حج پالیسی 2018ء پر ایک نظر (آخری قسط)

حج پالیسی 2018ء پر ایک نظر (آخری قسط)
حج پالیسی 2018ء پر ایک نظر (آخری قسط)

سرکاری حج 2016ء یقیناًاچھا رہا تھا۔ اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف وزیر مملکت پیر سید امین الحسنات سمیت وزارت کے ذمہ داران کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور ملک بھر سے وزارت سے وابستہ سٹاف کو خصوصی بونس کا اعلان کیا۔ حج 2017ء سرکاری سکیم وہ کامیابی حاصل نہ کر سکی جو 2016ء میں حاصل ہو ئی تھی اس کی بنیادی وجہ بھی وزارت مذہبی امور کے اندر کے افراد کا اعتراف ہے اور بتانا ہے اچانک سرکاری سکیم کا حج کوٹہ ففٹی ففٹی سے سرکاری 60فیصد کرنا تھا حج 2017ء میں کتنے افراد کو ٹرانسپورٹ نہیں مل سکی۔ کتنے مدینہ مرکزیہ نہیں ٹھہر سکے۔ کتنے مونوٹرین کے ٹکٹ سے محروم رہے اور کتنے ہیں جن کو عزیزیہ میں طے شدہ ایگریمنٹ کے مطابق رہائش نہیں مل سکی۔ حج 2017ء کے دوران اور بعد میں وفاقی وزیر مذہبی امور کا اعتراف اور متاثرین کو ادائیگیوں کی یقین دہانی یقیناً احسن اقدام تھا کتنے متاثرین کو ادائیگی ہوئی کتنے آج تک دربدر ہیں یہ سب آج کے کالم کا موضوع نہیں ہے ایک بات طے ہے ارباب اختیار نے 2017ء کے حج سے سبق نہیں سیکھا۔وزیر حج 2017ء میں سرکاری سکیم 60فیصد کرنے اور پٹ جانے کے باوجود حج 2018ء کے لئے سرکاری سکیم 67فیصد کرنے کا رسک نہ لیا جاتا سرکاری سکیم کا مزید ذکر کرنے سے پہلے 33فیصد کو 50فیصد کرانے کی جدوجہد میں مصروف پرائیویٹ سکیم کے نمائندوں کا ذکرہو جائے۔ ہوپ کے نمائندوں کے ساتھ رہ رہ کر میں خود حقائق سے نظریں چرانے کا عادی ہوتا جا رہا ہوں۔ حالانکہ حق سے جتنی مرضی پردہ پوشی کی جائے چھپتا نہیں ہے۔ یہی حال ہوپ کے نمائندوں کا ہے۔ اصل مقاصد کے حصول کی بجائے پوائنٹ سکورنگ کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ لیڈرشپ کی اصل روح سب کو ساتھ لے کر چلنے اور تنقید کو خنداں پیشانی سے برداشت کرنے میں پنہاں ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے اپنے علاوہ ہر فرد اس سے واقف ہوتا ہے۔

جب مفادات اپنی ذات سے آگے بڑھنے میں خطرات محسوس کریں تو سودے بازی کی بازگشت سنائی دینے لگتی ہے۔ اس مرض کا علاج ایک دوسرے کے احترام اور اخلاص میں پوشیدہ ہے۔ دھڑے بندی اور چوہدراہٹ کی جنگ ہمیشہ مقاصد کو پس پشت ڈال دیتی ہے۔سعودی حکومت حج کو مرحلہ وار پرائیویٹ کرنا چاہتی ہے۔ 2012ء تک پاکستانی حکومت بھی یہی خواہش رکھتی تھی، مگر 2013ء میں سرکاری حج کا چسکا ایسا پڑا کہ پرائیویٹ سکیم سکڑتی جا رہی ہے ملک کے طول و عرض میں ایک سوال جو سب سے زیادہ پوچھا جا رہا ہے۔ اس کا جواب میں ذاتی طور پر دینے سے قاصر ہوں البتہ روزنامہ ’’خبریں‘‘ ملتان کے صحافی سجاد بخاری کو سلام کرتا ہوں جس نے حج 2018ء کی جلد بازی میں دی گئی حج پالیسی کا نہ صرف جواب اپنی 9جنوری کو شائع ہونے والی خبر میں دے دیا ہے بلکہ سرکار کی سرکاری سکیم میں غیر معمولی دلچسپی کا بھانڈہ بھی پھوڑ دیا ہے۔

سید سجاد بخاری کی شائع شدہ خبر کے بغیر کسی تبدیلی کے ایک ایک لفظ کو عوام کی آگاہی کے لئے دوبارہ تحریر کروں گا۔ وہ لکھتے ہیں حکومت کے متوقع خاتمے کے پیش نظر وزارت مذہبی امور نے 5ماہ پہلے ہی حج درخواستیں وصول کرکے عجلت میں مکہ مدینہ میں فوری سستی عمارتیں ڈھونڈنا شروع کر دی ہیں بتایا گیا ہے گزشتہ سال اپریل کے مہینے میں حج پالیسی کا اعلان ہوا تھا اور حج درخواستیں وصول کی گئی تھیں اس سال حج پیکیج دو لاکھ 80 ہزار رکھا گیا ہے ساڑھے تین لاکھ درخواستیں وصول ہونے کا امکان ہے اس طرح وزارت حج کو تقریباً ایک کھرب روپے کے قریب رقم جنوری میں حج درخواستوں سے وصول ہو جائے گی جس سے جلدی میں عمارتیں، ٹرانسپورٹ حج سے متعلقہ دیگر امور کی تکمیل قبل از وقت کرکے کمیشن حاصل کرنے کا وہی پرانا کھیل کھیلا جا رہا ہے، جس کھیل میں سابق ڈی جی حج راؤ شکیل سابق وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی نے طویل عرصے تک جیل کی ہوا کھائی تھی۔ دوسری طرف سرکاری حج کی زیادہ سے زیادہ درخواستوں کے لئے پرائیویٹ سکیم کا کوٹہ 40فیصد سے کم کرکے 33فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے اس مرتبہ نئے ٹورآپریٹرز کو بھی کوٹہ دیا جا رہا ہے جو گزشتہ سال نہیں دیا گیا ذرائع کے مطابق یہ بھی کروڑوں کا کھیل ہے۔کچھ پرانے ٹورآپریٹرز کو شکایات کی بنیاد پر اور کچھ کو حج فارم فروخت کرنے کے الزام میں جرمانے کر کے فارغ کرنے کا منصوبہ بنایا گیاہے۔ روزنامہ خبریں کا دعویٰ ہے جلد بازی میں حج پالیسی دیناایک اور حج سکینڈل کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہے۔ سید سجاد بخاری کی خبر کا ایک ایک لفظ پوری کہانی کا حامل ہے۔

دوسری طرف پاکستان کی تاریخ میں (ن) لیگ کی حکومت میں 5کامیاب حج آپریشن کی سعادت حاصل کرنے پر وفاقی وزیر سردار محمد یوسف بڑے شاداں تھے۔ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے ان کی شاندار کارکردگی پر ستائش کرنے کی بجائے حج پالیسی اور حج آپریشن کی نگرانی کے لئے 7وزراء ماروی میمن، اویس لغاری، مشاہد اللہ، سکندر حیات بوسن، حافظ عبدالکریم، احسن اقبال ،راجہ ظفر الحق پر مشتمل کمیٹی بنا کر بجلی گرا دی ہے۔ یہ سب کچھ اس وقت کیا گیا ہے جب حج درخواستوں کی وصولی شروع ہونے والی ہے۔ سعودیہ میں سرکاری حجاج کی رہائشوں کا بندوبست کرنے اور پرائیویٹ سکیم کے ٹورآپریٹرز کو کوٹہ الاٹمنٹ کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ وزیراعظم کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اور سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے ہوتے ہوئے وزراء کی ایسی نگران کمیٹی بنانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ جس میں سردار محمد یوسف صاحب سمیت قائمہ کمیٹی، سٹینڈنگ کمیٹی کے کسی ممبر کو بھی شامل نہیں کیا۔ وزیر مملکت کو بھی نظر انداز کر دیا گیا ہے اس کہانی کا ڈراپ سین پیر حمید الدین سیالوی کی تحریک کے منطقی انجام سے پہلے ہو جائے گا۔

ذاتی طور پر میں نے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کو گزشتہ 5سال سے اپنے مقاصد سے بڑا مخلص پایاہے اس کی بنیادی وجہ ان کی یہی شفاف زندگی کے ساتھ ساتھ آج تک ان کو ملنے والے مخلص اور ایماندار سیکرٹری اور ٹیم ہے جنہوں نے حج 2013ء سے حج 2017ء تک میرٹ کو اپنا کر بڑے بڑے بنتے ٹوٹتے سکینڈلز کا منہ موڑا ہے۔ حج پالیسی 2018 ء میں بظاہر کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ پرائیویٹ سکیم میں بلاوجہ کے کٹ کے علاوہ سرکاری سکیم کو 40دن سے کم کرکے 30دن کرنے کی ناکام اور ناقابل عمل کوشش ضرور کی گئی ہے۔ دونوں ترامیم کی کشتی پار لگتی نظر نہیں آتی۔ سرکاری حج 2018ء اگر حکومت سستا رکھنا چاہتی ہے تو یقیناً40 دن کا ہی رکھنا پڑے گا۔30دن کے اپنے لوازمات میں اپنے اخراجات ہیں۔وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے نگران کمیٹی بھی پر اپنے تحفظات سے وزیراعظم کو آگاہ کر دیا ہے کمیٹی ختم کرنے کے باوجود (ن) لیگ نے فیصلہ کیا ہے کہ حج پالیسی کی نگرانی اور مانیٹرنگ ضرور کی جائے گی کیونکہ (ن) لیگ کی حکومت جاتے جاتے کسی سکینڈل کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ میری ذاتی رائے ہے موجودہ حکومت کو جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ جوش کی بجائے ہوش سے آگے بڑھناچاہیے ڈالر کی اڑان کا اثر ریال پر پڑا ہے۔ حج آپریشن 7ماہ بعد ہونا ہے جنوری میں فیصلے اگست کو سامنے رکھ کر کرنا ہوں گے حج نگران حکومت کرائے یا قومی حکومت یا اگلی منتخب حکومت ان کو مشکلات نہیں آنی چاہیے،کیونکہ حج افضل عبادت اور اسلام کا رکن اعظم ہے۔ اللہ کے مہمانوں کی آسانی کے لئے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے اگر حاجی پرائیویٹ سکیم میں رہ کر زیادہ سہولیات حاصل کرنے کے لئے تیار ہے تو اس پر سرکاری سکیم مسلط کرنا انصاف نہیں ہوگا۔ حاجی سرکاری ہو یا پرائیویٹ سب اللہ کے مہمان ہیں مشاورت سے ہمیشہ مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں پرائیویٹ سکیم کی پالیسی کو مرتب کرنے میں اگر ان کے نمائندوں کو شامل کیا جائے گا تو حج 2017ء میں پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر آنے والی سکیم پہلے نمبر پر یقیناً2018ء میں آ سکتی ہے۔سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کے کوٹہ کی تقسیم کے لئے سعودیہ کے ساتھ2جنوری کو ہونے والے ایگریمنٹ کا انتظار اگر کر لیا جاتا تو بہتر ہوتا اب بھی اگر 15فروری سے سرکاری سکیم کی درخواستیں وصول کرنے کی تاریخ میں 2فروری تک توسیع کر لی جائے تو بڑی عدالتی جنگ سے بچا جا سکتا ہے۔ حج کوٹہ کی تقسیم کے حوالے سے بھی سپریم کورٹ کے احکامات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ ورنہ جلد حج پالیسی دینے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہو گا شکوک اورشبہات کو مزید تقویت ملے گی۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...