ایک سحر انگیز شخصیت

گوجرانوالہ کی مٹی بہت زرخیز ہے۔ یہاں بہت قلم کار اور فنکار پیدا ہوئے۔ عہدِ موجود میں اگر دیکھا جائے تو گوجرانوالہ میں مقیم چند گنے چنے ناموں میں سے ایک ایسا نام جس نے ادبی تخلیقی حلقوں میں نہ صرف اپنی پہچان بنائی بلکہ ادب سے وابستہ کئی لوگوں کو شعر کہنے ،بولنے کا ڈھنگ سکھایا اور وہ نام جان کاشمیری ہے۔

آپ برصغیر پاک وہند کے معروف شاعر شخ فضل حق اثر لدھیانوی کے شاگرد ہیں۔ جن کی پیدائش بھارت کے شہر لدھیانہ میں ہوئی اور پھر تقسیم ہند کے بعد آپ گوجرانوالہ جیسے شہر میں مستقل مقیم ہو گئے۔


جان صاحب خود بھی ایک نستعلیق آدمی ہے۔ اُن کا شمار اُستاد الشعراء میں ہوتا ہے۔ ان کا لہجہ شائستہ اور دل میں اُتر جانے والی مٹھاس کی طرح شیریں ہے۔ آپ بہت مہمان نواز اور ادب دوست آدمی ہیں۔ آپ سے جو کوئی بھی ایک بار ملے وہ آپ کی محبت کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔

ان کو صبح کی روشنی بہت اچھی لگتی ہے۔آپ کو خوابوں میں رہنا پسند نہیں آپ ایک صاف گو شخصیت کے حامل ہیں، آپ دوست اور دشمن میں فرق بخوبی جانتے ہیں ۔
مانا کہ جھوٹ بول کے مَیں پھول پھل گیا


لیکن مری انا کا جنازہ نکل گیا
جان کاشمیری جنہیں میں پاکستان میں بسنے والے سخن وروں کے دلوں کی جان بھی کہتا ہوں۔ کی شعرو سخن سے وابستگی کافی پرانی ہے۔ آپ نے بہت سے قومی اخبارات ورسائل میں کالم بھی لکھے۔ آپ کے لاتعداد شاگرد موجود ہیں ۔آپ گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے ایک ضخیم ادبی مجلہ ’’قرطاس‘‘ کے مدیراعلیٰ بھی ہیں۔ ان کا مشہور زمانہ شعر یاد آیا کہ:


مصروف کس قدر ہوں خدارا نہ پوچھیئے
یہ بات بھی بتانے کی فرصت نہیں مجھے
گزشتہ دنوں ایک سال میں بیک وقت دس شعری مجموعے لانا پھر انہیں حروفِ تہجی کے اعتبار سے ترتیب دینا میرے خیال میں کافی مشکل کام ہے اور یہ دونوں کام جان صاحب نے بخوبی آسانی سے کیے ہیں۔

ان کی دس عدد کتب میں ’’جنت میں خود کشی،چاند رات والی بات، حیرت سے آگے، خلوت کے بعد دوزخ میں آب کوثر، ڈوبتے ہاتھ کی فریاد، ذرا سی بات، روئے غزل، زمانے کی چھوڑو، ژرف نگاہی‘‘ شامل ہیں۔ جنہیں ملک کے معروف اشاعتی ادارے ’’ماورا‘‘ پبلشرز نے شائع کیا ہے۔ ان دس تصنیفات سے قبل ’’اعراف،برجستگی،پروائی، تدوین، ٹیس پہلے شائع ہو کر دادو تحسین حاصل کر چکی ہیں۔


جان صاحب نہ صرف بڑوں کے بلکہ بچوں کے بھی شاعر ہیں۔ انہوں نے بچوں کیلئے بہت دلچسپ آسان نظمیں بھی لکھی ہیں۔ ان کے اس شعری مجموعے کا نام’’ ث۔ ثمر‘‘ ہے۔


میرے پاس ان کے دس عدد شعری مجموعوں میں سے ’’ذرا سی بات‘‘ موجود ہے جو مصنف نے بقلم خود مجھے دی۔


یوں عمر بھر کا ساتھ نبھانا پڑا مجھے
کپڑا کفن کا لنڈے سے لانا پڑا مجھے
اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے بہت سے جملے سامنے آتے ہیں جس میں جان صاحب لکھتے ہیں’’کہ میرے نزدیک قبل از وقت فن کا تعین کرنا قرینِ انصاف نہیں توہینِ انصاف ہے میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ بارش کسی بھی موسم میں ہو اپنے دامن میں ٹھنڈک کا انمول رویہ رکھتی ہے۔‘‘


ان کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے کہیں کہیں ایسا لگتا ہے جیسے کئی صدیوں کی مسافت سے تھکا ہوا کوئی مسافر اپنی منزل کا پتہ تلاش کر رہا ہو۔انہیں رات کی تاریکی میں ٹمٹماتے جگنو بہت اچھے لگتے ہیں:
ہوتے ہی شام آپ ہی قندیل جل اٹھے
جگنو رکھے ہیں شیشے کی بوتل میں ڈال کر
محمدنصیر بٹ سے جان کاشمیری تک کا سفر طے کرنے والا یہ شخص جس میں صحرا کو گھر بنانے کا ہنر ہو، جو موتیوں کی تسبیح لفظوں کی مانند پرونا جانتا ہو، جو خزاں میں بہار لوٹنے کی اُمید رکھتا ہو، جو پھولوں سے خوشبو چراکر شعروں کی شکل میں دوسروں کی روحوں کو سکوں دیتا ہو،کتابوں کو تکیے کے نیچے رکھ کر محبت کے قصیدے لکھ رہاہو،دوسروں کا دُکھ اپنی جھولی میں ڈال لینے کا خیر خواہ ہو، نفرتوں کی بنجر زمینوں پہ وفاؤں کے پودے اُگانے کا خواہش مند ہو،اندھیروں میں علم کے اُجالے کرنے والا یہ آدمی دنیا کی ہر چیز سے بے نیاز نہیں ہو گا تو کیا ہو گا۔ان کے نزدیک وقت کی پابندی کرنا اور وقت کی قدر وقیمت سمجھنا ان کی پہلی ترجیحات میں شامل ہیں:
جو کام لازمی ہے وہ کرنا نہیں ہے یاد
ہر چیز ہم کو یاد ہے مرنا نہیں ہے یاد

جان صاحب کا شمار طویل غزل لکھنے والوں شعراء کرام میں ہوتا ہیں۔ اُنہوں نے ’’تصویر‘‘ کے عنوان پر لاتعداد شعر کہے ہیں۔ آخر میں ان کے دو اشعار قارئین کی نذر کرتا ہوا اجازت چاہوں گا۔


پسِ پردہ بھی تکلم سے گریزاں رہنا
لوگ آواز سے تصویر بنا لیتے ہیں
خشک روٹی کی ہے تصویر سجائی گھر میں
فن بتاتا ہے کہ فنکار کی حالت کیا ہے

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...