اسلام کا تصورِ علم

یونیورسٹی آف ایجوکیشن ٹاؤن شپ کیمپس میں فلاسفی آف اسلامک ایجوکیشن کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی شہرت کے حامل سکالر و دانش ور اور مصنف ڈاکٹر پروفیسر انیس احمد نے کہا کہ اسلام کا تصورِ علم آفاقی اور اخلاقی ہے، جس کے مطابق ہمارے علم کی بنیادیں سچائی اور وحی پر استوار ہونی چاہئیں۔

خالقِ کائنات نے انسانوں کو ہر قسم کا علم حاصل کرنے کی تلقین کی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے کچھ اخلاقی حدود و قیود کا پابند بھی بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام محض عبادات کے مجموعے کا نام نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کسی بھی قسم کی تقسیم کا شکار ہوئے بغیر اسلام کے ابدی اور سرمدی پیغام کو سامنے رکھتے ہوئے کائنات کی تسخیر کے لئے اللہ رب العزت کے قوانین کے مطابق کوشاں رہیں۔

کوئی نظامِ تعلیم بغیر ’’فلاسفی‘‘ کے مکمل نہیں ہوتا۔ جیسا معاشرہ تشکیل کرنا مطلوب ہوتا ہے، ویسا ہی نظام تعلیم تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے مطابق نصابِ تعلیم اور طریقہ ء تعلیم اپنایا جاتا ہے۔

ایک سیکولر معاشرے کی اپنی ضروریات ہیں، ایک سرمایہ دارانہ نظام پر مبنی معاشرہ ، اپنی ضروریات کو پوراکرنے کے لئے، ویسا ہی نظامِ تعلیم متعارف کرائے گا۔ ایک اسلامی معاشرہ تشکیل دینے کے لئے فطری طور پر اس نظامِ تعلیم کی بنیادیں سچائی اور ’’وحی‘‘ پر استوار ہوں گی۔ اسلام کے اس تصورِ علم کو ’’آفاقی‘‘ اور ’’اخلاقی‘‘ کہہ سکتے ہیں۔


’’آفاقی‘‘ تو ظاہر ہے۔ وحی کے ذریعے ہوگا اور اخلاقی حدود و قیود کا تعین بھی ’’وحی‘‘ کے ذریعے ہی ہوگا۔ خالقِ کائنات نے انسانوں کو ہر قسم کا علم حاصل کرنے کی تلقین کی ہے۔

ہمارے پاس جو قرآنی تعلیمات ہیں، ان سے اسلامی معاشرت کی تشکیل کے لئے عبادات، معاشرت، معیشت، سیاست، سب کا تعلق اخلاقیات کے ساتھ جڑا ہوا ہے،یعنی اللہ کی ذات پر ایمان (توحید)، اللہ کے رسولؐ پر ایمان (رسالت)، اور آخرت کے قیام پر ایمان (قیامت)


بنیادی طور پر یہ ایمان کی تین بنیادیں ہیں۔ جس قدر ان کا یقین و ایمان دل میں گہرا ہوگا، نیکی کا عمل کرنا سہل اور برائی سے بچنا آسان ہوگا۔ گویا طاغوت کو شکست دینے کے لئے ایک ہی راہ ہے کہ اپنے دل کے یقین یعنی ایمان کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا ہے، کیونکہ ایمان تمام اعمال کی بنیاد ہے۔

اعلیٰ اور وزن دار ایمان، اتنا ہی اعلیٰ اور وزن دار عمل، جسمانی اعضاء سے نکلے گا اور قیامت کے روزاعمال کو گنا نہیں جائے گا، بلکہ ترازو پر تولا جائے گا اور اعمال کا وزن بقدر اخلاص، یعنی ایمان کی قوت / وزن کے بقدر ہوگا، اس لئے ایمان مضبوط بنانے کے لئے، قرآنِ حکیم کی تعلیمات کے ساتھ گہرا تعلق پیدا کرنا ہوگا۔

قرآن حکیم تفکر، تعقل اور تدبر کی طرف ترغیب دیتا ہے، جس کے ذریعے کائنات پر غور و فکر کرنے سے ایمان میں ترقی ہوگی اور کائنات کی تسخیر کرنے میں آسانی ہوگی۔ یاد رہے! قرآنِ حکیم میں تقریباً 750آیات ایسی ہیں جو عصری علوم (یعنی ریاضی، فزکس، کیمسٹری، آرکیالوجی، معاشیات، عسکریت اور قوت کے حصول کے بارے ہیں۔

گویا دینی علوم اور عصری علوم دونوں کا حاصل کرنا ایک مومن کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے، کیونکہ کلمہ کی دعوت کو پوری دنیا تک پہنچانا ہے۔


ہماری تعلیم کی ابتدا تو ’’اقرا‘‘ سے ہوتی ہے۔ گویا ہر مسلمان کے لئے ہر دو طرح کی تعلیم کا حصول لازم ہے۔ایمان باللہ، ایمان بالرسالت، تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کے ذریعے۔ ذاتی کردار کو اسلامی رنگ میں رنگنا اور اس کے ساتھ ہی اسلامی معاشرے کی تشکیل کرنا ہے۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی قسم کی تقسیم کے بغیر اسلام کے ابدی اور سرمدی پیغام کو سامنے رکھتے ہوئے کائنات کی تسخیر کے لئے، اللہ تعالیٰ کے قوانین کے مطابق کوشاں رہیں۔

جبھی ہم قرآن حکیم کی تعلیمات کی روشنی میں۔۔۔ ایک ’’اسلامی معاشرہ‘‘ قائم کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔۔۔یاد رہے! اسلامی احکام نہ صرف اپنی ذات پر لاگو کرنے ہیں۔۔۔ (گویا ان کو صرف اپنے کردار کا حصہ بنانا ہے)۔۔۔ بلکہ ایک اسلامی معاشرہ تشکیل کرنا ہے۔

اس مقصد کے حصول کے لئے یکساں نصابِ تعلیم۔۔۔ جس کی بنیادیں ’’وحی‘‘ پر مبنی ہوں گی، جس میں عبادات، معاملات، معاشرت، سیاست، (غرضیکہ زندگی کا ہر شعبہ اس میں شامل ہوگا) کہ اپنی ’’ذات‘‘ پر اور ’’معاشرہ‘‘ پر لاگو کرنا ہے، تاکہ ’’عہد الست‘‘ کو پورا کرنے کے اہل بن سکیں۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...