بوسیدہ نظام کا شاخسانہ

پنجاب کے شہر قصور میں معصوم بچی کے ساتھ جو کچھ ہوا ، اس پر سوشل میڈیا میں طوفان برپا ہے۔ سیاسی قائدین، سماجی رہنماء، ذرائع ابلاغ ، وفاقی اور صوبائی حکومتیں، فوجی قیادت اور سپریم کورٹ کے سربراہ سمیت سب ہی چیخ اٹھے ہیں۔ زینب کو جس کیفیت اور ہولناکی سے دوچار ہونا پڑا وہ انفرادی فعل کا نتیجہ تھا۔

ایک درندہ صفت شخص نے معصوم بچی کو جس طرح ہوس کا نشانہ بنایا، اس کی زندگی ختم کردی اور لاش کو کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا، اس کا سزاو ار صرف ایک شخص ہے، وفاق اور پنجاب میں حکمران جماعت صرف ن لیگ کو اس واقعہ کا ذمہ دار نہیں ٹہرایا جا سکتا ہے۔

ہاں البتہ پاکستان کا پورا نظام حکومت اس کا ذمہ دار ہے اور قصور کی پولیس ذمہ دار ہے۔ پاکستان میں تھکی ہوئی اور ذاتی ملازمین کی حیثیت رکھنے والی پولیس ہے۔ پاکستان میں عدالتی نظام اور نظام انصاف میں جھول اور کوتاہیوں کی بھر مار ہے۔

بلدیاتی نظام میں کوئی منتخب نمائندہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں مخلص نہیں۔ پاکستان کو فرسودہ نظام کے تحت ایسے چلایا جا رہا ہے جس میں افراد کو تو تحفظ، سہولتیں اور مراعات حاصل ہیں لیکن پورے معاشرے کو محروم کردیا گیا ہے۔

خواص کو عدلیہ میں سہولت حاصل ہے، پولیس ان کے حکم کو بجا لاتی ہے ۔ سیاست دان اپنی ذات کے دائرے میں ہی گھوم رہے ہوتے ہیں۔ بلدیاتی ادارے صفائی ستھرائی کا کام اسی وقت انجام دیتے ہیں جب ان کی نظر میں خواص ان کے علاقوں کا دورہ کرتے ہیں۔

اگر ایسا نہ ہوتا تو سپریم کورٹ تعلیم ، صحت اور پینے کے پانی کے معاملات کو نہیں دیکھ رہی ہوتی۔ خواص کو علاج کی بہترین سہولتیں اس لئے حاصل ہیں کہ ان کے پاس پیسہ اور اثر موجود ہے۔

انہیں پینے کو بہترین منرل واٹر میسر ہوتا ہے اس لئے انہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ عوام کو تو سپریم کورٹ کے واٹر کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پینے کو فضلہ ملا پانی ملتا ہے۔ خواص کے بچے بہترین نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور عوام کے بچوں کو جن اسکولوں میں تعلیم فراہم کی جاتی ہے وہ اسکول ہر طرح کی سہولت سے محروم ہیں۔قانون کا شکنجہ صرف بے اثر ، وسائل سے محروم، وکلاء کی منہ مانگی فیس ادا کرنے کی سکت نہ رکھنے والوں پر کسا جاتا ہے۔


حیران کن بات ہے کہ فوج کے سربراہ کو یہ حکم دینا پڑا کہ قصور میں پیش آنے والے جرم کے مرتکب فرد کی تلاش میں مدد کریں۔ فوج کا کام کیا اب یہ بھی ہوگیا ہے کہ وہ ملزمان کی گرفتاری میں مدد کرے۔ اگر پولیس نا اہل ہے تو محکمہ کی تنظیم نو کیوں نہیں کی جاتی؟

قصور میں جس طرح ذرائع ابلاغ میں خبریں موجود ہیں کہ ایک سال کے دوران زینب کے ساتھ پیش آنے وا لے واقعہ سے قبل بھی بچوں کے ساتھ گیارہ دفعہ پیش آچکا ہے۔ قصور کے معطل اور او ایس ڈی بنائے جانے والے ڈی پی او کہتے ہیں کہ انہیں تو قصور میں متعین ہوئے صرف تین ماہ ہوئے ہیں۔

لوگ تو ابھی تک چھوٹو گینگ کی گرفتاری اور ان کے انجام سے بھی بے خبر ہیں۔ پولیس کے نظام میں موجود سادہ لباس اہل کاروں کی کیا ذمہ داری ہوتی ہے۔ کیا کسی ضلع کے پولیس سربراہ کا یہ کہہ دینا کہ انہیں تو تین ماہ ہی ہوئے ہیں، اس بات کی دلیل ہے کہ ان سے قبل ضلع میں جو کچھ ہوتا رہا ، وہ بری الذمہ ہیں۔

اگر قصور پولیس نے پہلے واقعہ کو ہی سنجیدگی سے لیا ہوتا تو تواتر کے ساتھ واقعات پیش نہ آتے اور ننھی ز ینب کی جان بھی نہ جاتی۔ قصور میں پیش آنے والے اس واقعہ کے سب ہی ذمہ دار ہیں۔ سب ہی زینب کے قصور وار ہیں۔

معاشرے اس طرح نہیں چلتے جیسے پاکستان میں چلایا جاتا ہے۔ معاشروں کو سنوارنے کا کٹھن کام اسی طرح سر انجام دینا ہوتا ہے جیسا کسی پودے کی مسلسل دیکھ بھال کرکے اسے درخت بنایا جاتا ہے۔

کیا پولیس کا کام صرف یہ رہ گیا ہے کہ وہ براہ راست گولی چلا کر احتجاج اور مظاہرہ کرنے والوں کو قتل کردے۔ قصور میں دو مظاہرین کو قتل کر دیا گیا۔ لاہور ماڈل ٹاؤن کے سانحہ اور کراچی میں اساتذہ پر لاٹھی چارج کرنے والوں کے خلاف با معنی کارروائی کی جاتی تو محکمہ پولیس کے افسران کے کان کھڑے ہوتے۔ منظور نظر افسران کی تقرریاں بھی محکمہ پولیس میں خامیوں اور کوتاہیوں کی نشان دہی کرتی ہیں۔

کراچی میں بھی کچھ عرصہ قبل نقاب پوش پولیس والوں نے ہائی کورٹ کے احاطے میں کارروائی کی تھی، انہیں کوئی سزا نہیں ہوئی۔ یہ خبریں بھی سوشل میڈیا پر گشت کر رہی ہیں کہ رینجرز کے اس جوان کی جس نے کراچی میں سرفراز شاہ نامی نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا ، سزا کو صدر پاکستان نے معاف کر دیا ہے ۔

شاہ رخ جتوئی کیس میں انسداد دہشت گردی کے قانو ن کی دفعات کو مقدمہ سے خارج کردیا گیا اور اسے ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ شاہ رخ نے جس انداز میں شاہ زیب کو قتل کیا، کیا اس کا وہ قدم دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا۔ بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کے رکن مجید اچک زئی کو بھی ضمانت پر رہائی مل گئی ۔

ان پر سڑک پر ڈیوٹی دیتے ہوئے پولیس اہل کار کو کچلنے کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ پنجاب میں مصطفے کانجو کے خلاف بھی مقدمہ زیر سماعت ہے۔ بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر سے کئی کروڑ روپے کی رقم بر آمد کی گئی، ان کا مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے۔ ان کے انجام سے حکام ہی باخبر ہوں گے۔

بلوچستان کے مستعفی ہونے والے وزیر اعلیٰ ثناء للہ زہری کے پرسنل سیکریٹری ایوب قریشی کے قبضے سے کئی کروڑ روپے بر آمد ہوئے ، ان کا انجام کیا ہوگا۔

اس تماش گاہ میں سب کچھ نظام کی خامیوں کا شاخسانہ ہے۔ ایسا نظام جس میں بااثر دولت مندوں کو ہر قسم کی چھوٹ حاصل ہو، دولت مند کچھ ہی کیوں نہ کر گزرے، قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب کیوں نہ ہوجائے، اسے معافی مل ہی جاتی ہے۔

یہی خطا اگر کسی بے اثر اور غریب سے ہو جائے تو قانون کا شکنجہ سخت ہوجاتا ہے۔ جو با اختیار ہیں وہ عملی قدم اٹھانے پر تیار نہیں ہیںِ ، اپنی رائے کا اظہار بیانات دے کر سمجھتے ہیں کہ گراں قدر خدمت انجام دے دی ہے۔

بے اختیار لوگوں کی کیا بات کریں۔ والدین ، اساتذہ اور سماجی کام کرنے والے بھی ذمہ دار ہیں کہ بھارتی فلمی اداکار عامر خان کی طرح بچوں کی تربیت نہیں کرتے کہ انہیں اپنے آپ کو کس طرح محفوظ ر کھنا چاہئے۔ سوشل میڈیا پر طیبہ بخاری کی نظم ’’ پھر ہوا ہے ظلم ننھی بچی پر ‘‘ گردش میں ہے، وہ بھی نظام کی کمزوریوں کی نشان دہی کرتی ہے۔ اس کا کچھ حصہ ملاحظہ فرمائیں ۔


زینب کو انصاف دلانا چاہئے،
حاکم کو احساس دلانا چاہئے،
بھوک اور غربت نام نہیں کمزوری کا،
عزت کو یوں نام نہ دو مجبوری کا،
منصف ہو تو حشر اٹھاؤ راج کرو،
راج کرو تو خلقِ خدا کو یاد کرو،

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...