شریف خاندان کی شوگر ملوں کی منتقلی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل ، ہمیشہ کہتا ہوں بابا رحمتے سے سچ بولو : چیف جسٹس


اسلام آباد(آئی این پی ) سپریم کورٹ نے شریف خاندان کی شوگر ملوں کی منتقلی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا حکم 3ماہ کے لیے معطل کر تے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہمیشہ کہتا ہوں بابا رحمتے سے سچ بولو گے تو ٹھیک رہے گا، کوئی کمزور چیف جسٹس ہوگا جس کی آنکھ اور کان کھلے نہ ہوں، گنا خریداری کے ایک ایک دن کا جائزہ لیں گے، شوگر ملیں تمام گنا سرکاری نرخ 180 روپے فی من کے حساب پرخریدیں گی۔ جمعرات کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے جنوبی پنجاب کی شوگر ملز کی اپیلوں اورگنے سے متعلق کسانوں کی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران جہانگیرترین کے وکیل اعتزاز احسن نے تحریری یقین دہانی کرائی کہ علاقے میں فعال پانچوں شوگر ملیں کسانوں سے تمام گنا خریدیں گیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گنا خریداری کے ایک ایک دن کا جائزہ لیں گے، شوگر ملیں تمام گنا سرکاری نرخ 180 روپے فی من کے حساب پرخریدیں گی، کسانوں کی شکایات پران چیمبر بھی سماعت کروں گا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیشہ کہتا ہوں بابا رحمتے سے سچ بولو تو ٹھیک رہے گا، کوئی کمزور چیف جسٹس ہوگا جس کی آنکھ اور کان کھلے نہ ہوں، کسان کس کے کہنے پر عدالت میں آئے، ان کی میٹنگز کس کس کے ساتھ ہوئیں مجھے سب معلوم ہے۔سپریم کورٹ نے درخواست کو سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے شریف خاندان کی 3 شوگر ملوں سمیت 4 ملوں کی منتقلی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ 3 ماہ کے لیے معطل کردیا۔ سماعت کے بعد کسانوں نے جہانگیر ترین کو روک کر شکوہ کیا کہ ان کی وجہ سے کسانوں کو گنے کی صحیح قیمت نہیں مل رہی، جس پر انہوں نے کہا کہ ان کی شوگرمل سرکاری نرخوں پر گنا خرید رہی ہیں ، دیگر ملوں کی شکایت وہ وزیر اعلی پنجاب سے کریں۔
سپریم کورٹ

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...