے۔ انہوں نے ثابت کر دیا، آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر تمام انسان، انسان ہیں اور ہم میں سے ہر شخص خطا، طمع اور خوف کا پتلا ہے، انہوں نے سمجھایا، محنت سے بڑا محسن، نیک نیتی سے بڑا استاد اور مہارت سے بڑی کوئی جاب نہیں ہوتی، شیخ صاحب نے مجھے مزید دو دلچسپ چیزیں بھی سکھائیں۔

شیخ صاحب نے سمجھایا، آپ کبھی دل کے کمزور یا بے حوصلہ شخص کے لئے اسٹینڈ نہ لیں کیونکہ وہ شخص اپنے دعوے سے منحرف ہو جائے گا، وہ مخالف پارٹی سے صلح کر لے گا اور آپ پھنس جائیں گے۔

آپ ہمیشہ ایسے بہادر اور بااصول لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں جو پیچھے نہ ہٹیں، جو آپ کو میدان میں اکیلا نہ چھوڑ جائیں، انہوں نے سمجھایا، عزت اور دولت میں جب بھی کسی ایک کے انتخاب کا وقت آئے تو دولت کی قربانی دو کیونکہ دولت زندگی میں بار بار آتی ہے مگر عزت ایک بار چلی جائے تو پھر کبھی واپس نہیں آتی اور ان کا کہنا تھا، اپنے بچوں بالخصوص بیٹیوں کی تمام جائز ضروریات پوری کیا کرو، ان کا کوئی مطالبہ یا تقاضا مسترد نہ کرو کیونکہ بچے والدین کی محبت کو پوری زندگی یاد رکھتے ہیں۔

وہ کہا کرتے تھے ٗ وسوسے اور اندیشے گیدڑ ہوتے ہیں، یہ انسان کو اکثر گھیر لیتے ہیں اور آپ اگر ان پر قابو پانا سیکھ لیں تو آپ مسائل کے گرداب سے نکل آتے ہیں اور آپ اگر یہ فن نہیں سیکھتے تو گیدڑ آپ کی صلاحیتیں کھا جاتے ہیں، میں اکثر اپنے دوستوں یا جاننے والوں کو بتاتا ہوں، میری عمر ہزار سال ہے، میں 45 سال کا ہوں، میرا استاد 80 سال کا اور ہماری کتابیں 875 سال کی ہیں اور یہ ہزار سال کا تجربہ مجھے راستے سے بھٹکنے نہیں دیتا۔

مزید : ایڈیشن 2