پھول سی بچی کے خون کا حساب کون دے گا؟

اللہ مغفرت فرمائیں، پولیس افسر الحاج حبیب الرحمن انسپکٹر جنرل پولیس اور پولیس فاؤنڈیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تھے، ایک عرصہ انہوں نے لاہور میں بطور ایس، ایس، پی بھی گزارا، انہی کے دور میں یہاں پولیس مقابلوں کا سلسلہ چلا اور موقع پر انصاف دیا جانے لگا، اس وقت جنرل موسیٰ (مرحوم) گورنر تھے، اسی دور میں ایک سال کے لئے ہمیں کرائمز رپورٹنگ کرنا پڑی تو ان سے بھی واسطہ پڑا، محترم سول سروس کے تھے اور کئی تربیتی کورس بھی کئے ہوئے تھے، ایک بار ان کے دفتر میں جرائم کی شرح پر بات ہورہی تھی تو انہوں نے فرمایا جرائم کی سب سے زیادہ شرح تو امریکہ کے شہر نیویارک میں ہے، ہم نے گزارش کی اور پوچھا کہ جرائم کی شرح اپنی جگہ یہ بتایئے کہ وہاں ملزموں کی گرفتاری اور جرائم روکنے کی شرح کیا ہے تو ان کو تسلیم کرنا پڑا کہ جرائم کی تفتیش اور ملزموں کی گرفتاری کی شرح نوے فی صد سے زیادہ ہے، اس پر ہم نے گزارش کی تھی کہ یہاں معاملہ مختلف ہے کہ جرائم بھی ہوتے ہیں اور سراغ کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، ملزم گرفتار نہیں ہو پاتے اور اگر کوئی ملزم بدقسمتی سے پکڑ بھی لئے جائیں تو تفتیش میں کمی رہ جاتی اور یہ ملزم عدالتوں سے چھوٹ جاتے ہیں، یہ سلسلہ اب تک بھی جاری ہے اور ہمارے ملک کی پویس ملزموں کو دفن کرنے کے بجائے واقعات کو دفع کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔


یہ حقیقت کئی بار ثابت ہوچکی، آج کی پولیس کیل کانٹے سے لیس ہے، جبکہ ایلیٹ فورس، ڈولفن، پیرو اور دوسری کئی قسم کی فورسز بھی بنائی گئی ہیں، گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں قیمتی اور نئی ہیں، اس کے باوجود جرائم کی شرح میں کمی نہیں آرہی، بلکہ اضافہ ہورہا ہے۔

بلکہ اب تو بہیمانہ قسم کے جرائم عام ہوگئے ہیں اور اندازہ ہوتا ہے کہ انسان انسانیت کی سطح سے کتنا نیچے گرچکا ہوا ہے، ہم نے ابھی ایک ہی روز قبل فرار کا راستہ اختیار کیا لیکن یہ معاشرہ ایسا نہیں ہونے دیتا، زینب پانچ چھ روز سے گم تھی کہ اچانک بدھ کی صبح اس کی نعش مل گئی اور پھر یہ بھی ثابت ہوگیا کہ معصوم کی بے حرمتی کے بعد اس کا گلا گھونٹ دیا گیا تھا، یہ کوئی اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے اسی علاقہ میں اس نوعیت کی گیارہ وارداتیں ہوچکیں اور کسی کا سراغ نہیں ملا، جبکہ انہی دنوں شیخوپورہ میں بھی چھوٹی بچی کے ساتھ ایسے ہی سلوک کے بعد اسے قتل کردیا گیا ہے، یہاں تو پچھلے روز ہی ملزم کی نشان دہی کرکے اس کے ساتھ ’’انصاف‘‘ کردیا گیا کہ وہ مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔


جہاں تک قصور کا تعلق ہے تو بچی کے والدین عمرہ کی سعادت کے لئے گئے بعد میں بچے قریب ترین رشتہ داروں کی نگرانی میں تھے ان میں سے زینب پانچ چھ روز پہلے گم ہوگئی، لواحقین نے اغوا کی رپورٹ درج کرائی پولیس نے روائتی انداز اختیار کرتے ہوئے کوئی خاص توجہ نہ دی اور یہ سانحہ ہوگیا۔


ایک پھول کے مسلے جانے پر پورے ملک میں دکھ کی لہر دوڑ گئی یہ درد بھری آواز ملک سے باہر بھی سنی گئی اور پولیس کی روائتی کاہلی پر بات ہونے لگی، قصور کے شہری بے چین ہو کر احتجاج پر اتر آئے کہ پولیس کا رویہ بھی ٹھیک نہیں تھا، یوں بھی اندازہ ہوا کہ ایسے واقعات تسلسل کے ساتھ رونما ہوئے ہیں اور کسی کا سراغ نہیں ملا، اسی قصور میں نو عمر لڑکوں کے ساتھ زیادتی کے سانحات پیش آئے اور ان پر بھی بہت احتجاج ہوا، پولیس نے بڑی مستعدی دکھائی اور بہت سی گرفتاریاں ہوئیں۔

مقدمات بھی بنے اور چالان عدالت میں چلے گئے، ان دنوں بھی پولیس مقابلہ ہوا اور دو ملزم مارے گئے بعد میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ پولیس نے مک مکا کیا ہے اور مارے جانے والے اصل ملزم نہیں تھے اور اس جرم کا بانی تو گرفتار ہی نہیں ہوا۔


اب بھی ننھی پری زینب کی نعش ملی تو عوام جذبات پر قابو نہ رکھ سکے کہ پہلے سے گیارہ وارداتوں کا کوئی سراغ نہیں ملا، اشتعال لازم تھا اور پھر اس مظاہرے اور احتجاج کو سنبھالنے کی تربیت بھی نہیں تھی چنانچہ پولیس ملازمین نے انصاف بھی اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور مظاہرین کی توڑ پھوڑ کے جواب میں خود سیدھی گولیاں چلا کر متعدد لوگوں کو زخمی کردیا، ان میں سے دو افراد اسی وقت مارے گئے اور یوں اب احتجاج کی نئی شکل بھی آگئی ہے۔

دکھ تو یہ ہے کہ اس ایک واردات کا میڈیا کو علم ہوگیا اور دکھ کی لہرکا اظہار ہونے لگا، کئی آنکھیں اشک بار ہوگئیں اور احتجاج کا نیا سلسلہ شروع ہے، یہ سانحہ ہوا تو اب اس پر بہت کچھ کہا جارہا، یہاں بچوں کی تعلیم و تربیت سے ان کی نگرانی تک کے اقدامات کئے جاچکے ہیں اس کے باوجود ملزم کا کچھ پتہ نہیں، دوسری طرف شیخوپورہ پولیس زیادہ عقل مند ثابت ہوئی کہ ضلعی پولیس افسر نے بچی پر تشدد کے مبینہ ملزم کو پار بھی کردیا ہے، یہ ایک مشکوک مقابلہ ہے، جس کو مارا گیا اس کے بارے میں یقینی طور پر نہیں بتایا گیا کہ اس نے یہ مکروہ فعل کیا اور کب کیا، یہ بھی ممکن ہے کہ گلے سے ایک جرم اتارنے کے لئے کوئی قابو آگیا ہو؟


ادھر قصور میں حالات کشیدہ ہیں، آج پورا شہر بند ہے اور لوگ دھرنا بھی دیئے ہوئے ہیں، کیا ملزم مل جائے گا؟ یہ شبہ والی بات ہے کہ سی، سی، ٹی،وی کی فوٹیج صاف نہیں ہے، اسے صاف کرنے کے بعد ہی نادرا کسی قابل ہوگا۔ دوسری طرف اس سانحہ کی توضیح کے لئے بڑے لوگ میدان میں ہیں، کوئی سیریل کلنگ کا ذکر کرتا ہے تو کوئی اسے نفسیات کی بیماری بتاتا ہے۔

حالانکہ یہ انسانیت کی بہت بڑی تذلیل ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولیس کی روائتی کارروائی ہورہی ہے اور ہمارے سیاسی قائدین اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے، ہمارے ڈاکٹر طاہر القادری تو جا کر نماز جنازہ بھی پڑھا آئے ہیں ہمارے نزدیک یہ بھی غیر مناسب ہے اور برسراقتدار حضرات کی طفل تسلیاں بھی سانحہ کی شدت کو کم نہیں کرسکتیں، اس کے لئے تو گہری تفتیش اور اصل ملزم کی گرفتاری لازم ہے، ایسے سفاک ملزم کو باقاعدہ چارج شیٹ کے بعد سخت ترین سزا ملنا چاہئے، تاکہ لوگوں کا اعتماد بحال ہو۔


سوال تو یہ ہے کہ حکومت پنجاب نے پولیس پر جو سرمایہ کاری کی اس کا بدل کیا ہے؟ کیا سہولتیں اور تربیت ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی اور تھانہ کلچر کی تبدیلی کے دعوے ہوا ہوگئے ہیں؟ لوگ پوچھتے ہیں کہ جن نوجوانوں کو گولیاں ماری گئیں، ان کا قصور کیا تھا؟ اس سلسلے میں جانبداری کا شائبہ بھی پایا جاتا ہے اور یہ سوال بھی ہے کہ جو وارداتیں پہلے ہوچکیں ان کی تفتیش اور ملزموں کی گرفتاری کا کیا بنا؟

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...