قصور جیسے واقعات کی روک تھام کیسے؟

قصور جیسے واقعات کی روک تھام کیسے؟

قصور میں سات سالہ بچی زینب کے ساتھ بداخلاقی کے بعد قتل کے واقعہ نے پورے ملک کو سوگوار کردیا، گزشتہ روز شہر میں پر تشدد احتجاج ہوا، پولیس نے مشتعل مظاہرین پر فائرنگ کردی جس سے دو مظاہرین جاں بحق ہوگئے، کئی افراد زخمی بھی ہوئے، زینب کے قتل کی خبر پھیلتے ہی مشتعل لوگ بڑی تعداد میں گھروں سے نکل آئے مظاہرین نے ڈپٹی کمشنر آفس پر دھاوا بول دیا اور اندر داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی مظاہرین نے ڈنڈوں اور پتھروں سے گاڑیاں توڑ پھوڑ دیں اور پولیس پر بھی پتھراؤ کیا جس سے بعض اہل کار زخمی بھی ہوئے، کئی مقامات پر ٹائروں کو آگ لگا کر ٹریفک مُعطل رکھی گئی شہر میں مکمل ہڑتال رہی تجارتی مراکز بند رہے، وُکلا نے بھی ہڑتال کی۔ ریجنل پولیس افسر کی جانب سے میڈیا کو بتایا گیا کہ بچی کی موت گلہ دبانے سے ہوئی اور واقعہ میں دوافراد ملوث ہوسکتے ہیں اُن کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے رپورٹ میں موت کی وجہ نہیں لکھی گئی، بچی 5جنوری کو ٹیوشن کے لئے جاتے ہوئے اغوا ہوئی تھی چار روز بعد اس کی لاش کچرے سے ملی۔ شہر میں امن و امان کے لئے رینجرز بھی طلب کی گئی ہے وزیر اعلیٰ نے جے آئی ٹی بنادی ہے چیف جسٹس نے واقعے کا از خود نوٹس لے کر چوبیس گھنٹے میں رپورٹ طلب کی ہے جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کو قاتلوں کی گرفتاری میں مدد دینے کے احکامات جاری کئے ہیں۔

سیاستدانوں نے اِس واقعے پر اپنے اپنے انداز اور اپنی اپنی سوچ اور سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر ردِ عمل کا اظہار کیا ہے، بطور مجموعی یہ واقعہ معاشرے کی ایک بہت ہی کر یہہ بدصورتی کا عکاس ہے، ایسے واقعات مختلف شہروں میں ہوتے رہے ہیں ان پر احتجاج جب پھیل کر اشتعال کی شکل اختیار کرتا ہے اور امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو حکام کے کان کھڑے ہوتے ہیں اسی نوعیت کے بہت سے واقعات تو ہو کر گزر جاتے ہیں اور اس جانب کسی کی نظر بھی نہیں جاتی، روٹین میں یہ معاملہ عدالتوں کے سُپرد ہو جاتا ہے جہاں مقدمہ لائن میں لگ جاتا ہے، ملزمان یا تو جیلوں میں بند ہو جاتے ہیں یا پھر ایک مخصوص مُدّت گزرنے کے بعد ضمانتوں پر رہا ہوجاتے ہیں۔

قصور میں بداخلاقی کا یہ تازہ واقعہ منظرِ عام پر آیا ہے تو ساتھ ہی بہت سے ایسے واقعات بھی سامنے آگئے ہیں جو ایک سال کے دوران رونما ہوئے ہیں جن کی نوعیت ملتی جُلتی ہے جن کے ملزم بھی گرفتار نہیں ہوئے اور نہ ہی اب تک یہ پتہ چلا ہے کہ ایسی اندوہناک وارداتوں میں کوئی جرائم پیشہ گروہ ملوث ہے یا کوئی ایک شخص ہے جو بار بار ایک ہی طرح کی واردات کر گزرتا ہے اور چونکہ قانون کا ہاتھ ابھی تک اس تک نہیں پہنچا اس لئے وارداتوں کا سلسلہ بھی رُک نہیں پایا اُمید یہ کرنی چاہئے کہ اب اگر اعلیٰ ترین سطح پر اس واقعہ کا نوٹس لیا گیا ہے تو جرائم پیشہ گروہ یا اگر اس کے کوئی سہولت کار جو بھی ہوں وہ پوری طرح بے نقاب ہوں گے اور کیفر کردار تک پہنچیں گے، چونکہ اِس معاملے پر احتجاج کا سلسلہ اشتعال تک پہنچ گیا تھا، توڑ پھوڑ کی نوبت بھی آئی اور پولیس نے گولی بھی چلائی جس سے دو قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں اس کی میڈیا کوریج کی وجہ سے ہر سطح پر اس معاملے کا نوٹس لے لیا گیا، لیکن اسی نوعیت کے بہت سے جرائم حالات و واقعات کی تیز رفتاری میں دب کررہ جاتے ہیں اور کسی بھی سطح پر ان کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا اس سے یہ نتیجہ نکالنا آسان ہے کہ قتل جیسے کسی بڑے واقعے پر بھی اگر میڈیا کے کیمرے فوکس نہ کریں تو اِس جانب کسی کی توجہ مبذول نہیں ہوتی اور معاملہ وقت گزرنے کے ساتھ ایک بھولی بسری کہانی بن کر رہ جاتا ہے۔

قصور کے واقعے نے ایک مرتبہ پھر معاشرے کو جھنجھوڑا ہے تو یہ بہت ضروری ہوگیا ہے کہ اب حکمران اور متعلقہ ادارے سر جوڑ کر بیٹھیں اور غوروفکر کے بعد ایسے قوانین بنائیں کہ سنگین جرائم رُک سکیں صرف قانون بنالینا ہی کافی نہیں ہوگا یہ ضروری ہوگا کہ ایسے جرائم کی سزا مختصر مُدّت میں جرم کرنے والے کو مل جائے جب سزانہیں ملتی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ اب اگر سزا مل بھی گئی تو بہت تھوڑی ہوگی تو چند برس کی جیل کاٹنے کے بعد ایسے جرائم پیشہ افراد پھر پُرانی حرکتیں کرنے لگتے ہیں ایسے اندوہناک جرائم کے لئے فوری انصاف کی عدالتیں قائم ہونی چاہئیں جہاں جرائم پیشہ افراد سزا پائیں اور سخت سزاؤں سے دوسرے جرائم پیشہ افراد نصیحت پکڑیں، جب تک ایسا نہیں ہوگا حالات کی اصلاح ممکن نہیں ہوگی۔

قصور کے واقعے کے دو پہلو ہیں ایک تو معصوم بچی ظلم کا نشانہ بن کر قتل ہوگئی اور یہ واقعہ والدین کے لئے عمر بھر کا روگ بن گیا، ایسے غمزدہ والدین کے زخم پر پھاہا رکھنے کی ضرورت ہے، دوسرے اس پر جو احتجاج ہوا وہ متشدد ہوگیا اور تشدد روکنے کے لئے جوابی تشدد نے دو افراد کی جان بھی لے لی، دونوں کی نوعیت الگ الگ ہے اور اِن کا علیحدہ علیحدہ تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے معاشرے میں تشدد کا رجحان فروغ پذیر کیوں ہے اور معاملے کو خوش اسلوبی اور سلیقے سے نمٹانے کی ہماری فورسز کی صلاحیتیں زوال پذیر کیوں ہیں؟ یہ سارا معاملہ تفصیلی غوروفکر اور گہرے مطالعے کا مطالبہ کرتا ہے قصور واقعے کے سلسلے میں یہ بات خاص طور پر نوٹ کرنے والی ہے کہ کیا ہجوم اس حد تک بے قابو ہو گیا تھا کہ گولی چلانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، کیا ہجوم کو کنٹرول کرنے کے باقی سارے طریقے ناکام ہوگئے تھے کہ براہ راست گولی چلادی گئی اگر باقی طریقوں کو آزمایا ہی نہیں گیا تو پھر یہ سوال پیدا ہوگا کہ پولیس کے وہ اہل کار جنہوں نے گولی چلائی وہ دباؤ یا خوف کا شکار ہوگئے تھے کہ انہیں لگا بے قابو ہجوم مزید نقصان پہنچائے گا، اِس سارے معاملے کو پوری جزیات کے ساتھ دیکھ کر یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ آئندہ ملتی جلتی صورتِ حال پیش آنے کی صورت میں پولیس کی حدود کہاں سے شروع ہوں گی اورکہاں ختم ہوں گی یہ معاملہ طے کرنے کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ اگر ایسے واقعات کا اعادہ ہوتا رہا تو اس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔

اس واقعے پر ملک بھر میں غم و غصہ کا اظہار بھی ہوگیا، احتجاج بھی بھرپور ہوا، لیکن یہ اس لئے کافی نہیں ہوگا کہ اگر مجرم دندناتے رہے تو پھر زیادہ وقت نہیں گزرے گا کہ ایسا ہی کوئی دلخراش واقعہ کسی دوسرے چھوٹے یا بڑے شہر میں ہوجائیگا، جب تک مجرموں کو سزائیں نہیں ہوتیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات نہیں کئے جاتے اس وقت تک احتجاج کی لہریں بھی اُٹھتی رہیں گی اور ان احتجاجوں کو روکنے کے لئے جوابی کارروائیاں بھی ہوں گی، اگر یہ معاشرہ اسی ڈگر پر چلتا رہا اور اخلاقی جرائم کے سامنے بند نہ باندھا گیا جس کا بظاہر کوئی اہتمام فی الحال نظر نہیں آتا اور جو کچھ ہورہا ہے وہ سب وقتی ابال نظر آتا ہے چند دن تک سب پرسکون ہوجائیگا اور اس وقت تک چین رہے گا جب تک کوئی دوسرا ایسا دردناک واقعہ معاشرتی اضطراب کا باعث نہیں بن جاتا، پاکستان مسلمان اکثریت کا ملک ہے لیکن یہاں ایسے جرائم جڑ پکڑرہے ہیں جن کا غیر مسلم معاشروں میں بھی تصور نہیں کیا جاسکتا، یہ تضادات ہمارے پورے نظام پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں اس کے لئے معمول کے اقدامات نہیں، غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے ورنہ جو کچھ ہورہا ہے اسی طرح ہوتا رہے گا۔جرم ہوتے رہیں گے احتجاج ہوتے رہیں گے، توڑ پھوڑ ہوتی رہے گی گولیاں چلتی رہیں گی مرنے والے مرتے اور زخمی ہونے والے زخمی ہوتے رہیں گے، محض نیک خواہشات یا احتجاجی بیانات اور مطالبات سے اصلاحِ احوال ممکن نہیں۔

مزید : رائے /اداریہ