جرائم پر سخت سزا کیلئے نئی قانون سازی ضروری

جرائم پر سخت سزا کیلئے نئی قانون سازی ضروری

روزنامہ پاکستان کے گروپ ایگزیکٹو ایڈیٹر اور سینئر تجزیہ کار قدرت اللہ چودھری نے کہا ہے کہ قصور جیسے واقعات کس طرح روکے جا سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب حکمرانوں، سیاستدانوں، دانشوروں، عدالتوں، پولیس سیکیورٹی فورسز اور ہر اس ادارے کو تلاش کرنا ہو گا جو معاشرے سے ایسے سنگین جرائم ختم کرنے کا متمنی ہے لیکن یہ کام خالی خولی پرتشدد احتجاج ، احتجاجی سیاست اور خالی خولی نیک خواہشات سے ہونے والا نہیں اس کے لئے ٹھوس عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ وہ ایشو آف دا ڈے میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ نئی قانون سازی کرنا ہو گی جس میں ایسے جرائم پر انتہائی سخت سزائیں دی جا سکیں اور اس انداز میں دی جائیں جس سے دوسرے عبرت پکڑیں جہاں لوگ انتہائی بے خوفی سے قتل کے جرم کا ارتکاب کر ڈالتے ہیں اور معمولی معمولی باتوں پر قتل ہو جاتے ہیں وہاں بچوں کے ساتھ بد اخلاقی کے بعد انہیں قتل کرنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ کہا جاتا ہے قصور ہی میں ایک سال کے اندر گیارہ ایسے واقعات ہو گئے کسی ایک واقعے کے ملزم نہیں پکڑے گئے۔ معاشرے میں جرائم کی شرح میں اضافے کے ساتھ ساتھ بدقسمتی یہ ہو گئی ہے کہ جرائم پیشہ لوگوں کا سراغ نہیں ملتا، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں بچوں کے ساتھ وہ لوگ ملوث ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی صورت میں بچوں کے شناسا ہوتے ہیں یا ان کا گھروں میں آنا جانا ہوتا ہے یا بچوں سے کسی نہ کسی وجہ سے جان پہچان ہوتی ہے، ایسے واقعات بھی ہو چکے ہیں کہ کسی گھر میں ان کے قریبی عزیز مہمان ٹھہرا اور پتہ چلا کہ وہ گھناؤنی واردات کے بعد رخصت ہو گیا ہے، معاشرے میں ایسے واقعات کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ روایتی تعلقات پر بھی نظرثانی کر لی جائے اور والدین بچوں کی براہ راست نگرانی کریں کسی قریبی عزیز کے ساتھ بھی بچوں کو تنہائی میں زیادہ وقت نہ گذارنے دیا جائے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...