زینب دیکھ رہی ہے

سات سالہ معصوم زینب کودفن ہونے کے بعدلمحوں میں ہی فرشتوں نے اپنے پروں میں چھپا کے جنت الفردوس میں منتقل کر دیا تھا ،ا س پر اتنا ظلم ہوا تھا کہ رب کائنات نے اس کے سب حساب کتاب ختم کر دئیے تھے، بھلا، اس سے حساب کتاب ہونا بھی کیا تھا کہ سات سال کی بچی پر ابھی نماز بھی پوری طرح فرض نہیں ہوتی، یہ تو وہ عمر ہوتی ہے جس میں پیار سے نماز پڑھنے کے لئے کہاجاتا ہے اور یوں بھی جس ظلم وستم کا شکار زینب ہوئی تھی اس میں ہم سب کی طرف اس کابہت سارا حساب نکلتا تھا۔ زینب کے لئے جنت اجنبی تھی لہذااس کے لئے ایک کھڑکی کھول دی گئی جہاں سے وہ اپنے والداور والدہ کو دیکھ سکتی تھی جن کے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے، وہ اللہ رب العزت کے گھر کے مہمان تھے جب اس پر یہ ظلم برپا ہوا۔ زینب کو سورۃ کہف یاد آ گئی جو اس کے والد پڑھا کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ اللہ کے نیک بندوں نے اس بستی والوں کی دیوار بنا دی جنہوں نے انہیں کھانا دینے سے انکار کیا تھا،بھلے مانس کی کشتی میں سوراخ کر دیا اورایک جگہ ایک لڑکے کو ہلاک کر دیا۔ وہ بتاتے تھے کہ اس دیوار کے نیچے یتیم بچوں کا مال تھا اور اگر اللہ کے نیک بندے اسے تعمیر نہ کرتے تو بستی والے اسے نکال لیتے، کشتی میں سوراخ اس لئے کیا کہ وہ کشتی جس طرف جار ہی تھی اس طرف کا ظالم بادشاہ ہر اچھی کشتی چھین لیا کرتا تھا، انہوں نے کشتی کو عیب دار کیا تاکہ بادشاہ کے اہلکار اسے نہ چھینیں اور اسی طرح بچے کو ہلاک کرنے کی غرض یہ تھی کہ اس بچے نے بڑے ہو کے نافرمان ہونا تھا اور اب اس کے بدلے اللہ رب العزت کی ذات انہیں ایسے بچے سے نوازے گی جو فرماں بردار اور نیک بخت ہو گا۔زینب نے سوچا، رب کی رب ہی بہتر جانتا ہے۔


زینب دیکھ رہی تھی کہ لوگ اس کے ساتھ ہونے والے ظلم پر احتجاج کر رہے ہیں مگر اسے بہت افسوس ہوا جب اس نے لوگوں کو ہسپتال پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا، اس سے پہلے لوگ سرکاری دفتر پر بھی حملہ آور ہوئے تھے اور وہاں بھی دو بے گناہ افرادپولیس کی فائرنگ سے مارے گئے تھے۔ اس کے والد نے اسے لاہور کے ماڈل ٹاون میں پولیس کی براہ راست فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کے بارے بھی بتایا تھا کہ ان کا علامہ طاہر القادری کے ساتھ ایک خاص تعلق تھا اور یہی وجہ تھی کہ اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لئے پروفیسر ڈاکٹر علامہ طاہر القادری خود تشریف لائے تھے۔ اسے چھوٹی سی عمر میں ہی علامہ طاہر القادری کی تقریریں اچھی لگتی تھیں اور وہ انہیں بہت بہادر آدمی سمجھتی تھی۔زینب کو ہسپتال پر حملے اور وہاں سے ڈاکٹروں کے نکل جانے کا بہت افسوس ہوا ۔ اگرچہ ہسپتالوں میں بچوں کے لے جانے پر پابندی ہوتی ہے مگر وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ ایک سے زیادہ مرتبہ ہسپتال گئی تھی جب وہ خود یا اس کی والدہ بیمارہوتی تھیں۔ اس نے دیکھا کہ پورے شہر میں ہنگامے جاری ہیں اور لوگوں نے ایک گھر پر حملہ کر کے وہاںآگ لگا دی ہے۔ زینب کو ایک فرشتے نے بتایا کہ یہ گھر مظاہرہ کرنے والے لوگوں کے سیاسی مخالف کا ہے۔ زینب نے فرشتے سے پوچھا کہ یہ سیاست کیا ہوتی ہے کہ اسے تو ایسی کسی بات کا علم نہیں تو فرشتے نے بتایا کہ علامہ طاہر القادری جو باتیں کرتے ہیں وہ سب سیاست ہوتی ہے۔ زینب نے سوچا کہ اس کے والد کا ہو تو ہو مگر اس کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں اور جس نے اسے ظلم کا نشانہ بنایا ہے وہ بھی سیاسی مقاصد کے لئے نہیں تھابلکہ وہ تو وحشی تھا، جانور تھااور انسان کہلانے کے ہی قابل نہیں تھا۔


زینب کے دل اور دماغ کے دروازے کھلتے چلے جار ہے تھے، اس نے آسمانی کھڑکی سے نیچے دیکھا تو اسے خورشید محمود قصوری کی گرجدار آواز سنائی دی، وہ کہہ رہے تھے کہ یہ ایک سماجی اور معاشرتی المیہ ہے، اسے لگا کہ وہ درست کہہ رہے ہیں مگر دوسری طرف اس نے اپنے والد اور طاہر القادری جیسے ہی ایک اور مولوی صاحب کو تقریر کرتے ہوئے سنا، وہ چیخ رہے تھے کہ بتا و شہباز شریف ، کہاں ہے تمہاری ایلیٹ فورس، کہاں ہیں تمہاری ڈولفن، کہاں ہیں تمہارے کیمرے۔ اس نے طاہر القادری صاحب کو بھی کہتے سنا کہ اب ماڈل ٹاون کے سانحے کے ساتھ قصور کا سانحہ بھی شامل ہو گیا ہے، اب آ ل پارٹیز کانفرنس کی ایکشن کمیٹی اس کو بھی اپنے ملک گیر احتجاج کا حصہ بنائے گی،اس نے دیکھا کہ ایک چھوٹی چھوٹی داڑھی والے قمر الزماں کائرہ اور بغیر داڑھی کے کامل علی آغا بھی اسی قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔ فرشتے نے اسے بتایا کہ وہ اس سے ہونے والی زیادتی اور اس کے قتل پر حکومت کے خلاف تحریک چلانا چاہتے ہیں۔ آسمانی فرشتے نے بتایا کہ زمین پر بھی بہت سارے فرشتے ہیں، یہ فرشتے نوری نہیں بلکہ ناری ہیں، یہ بھی لوگوں کو نظر نہیں آتے مگر بہت سارے کام کرتے اور کرواتے ہیں ۔ ان سب کو بھی فرشتے ہی متحرک کر رہے ہیں جیسے عمران خان قصور کی بات تو کررہے ہیں مگر اپنے صوبے میں اس وزیر کی پشت پناہی کرتے رہے جس نے ایک لڑکی کو برہنہ کر کے سڑکوں پر گھمایا تھا، ان کی اپنی حکومت والے صوبے میں اندوہناک قتل ہو رہے ہیں مگر وہ ان کا ذکر تک نہیں کرتے۔


زینب رونے لگی، اس نے فرشتے سے کہا کہ یہ تو ضرور چاہتی ہے کہ ان تمام پولیس والوں کو سزا دی جائے جنہوں نے اس کے شہر قصور میں ایک برس میں اغوا اور قتل ہونے والے گیارہ بچوں کے مجرموں کو نہیں پکڑا مگر اسے کسی سیاسی تحریک سے کوئی دلچسپی نہیں، وہ تو اپنے جیسے بہت سارے بچوں کو محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔اس نے پوچھا کہ کیا کوئی ایسی سماجی تحریک بھی شرو ع ہوئی ہے جس میں معصوم، ننھے منے بچوں کوبتایا جائے کہ وہ گھر سے اکیلے باہر مت نکلیں۔ جب انہیں کوئی انکل یا آنٹی بلائے تو اس کے پاس ہرگز مت جائیں۔ جب کوئی انہیں زبردستی پیار کرنے کی کوشش کرے تو و ہ اس پر شور مچا دیں۔زینب نے کہا کہ اسے انصاف دلانے کے ساتھ ساتھ یہ اقدامات بھی اتنے ہی ضروری ہیں تا کہ آئندہ کسی دوسری زینب کے ساتھ یہ واقعہ نہ ہواور یہ بچوں کو آگاہی دے کر ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔زینب نے کہا کہ اگر اسے یہ سب سکھایا گیا ہوتا تو وہ اپنے ساتھ زیادتی اور قتل کرنے والے کے ساتھ کبھی نہ جاتی۔ فرشتے نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے بھی باتیں ہو رہی ہیں، کچھ ٹی وی چینلز اس پر پروگرام بھی کر رہے ہیں اور اسی طرح شہری بھی سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں مگر ابھی تک معاملہ سماجی سے زیادہ سیاسی بنایا جا رہا ہے۔ فرشتے نے مزید بتایا کہ بہت سارے لوگ حکومت کو دباو میں لانے کے لئے اس کی لاش تک دفن نہیں کرنا چاہتے تھے، وہ اس کی زیادتی کے بعد کوڑے کے ڈھیر سے ملنے والی لاش سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔


جنت کی کھڑکی سے جھانکتی ہوئی زینب کی نظریں بھٹکنے لگیں،اس نے دیکھا کہ ایک لق و دق صحرا میں بہت سارے خوفناک اورکریہہ نظر آنے والے پرندے اڑ رہے ہیں، وہاں ایک لاش موجود ہے جس پر وہ باری باری بیٹھتے اور اس کی بوٹیاں نوچتے ہیں۔زینب ڈر گئی، اس نے فرشتے سے پوچھا کہ یہ پرندے کون ہیں اور یہ کیوں اس لاش کی بوٹیا ں نوچ رہے ہیں۔ فرشتے نے بتایا کہ یہ بھی اللہ رب العزت کی پیدا کی ہوئی مخکوق ہے۔ یہ گدھ ہیں جو مرجانے والوں کی بوٹیاں نوچتے اور اس سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ ان کی خوراک ہی یہ ہے اور یہ اسی پر زندہ رہتے ہیں۔ زینب نے اس ڈرا دینے والے منظر سے اپنی نظریں چرا لیں اور واپس اپنے شہر قصور کو دیکھنے لگی۔ اس نے دیکھا کہ قصور میں اس کی لاش موجود ہے اور بہت سارے اس سے بوٹیاں نوچ رہے ہیں، وہ اس سے اپنا سیاسی پیٹ بھر رہے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ جوں جوں انہیں بوٹیاں ملتی جا رہی ہیں ان کے پنجے تیز،زبانیں لمبی، آنکھیں چمک داراور چونچیں خم دار ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ ان کے پوٹوں میں پہلے سے ماڈل ٹاون کے دس مقتولین کا لہو اور بوٹیاں موجود ہیں۔ زینب نے محسوس کیا کہ جنت میں ہونے کے باوجود اس کے جسم کو مزید کچھ لوگ نوچنے لگے ہیں۔ وہ اس کے مردہ جسم سے اپنی سیاسی بھوک بجھانا چاہتے ہیں۔ زینب ان کی شکلیں دیکھ کے خوف زدہ ہو گئی، اسے شدید تکلیف محسوس ہونے لگی اور وہ زور زور سے رونے لگی ۔ فرشتے نے جنت کی وہ کھڑکی بند کردی جس سے زینب قصور کامنظربراہ راست دیکھ رہی تھی۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...