دہشتگردی کیخلاف نمایاں کردار کے باوجود امریکی رویہ قابل افسوس : رضا ربانی

دہشتگردی کیخلاف نمایاں کردار کے باوجود امریکی رویہ قابل افسوس : رضا ربانی

 

اسلام آباد(این این آئی) چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں چین کے سفیر یاؤ جنگ سے ملاقات کرتے ہوئے کہا ہے پاکستان اور چین ایشیائی عوام کی ترقی وخوشحالی کا مشترکہ خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے کوشاں ہیں اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی اپنی ایک تاریخ ہے ۔ بین الاقوامی سطح اور خاص طور پر امریکی صدر کے حالیہ ٹویٹ کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال کے پیش نظر چین کی جانب سے پاکستان کے موقف کی حما یت کو سراہتے ہوئے انکا کہنا تھا بد قسمتی سے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کرنیوالے ملک کیساتھ قابل افسوس رویہ اختیار کیا گیا ہے ۔ پاکستان نے دہشت گردی میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات اٹھائے ہیں اور امریکی صدر کے ایسے رویے کے باوجود پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلئے پر عزم ہے ، انہوں نے پاکستان افغانستان اور چین کے مابین سہ ملکی مذاکراتی عمل کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے ۔رضاربانی نے کہا امریکہ کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ ایشیاء اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرے گااور اپنے وسائل کو سامراجی قوتوں کے ہاتھوں لٹنے نہیں دے گا، ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ خطے اور خصوصاً ایشیا ء میں ترقی کا نیا باب کھول دے گا۔ چین کیساتھ تاریخی تعلقات کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ڈالی تھی جسے شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے مزید مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر چین کی جانب سے پاکستان کے موقف کی حمایت کو سراہا اور کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی پر یقین رکھتا ہے ،انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پارلیمانی دوستی گروپوں کو فعال بنا کر تعلقات کو نئی بلند یو ں پر لے جانے کیلئے کوششیں تیز کی جائیں گی ۔دریں اثنا ء چیئرمین سینیٹ نے ملاقات کیلئے آنیوالے متحدہ عرب امارت کے سفیر حماد عبید ابراہیم سالم الزا بی سے گفتگو میں کہا پاکستان اورمتحدہ عرب امارات کے مابین تعلقات کی بنیاد مشترکہ روایات ، مذہبی اقدار اور سماجی مما ثلتو ں پر ہے اور دونوں ملکوں نے بین الاقوامی امور پر ایک دوسرے کے نقطہ نظر کی حمایت کی ہے ، انہوں نے دونوں ملکوں کے مابین اقتصا د ی تر قی کی خاطر رابطوں کے فروغ ،پارلیمانی سطح پر وفود کے تبادلوں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے باہمی تعا و ن اور رابطوں کو بڑھانے پر زور دیا اور کہا یو اے ای تجارتی واقتصادی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقعوں سے فائد ہ اٹھا سکتا ہے ۔

مزید : صفحہ آخر