پاکستانی مدد کے بغیر امریکن آرمی کی حالتِ زار (2)

رچرڈ اولسن سابق امریکی سفیر جو چار برس تک اسلام آباد میں رہے اور 2016ء میں واپس گئے، پاک امریکہ تعلقات پر اپنے آرٹیکل میں آگے چل کر لکھتے ہیں:


امریکہ نے افغانستان کے مسئلے کا حل یہ نکالا کہ 2001ء سے بش ایڈمنسٹریشن نے پاکستان کے لئے ایک بڑا امدادی پیکیج دینا شروع کر دیا اور پاکستان، افغانستان کی جنگ میں ہماری جو مدد کر رہا تھا اس کا خرچہ ہم نے نقد ادا کرنا شروع کر دیا۔

لیکن پاکستانیوں کی نگاہ میں یہ ادائیگی اس مقصد کے لئے تصور کی جانے لگی کہ یہ پاکستان میں اندرونی دہشت گردی کے انسداد کا معاوضہ ہے۔ ان کی نظر میں 50000پاکستانی جانوں اور بے حساب مالی نقصانات کی لگائی ہوئی یہ امریکی قیمت ایک نہایت نفرت انگیز اور بہت بری ڈیل تھی۔


اس کے باوجود کہ ہم نے اوباما ایڈمنسٹریشن کے دور میں ایک ارب ڈالر سالانہ پاکستان کی ڈویلپ منٹ کے لئے دیئے۔ لیکن پھر بھی اس کے بدلے میں امریکہ کو وہ کچھ حاصل نہ ہو سکا جو امریکہ چاہتا تھا۔

وہ پاکستانی جرنیل جو راولپنڈی میں بیٹھے افغانستان پالیسی کوچلانے کے ذمہ دار ہیں ہم ان کو کبھی بھی اس بات کا قائل نہ کر سکے کہ ان کو امریکہ اور طالبان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے یعنی ہماری کوشش تھی کہ پاکستان، طالبان کی مدد ترک کر دے اور امریکہ کا ساتھ دے۔


میں ذاتی طورپر اس تلخ تجربے کا گواہ ہوں کہ مجھے اسلام آباد میں چار سال تک پاکستان کے سامنے اس امریکی خواہش کی رٹ لگانے کا موقع ملا لیکن میں پاکستانی جرنیلوں کو نہ خرید سکا!۔۔۔وہ جرنیل اچھی طرح جانتے تھے کہ جب تک امریکی فوج افغانستان میں موجود ہے اس کی موجودگی کا دارومدار پاکستان پر ہے جبکہ پاکستان کا دارومدار امریکہ پر نہیں۔


یہی وہ تضاد تھا جو واشنگٹن اور راولپنڈی کے درمیان تھا اور جس کی وجہ سے امریکہ کے تعلقات، بالخصوص اوباما ایڈمنسٹریشن کے آخری برس میں ،زیادہ کھل کر منظرِ عام پر آگئے۔


تلخ و ترش ہی سہی حقیقت یہی ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد پر امریکی اثر و رسوخ بتدریج زوال کا شکار ہوا۔۔۔۔[راولپنڈی سے مراد پاک فوج اور اسلام آباد سے مراد پاکستان کی سویلین حکومت ہے۔ مترجم]۔۔۔ اور جب امریکی امداد کا لیول کم ہونے لگا اور ہم نے پاکستانی پالیسی سے ترش روئی کا مظاہرہ کیا تو چین کی طرف سے پاکستان کی امداد میں اضافہ ہو گیا۔


چین نے پاکستان میں تقریباً 62ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی اور سی پیک (CPEC) کے تحت پاکستانی انفراسٹرکچر کو ڈویلپ کرنا شروع کیا۔ یہ چین کے ’’ون بیلٹ، ون روڈ‘‘ پراجیکٹ کا ایک حصہ ہے۔ پاکستان میں اتنے بڑے منصوبے میں اتنی کثیر سرمایہ کاری اس امریکی امداد کے سامنے ہیچ ہو گئی جو ہم نے آج تک پاکستان میں کی تھی۔


چنانچہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو نیچا دکھانے اور اس کو سزا دینے کی جو کوشش ٹرمپ انتظامیہ کر رہی ہے وہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔ دوسرے ممالک کی طرح اگر کوئی کھلے بندوں پاکستان پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان کا ردعمل شدیدہوتا ہے اور وہ اس بات کا بہت بُرا مناتا ہے۔ اس لئے اس امر کے آثار نظر آ رہے ہیں کہ پاکستان، افغانستان میں ہماری پوزیشن کو کس کس طرح کمزور اور ضعیف کر سکتا ہے۔


بہتر اپروچ یہ ہوگی کہ ہم ’’اندر خانے‘‘ (پرائیویٹ طور پر) اعلیٰ ترین لیول پر اور صاف صاف لفظوں میں پاکستانیوں پر واضح کردیں کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی کوئی بھی صورت تبھی برقرار رہے گی اگر پاکستان،طالبان سے (بشمول حقانی نیٹ ورک) اپنے روابط ختم کر دے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی شہرت یہ ہو چکی ہے کہ اس کی پالیسیاں ہارڈ لائن ہیں اور وہ گزشتہ تمام امریکی پالیسیوں کے برعکس جا رہی ہیں اس لئے پاکستان کو بھی امریکہ کی طرف سے یہ حتمی اور قطعی پیغام دے دیا جائے۔


لیکن کسی ٹویٹ کا راستہ اختیار کرنا اور اس طرح کھلے عام یہ اعلان کر دینا کہ ہم پاکستان کو دی جانے والی ہر قسم کی امداد ختم کر رہے ہیں، کوئی ایسا راستہ نہیں جس سے کسی کامیابی کی امید رکھی جا سکے۔

امریکہ، مسئلہ ء افغانستان صرف اور صرف سیاسی طور سے حل کر سکتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ اس تصادم کا بھی آخری حل یہی ہے کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لئے طالبان سے مذاکرات کئے جائیں۔ لیکن ہماری پالیسی کا بیشتر رخ دوسرے ذرائع اور دوسری بہانہ سازیوں کی طرف جا رہا ہے۔


ٹرمپ انتظامیہ یہ بات کھلے عام کہہ چکی ہے کہ وہ افغان تنازعے کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ مذاکرات کیوں شروع نہیں کئے جا رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


قارئینِ گرامی! آپ نے ایک سابق امریکی سفیر کے خیالات پڑھے۔ میں رچرڈ اولسن کے اس آرٹیکل پر آپ کی توجہ دو باتوں کی طرف مبذول کروانی چاہتا ہوں۔ ایک تو یہ ہے کہ اولسن، صدر اوباما کے دور میں سفیر تھے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں اوباما کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے اور ٹرمپ ری پبلکن پارٹی سے وابستہ ہیں۔

اگر 2016ء کے امریکی الیکشنوں میں ڈیموکریٹ کامیاب ہو جاتے تو آج ہلیری کلنٹن، صدر ہوتیں اور پاکستان کے بارے میں ان کی اپروچ وہی ہوتی جو اولسن کے اس مضمون میں بیان کی گئی ہے۔

لیکن ٹرمپ چونکہ ری پبلکن ہیں اس لئے اس پارٹی کی سوچ الگ ہے۔ جیسا کہ پاکستان میں پی ٹی آئی اور نون لیگ کی سوچ میں اختلاف ہے اسی طرح امریکہ میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکن ایک دوسرے کے حریف ہیں۔ ٹرمپ کا نقطہ ء نگاہ اور اوباما کا موقف ایک نہیں ہو سکتا اور ٹرمپ کی ٹویٹ، ہلیری کی ٹویٹ نہیں بن سکتی تھی۔۔۔


دوسری بات یہ ہے کہ امریکہ گزشتہ 16برسوں سے افغانستان میں پھنسا ہوا ہے اور اسے کوئی ایسی راہ نظر نہیں آتی جو اس سپرپاور کی اَنا کی تشفی کر سکے کیونکہ سپرپاور کی اَنا بھی سپر ہوتی ہے۔

آپ کو یاد ہوگا جب عراق پر حملہ کیا گیا تھا تو ساری دنیا نے اس حملے کی مخالفت کی تھی۔ صرف برطانوی دم چھلا بش کے ساتھ تھا۔ لیکن اس کے باوجود حملہ ہوا اور مشرق وسطیٰ کا سارا نقشہ بدل دیا گیا۔ اور امریکہ کے ساتھ ناٹو بھی تو ہے اور انڈیا بھی ہے۔۔۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ کون ہے؟


یہ ایک بڑا ہی اہم سوال ہے۔ امریکہ نے کل ہی اپنے باشندوں کو انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ بلوچستان، فاٹا اور پاکستان کے مشرقی شہروں کا سفر نہ کریں۔۔۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ ۔۔۔کیا ہم میں سے کسی نے اس وارننگ کا مفہوم سمجھا ہے؟۔۔۔ حکومت کیا کر رہی ہے؟

۔۔۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ہمارے وزیراعظم، ٹرمپ کی ٹویٹ آتے ہی بیجنگ جاتے اور اب تک بیجنگ کے چار پانچ دورے کر چکے ہوتے اورچینی وزیر دفاع اپنے عسکری مشیروں کے ہمراہ اسلام آباد تشریف لاتے اور ان کو بلوچستان اور فاٹا اور لاہور کا دورہ کروایا جاتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔تو کیا امریکی حملے کی صورت میں ہمیں چینی ردعمل کے کیف و کم کا اندازہ ہو چکا ہے؟۔۔۔ میرا خیال ہے نہیں ہوا۔


ایک اور پہلو بھی مدنظر رکھیئے۔ کیا ہماری کوئی حکومتی یا فوجی شخصیت پیانگ یانگ بھی گئی ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ہم نے امریکہ کی اس دھمکی پر وہ ردعمل ظاہر نہیں کیا جو امریکہ اور بھارت کے لئے بھی کسی جوابی انتباہ کا سبب بنتا؟ ہمیں جنرل ناصر خاں جنجوعہ کو شمالی کوریا بھیجنا چاہیے تھا تاکہ پاکستان کی سلامتی کو جو خطرات امریکہ کی طرف سے لاحق ہیں ان پر صدر کم جونگ ان کا ردعمل لیا جاتا۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اگر امریکہ نے پاکستان پر کسی بھی سکیل کا حملہ کیا تو ایک لمحہ ایسا بھی آئے گا جب پاکستان کو اپنا جوہری ترکش کھولنا پڑے گا۔ ایسے میں کیا یہ جوہری جنگ برصغیر تک محدود رہے گی یا اس کا دائرہ بھارت کے علاوہ اسرائیل اور سعودی عرب تک بھی پھیل جائے گا، یہ سوال اہم ہیں۔ اور امید ہے کہ اس پر متعلقہ اربابِ اختیار سوچ بچار کر رہے ہوں گے۔ اگر بھارت لاہور پر حملہ آور ہوتا تو پاکستان یا اس کے سپورٹرز کس طرف جائیں گے؟۔۔۔ ہمیں یہ سوال اپنے سپورٹرز سے کرنا چاہیے۔


بتایا جا رہا ہے کہ چین کے علاوہ ہم روس کی طرف بھی دیکھ رہے ہیں۔ لیکن کیا پوٹن اسلام آباد آ رہے ہیں؟ ۔۔۔کیا جنرل باجوہ ، ماسکو جا رہے ہیں؟۔۔۔ کیا روسی وزیر دفاع یا نائب وزیر دفاع پاکستان کے دورے کا کوئی پروگرام رکھتے ہیں؟۔۔۔ 1971ء کی پاک بھارت جنگ یاد کیجئے۔ اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے روس، امریکہ اور یورپی ممالک کا ایک طویل دورہ کیا تھا اور پاکستان کے ساتھ جنگ کی صورت میں ان ممالک کے ردعمل اور سپورٹ کو واپس آکر اپنی فوج کے ساتھ شیئر کیا تھا؟ لیکن آج تو اس بچے کھچے پاکستان کو ایک مہیب خطرے کا سامنا ہے۔ کیا ہمارے کسی وزیراعظم نے، اندرا گاندھی کی تقلید کی کوشش کی ہے؟ ذاتی مفادات اور قومی مفادات ایک نہیں ہوتے۔ یہ اگر ہوں بھی تو حب الوطنی کا تقاضا تھا کہ ان اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کی سلامتی کا سوچا جاتا۔


اور مجھے تو روس کی حمائت پر بھی کوئی زیادہ اعتبار نہیں۔ اس کے سٹیک، پاکستان میں کیا ہیں؟ اور ہاں ایک اور بات کا خدشہ بھی نجانے کیوں محسوس کر رہا ہوں کہ روس کہیں پاکستان سے 1980ء کے عشرے میں امریکہ کا ساتھ دینے کا بدلہ لینے کی کوشش نہ کر بیٹھے۔۔۔ سپرپاورز کی حکمت عملیاں عجیب ہوتی ہیں۔۔۔


عراق، لیبیا اور یمن پارہ پارہ ہو گئے، شام کا 90% تعمیراتی ڈھانچہ مسمار ہو گیا، اس کی آبادی کا 70فیصد حصہ ہلاک کر دیا گیا یا دوسرے ممالک میں جا کر مہاجرت کی اَن گنت مشکلات کا سامنا کررہا ہے۔۔۔ کیا یہ سب کچھ برسوں سے روس نہیں دیکھ رہا تھا؟

۔۔۔ اور یہ سوال بھی ذہن میں رکھیئے کہ وہ شام کی جنگ کے آخری ایام میں طرطوس اور انطاکیہ میں کیوں آیا تھا؟ اس سے شام کو کیا فائدہ پہنچا؟ اگر روس، شام میں آیا بھی تو اس وقت جب مشرقِ وسطیٰ کے تمدن کا شیرازہ بکھر چکا :
آخرِ شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ
صبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا
پاکستان کو ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہیے۔

ہمارے میڈیا کو باقی سارے بے معنی موضوعات ترک کرکے امریکی حملے اور پاکستانی ردعمل پر بحثیں کرنی چاہیں۔ خدا نہ کرے جب کوئی حادثہ ہو گیا تو پھر سارا میڈیا بیک آواز ہو کر شور مچانے لگے گا۔۔۔ اور پھر ایک زینب نہیں، ہزاروں لاکھوں زینبیں ہمارے لئے آزمائش بن جائیں گی۔۔۔ ہمیں اس لمحے کی فکر کرنی چاہیے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...