قصور ،احتجاج جاری ، شہر بند ، ڈنڈ ابردار مظاہرین کے لیگی ارکان اسمبلی کے ڈیروں ، ڈسٹرکٹ ہسپتال پر حملے ، توڑ پھوڑ وزیر اعلٰی شہباز شریف کی مقتولہ زینب کے گھر آمد ، قاتل کی اطلاع دینے والے کیلئے ایک کروڑ روپے کا اعلان ، بچی کے والد کا جے آئی ٹی کے سربراہ پر اعتراض

قصور ،احتجاج جاری ، شہر بند ، ڈنڈ ابردار مظاہرین کے لیگی ارکان اسمبلی کے ...

قصور /لاہور / وہاڑی گوجرانوالہ ( بیورو رپورٹ ، مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی ) سات سالہ بچی زینب سے زیادتی اور قتل کے لرزہ خیز واقعہ پر گزشتہ روز بھی فضا سوگوار رہی جبکہ قصور میں حالات بدستورکشیدہ اور نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج رہا،تعلیمی ادارے اور تجارتی مراکز مکمل بند رہے ،مشتعل مظاہرین نے شہر کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے جس سے قصور شہر کا دوسرے شہروں سے زمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا، پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے دو افراد کی لاشیں پوسٹمارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کردی گئیں جس کے بعدپینتالیس سال محمد علی کے ورثاء اور اہل علاقہ نے لاش ڈی ایچ کیو ہسپتال کے سامنے سڑک پر رکھ احتجاجی مظاہرہ کیا ،مشتعل مظاہرین زبردستی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں داخل ہو گئے اور توڑ پھوڑ کی جس کے بعد ڈاکٹراورعملہ کام چھور کر چلا گیا جس سے ایمر جنسی سمیت دیگر وارڈزمیں سروسز معطل ہو گئیں ہسپتال کو تالے لگا دئے گئے ، ، واقعہ کے خلاف پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی مظاہرے کئے گئے جبکہ وکلاء تنظیموں نے بھی ہڑتال کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ تفصیلات کے مطابق معصوم بچی سے زیادتی کے بعد قتل اور واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس فائرنگ سے دو افراد کی ہلاکت کے خلاف قصور میں دوسرے رو ز بھی حالات کشیدہ رہے جس کی وجہ سے خوف و ہراس پھیلا رہا ۔ حکام کی جانب سے عوام میں پولیس کے خلاف پائی جانے والی شدید غصے کی لہر کے باعث پولیس کو پیچھے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ صرف اہم سرکاری عمارتوں کی حفاظت کے لئے اہلکاروں کو اندرتعینات کیا گیا ہے اور انہیں کسی بھی طرح کا رد عمل دینے سے روک دیاگیاہے ۔ گزشتہ روز صبح کے وقت ہی مختلف مقامات پر مظاہرین جمع ہونا شروع ہو گئے جنہوں نے بچی کے قتل اور پولیس فائرنگ سے ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ۔ مشتعل مظاہرین نے ٹائر وں کو آگ لگا کر دوسری شہروں کو جانے والے راستے بند رکھے جس سے مسافروں کوشدید مشکلات درپیش رہیں ۔ مظاہرین نے کالی پل چوک پر دھرنا دیدیا جس سے ٹریفک کا نظام معطل ہوگیا،ڈنڈا بردار مظاہرین نے سٹیل باغ چوک کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا ۔مشتعل مظاہرین نے ڈسٹرکٹ ہسپتال کے سامنے ٹائر نذرآتش کر کے شدید احتجاج کیا اور توڑ پھوڑ کے دوران ہسپتال کا مرکزی دروازہ بھی توڑ دیا۔انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے پولیس کی تعیناتی نہیں کی گئی ۔مظاہرین کی جانب سے ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد ڈاکٹرز ، پیر امیڈیکل سٹا ف کام چھوڑ کرچلے گئے جس کے بعد ہسپتال میں ایمر جنسی اور دوسرے وارڈز میں سروسز معطل ہو گئیں ۔ جس کے بعد لواحقین ایمبولینسز کے ذریعے مریضوں کو گھروں یا دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کرتے ہوئے دکھائی دئیے۔واقعہ کے خلاف شہر کے تمام تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے ۔ مظاہرین نے شہباز پور روڈ پر (ن)لیگی ایم پی اے نعیم صفدر اور وسیم اختر شیخ کے ڈیرے پر مشتعل افرا نے حملہ کر دیا، ڈیرے پر توڑ پھوڑ کی اور دو گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ شہباز پور روڈ پر مشتعل افراد نے (ن)لیگی ایم پی اے نعیم صفدر کے ڈیرے پر حملہ کر دیا، مشتعل افراد نے ڈیرے میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی اور دو گاڑیوں کو آگ لگا دی، مشتعل افراد نے ڈیرے کے دروازے اور کرسیاں بھی توڑ دیں 45سالہ محمد علی ور 22سالہ شعیب کی نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد تدفین کر دی گئی ۔جاں بحق ہونیو الے افراد کی نماز جنازہ تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین قصوری نے پڑھائی جبکہ نمازجنازہ میں سیاسی وسماجی ،مذہبی ودیگر تنظیموں کے رہنماؤں اورعام عوام سمیت ہزاروں کی تعداد نے شرکت کی قصور واقعہ کے خلاف پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی احتجاج کیا گیا ۔مظفر گڑھ میں مظاہرین نے سنانواں میں مظاہرہ کیا اور ملزم کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔ وہاڑی میں طلبہ نے لرزہ خیز واقعہ کے ریلی نکالی اور بعد ازاں مظاہرہ کیا ۔ گوجرانوالہ میں مظاہرین نے جی ٹی روڈ کو گوندالوالہ چوک میں میں بند کر دیا جس سے ٹریفک کا نظام معطل ہو گیا ۔ وکلاء تنظیموں کی جانب سے بھی واقعہ کے خلاف ہڑتال کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ۔ وکلاء عدالتوں میں پیش نہ ہوئے جس کے باعث سائلین کو اگلی تاریخیں دیدی گئیں ۔اسلام آد ہائیکورٹ بار کی جانب بھی واقعہ کے خلاف ہڑتال کی گئی ۔پنجاب بار کونسل کا کہنا ہے کہ مقتولہ زینب کے والدین کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جائے گی۔ دوسری طرف زینب کے قتل کے خلاف احتجاج کے دوران گزشتہ روز پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے شعیب اور محمد علی کی نماز جنازہ کالج گراؤنڈ میں ادا کردی گئی۔۔ دوسری جانب ترجمان پنجاب حکومت محمد احمد خان نے کہا کہ قانون نافذ کرنا اور ملزم کی گرفتاری دو صورتحال کا سامنا ہے، کچھ سیاسی قوتوں نے اس واقعے کو اس طرح اٹھایا کہ مظاہرین سے مذاکرات کی دو مرتبہ کوشش ناکام ہوئی۔ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ مظاہرین کا غم و غصہ پولیس کے خلاف ہے ٗ گزشتہ روز پولیس کی جانب سے فائرنگ نہیں ہونی چاہیے تھی اور اس کا دفاع بھی نہیں کیا جاسکتا ٗ مظاہرین پولیس کی گاڑی کو دیکھتے ہی اس پر حملے کر رہے ہیں۔ترجمان محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے رینجرز کو طلب کرلیا گیا ہے اور پولیس کو مظاہرین کی مزاحمت پر ردعمل نہ دینے کا کہا ہے اور فی الوقت امن و امان کی صورتحال پر قابو پانا ہے تاکہ کسی عام شہری کو زندگی کو نقصان نہ ہو۔زینب قتل کے خلاف احتجاج کے دوران گزشتہ روز پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے شعیب اور محمد علی کا پوسٹ مارٹم کرلیا گیا ۔ادھر مظاہرین پر فائرنگ کے الزا م میں 2 پولیس اور دو سول ڈیفنس اہلکار گرفتار ہیں جبکہ مقتولین کے بھائیوں کی مدعیت میں 2 مقدمات 16 نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کیے گئے جس میں قتل کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔مقتولہ زینب کے والد محمد امین نے کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی جے ا?ئی ٹی کے سربراہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی تبدیلی کا مطالبہ کردیا ہے۔قصور واقعے پر وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے ایڈیشنل آئی جی ابوبکرخدا بخش کی سربراہی میں جےآئی ٹی تشکیل دی تھی جس میں حساس اداروں کے افسران کو بھی شامل کیا گیا ہے۔قصور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقتولہ زینب کے والد محمد امین نے جے ا?ئی ٹی کے سربراہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔محمد امین نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ نے ملزمان کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے، وزیراعلیٰ کی باتوں پر نہیں تحقیقات کے نتائج سے یقین ا?ئے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج پر امن ہے، کہیں اس میں سازشی عناصر نہ شامل ہوجائیں، تشدد اور املاک کو نقصان پہنچا کر ہماری تحریک کو متاثر کیا جاسکتا لہٰذا کسی کی املاک اور گاڑیوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محمد امین نے کہا کہ ابھی تک سی سی ٹی وی فوٹیج سے وہ شخص سمجھ نہیں ا?یا لیکن جب اگلے دن کیمرے سے پتا چل گیا تھا تو بہتر ٹیکنالوجی کی مدد سے تصویر کو ٹھیک کیا جاسکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ جب کیمرے کی مدد سے ملزم کا پتا چلا تو پولیس نے مکمل طریقے سے علاقے کو سیل نہیں کیا، ملزم کو پکڑا جاسکتا تھا اور بچی کو زندہ بچایا جاسکتا تھا لیکن پولیس نے ملزم کو پکڑنے کی کوشش ہی نہیں کی۔محمد امین کا کہنا تھا کہ شہبازشریف مطمئن کرکے گئے ہیں کہ ملزمان جلد پکڑے جائیں گے اور انصاف دیا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ رات حساس اداروں کے لوگوں نے رابطہ کیا اور مطمئن کیا ہے کہ ایک دو روز میں ملزم پکڑنے کی خبر دیں گے۔

احتجاج

لاہور،قصور (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف گزشتہ صبح 5 بجے اچانک قصور میں مقتولہ زینب کے گھر پہنچے اور اہلخانہ سے افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ترجمان پنجاب حکومت محمد احمد خان اور اعلیٰ افسران بھی موجود تھے جب کہ ڈی پی او قصور زاہد خان مروت نے واقعہ کی بریفنگ دی۔ شہباز شریف کا کہنا تھا جتنا ظلم اور زیادتی ہوئی ہے وہ ناقابل بیان ہے، لمحہ بہ لمحہ اس کیس کی نگرانی کر رہا ہوں اور واقعہ میں ملوث درندہ صفت ملزم قانون کی گرفت سے بچ نہیں پائے گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ کمسن بچی کے خاندان کو انصاف دلانا میری ذمہ داری ہے اور جب تک مجرم کو کٹہرے میں نہیں لائیں گے اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ بچوں کے قاتل اس دھرتی کا بوجھ ہیں، بچوں کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کرنے والے انسان نہیں درندے ہیں۔انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی جے آئی ٹی تشکیل دے دی جس میں سول اور عسکری دونوں اداروں کے اراکین شامل ہیں، ملزم کو بلا تاخیر گرفتار کرکے قانون کے مطابق ایسی سزا دلائی جائے گی کہ کسی کو آئندہ ایسی جرآت نہ ہو۔شہبازشریف کا کہنا تھا کہ احتجاج پر بلاجواز فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ وزیراعلیٰ پنجا ب نے زینب کے قتل میں ملوث ملزم کی نشاندہی پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ماڈل ٹاؤن لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی زیر صدرات اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں قصور واقعے اور امن و امان کی حالیہ صورت حال پر غور کیا گیا۔اجلاس میں رانا ثناء4 اللہ ،آئی جی پنجاب، چیف سیکریٹری، کمشنر لاہور اور قصور انتظامیہ شریک ہوئے جب کہ اجلاس میں قصور واقعے پر وزیراعلیٰ کی جانب سے انتظامیہ کی سرزنش کی گئی۔شہبازشریف نے کہا کہ پولیس کی کارکردگی پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے موقع پر کارروائی کیوں نہیں کی پولیس کی کارگردگی کیوں بہتر نہیں ہورہی؟ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ نے زینب کیس کا 24 گھنٹوں میں چالان عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جب کہ قصور میں تمام 12 کیسوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔شہبازشریف نے قصور واقعے میں ملوث ملزم کی نشاندہی کرنے والے کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا بھی اعلان کیا۔شہبازشریف نے گزشتہ روز احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں کے ورثا کے لیے 30 لاکھ روپے فی کس مالی امداد کا اعلان کیا۔دوران اجلاس شہبازشریف نے سیف سٹی پروجیکٹ کو قصور تک بڑھا کر شہر میں کیمرے لگانے کی ہدایت کی۔

شہباز شریف

مزید : صفحہ اول